Friday , August 18 2017
Home / Top Stories / تین طلاق مقدمہ میں سلمان خورشید، سپریم کورٹ کی مدد کرینگے

تین طلاق مقدمہ میں سلمان خورشید، سپریم کورٹ کی مدد کرینگے

غیرجانبدارانہ رائے پیش کرنے چیف جسٹس کی زیرقیادت بنچ کی سینئر قانون داں کو اجازت

نئی دہلی ۔ 3 مئی (سیاست ڈاٹ کام) سپریم کورٹ نے ممتازقانون داں اور سابق مرکزی وزیر سلمان خورشید کو مسلمانوں میں ’’طلاق ثلاثہ‘‘، ’’نکاح حلالہ‘‘ اور کثرت ازدواج کے عمل کے دستوری جواز کو چیلنج کرتے ہوئے پیش کردہ مختلف درخواستوں کی سماعت میں اس (عدالت عظمیٰ) کی مدد کرنے کی اجازت دی ہے۔ چیف جسٹس جے ایس کیہر کے علاوہ جسٹس ڈی وائی چندراچوڑ اور جسٹس ایس کے کول پر مشتمل ایک بنچ نے سینئر ایڈوکیٹ سلمان خورشید کو ثالثی و معاون کے طور پر کام کرنے اور اس مقدمہ میں اپنی غیرجانبدارانہ تحریری رائے داخل کرنے کی اجازت دی ہے۔ کانگریس کے سینئر لیڈر سلمان خورشید نے کہا کہ اس ضمن میں تحریری دلائیل داخل کرنے کا وقت ختم ہوچکا ہے اور وہ اس مقدمہ میں چند دلائیل داخل کرنا چاہتے ہیں جس پر بنچ نے کہا کہ ’’ہم (ان دلائل کو) ریکارڈ میں شامل کریں گے۔ یہ کوئی مسئلہ نہیں ہے‘‘۔ پانچ ججوں پر مشتمل دستوری بنچ، مسلمانوں میں تین طلاق، نکاح حلالہ اور کثرت ازدواج کے عمل کو چیلنج کرتے ہوئے دائر کردہ مختلف درخواستوں پر فیصلہ کرنے کیلئے 11 مئی سے سماعت شروع کرے گی۔ مرکز نے 11 اپریل کو سپریم کورٹ میں نئے دلائل پیش کرنے کہا گیا تھا کہ مسلمانوں میں جاری اس طریقہ کار سے مسلم خواتین کے سماجی موقف اور وقار اثرانداز ہوا ہے اور وہ (مسلم خواتین) دستور کی طرف سے دیئے گئے بنیادی حقوق سے محروم ہورہی ہیں۔ حکومت نے اس مسئلہ پر اپنے سابق موقف کا اعادہ کیا اور کہا ہیکہ اس عمل سے نہ صرف مردوں بلکہ دیگر طبقات کی خواتین کے مقابلے مسلم خواتین عدم مساوات اور عدم تحفظ کی شکار ہوگئی ہیں۔ عدالت عظمیٰ نے 30 مارچ کو اس تاثر کا اظہار کیا تھا کہ تین طلاق، نکاح حلالہ اور کثرت ازدواج اہم مسائل ہیں، جن سے جذبات وابستہ ہیں۔ مرکز نے کہا تھاکہ یہ طریقہ کار دراصل معاشرہ پر مردوں کے تسلط اور پدرانہ اقدار کے علاوہ سماج میں خواتین کے رول پر پیدا کردہ مفروضہ سے ابھرے ہیں۔ حکومت نے ادعا کیا کہ دستور کی دفعہ 21 کے تحت انسانی وقار، سماجی احترام اور خودداری اس (خاتون) کے حق زندگی کے اہم عنصر ہیں۔ حکومت نے حلالہ کی تشریح اور طریقہ کار بیان کرتے ہوئے عدالت سے ان طریقوں کو غیردستوری قرار دینے کی درخواست کی اور کہا کہ مسلم پرسنل لاء میں گذشتہ چھ دہائیوں سے اصلاحات نہیں کئے گئے ہیں۔ چنانچہ مسلم خواتین جو آبادی کا آٹھ فیصد ہیں، اچانک اور فوری طلاق کے ڈرخوف کے سبب غیرمحفوظ اور مخدوش ہوگئی ہیں۔ مسلم پرسنل لاء بورڈ اور دیگر بااثر مسلم اداروں نے عدالتوں میں ان مسائل کے تصفیہ کی مخالفت کی ہے اور یہ طریقہ کار قرآنی احکام کا حصہ ہیں اور ان پر قانون و انصاف کے دائرہ میں غور نہیں کیا جاسکتا لیکن متعدد مسلم خواتین نے طلاق ثلاثہ کے طریقہ کار کو چیلنج کیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT