Wednesday , June 28 2017
Home / Top Stories / تین طلاق پر مسلم خواتین سے رائے لینے حکومت اترپردیش کا فیصلہ

تین طلاق پر مسلم خواتین سے رائے لینے حکومت اترپردیش کا فیصلہ

مدرسہ تعلیم کو عصری بنانے انگریزی کی شمولیت، ہر ضلع میں مسلم کمیونٹی سنٹر کی تعمیر کیلئے اراضی کی نشاندہی اور عازمین حج کیلئے انتظامات کرنے چیف منسٹر آدتیہ ناتھ کی ہدایت
لکھنؤ ۔ 12 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) حکومت اترپردیش نے تین طلاق کے مسئلہ پر مسلم خواتین کے نظریات اور رائے لینے کا فیصلہ کیا ہے جس کی بنیاد پر وہ سپریم کورٹ میں اس مسئلہ پر سماعت کے دوران اپنا موقف پیش کرے گی۔ چیف منسٹر یوگی آدتیہ ناتھ نے کل رات منعقدہ محکمہ بہبودی و خواتین و اطفال کے اجلاس کے دوران کہا کہ ’’مسلم خواتین سے رائے لینے کے بعد ہی ریاستی حکومت تین طلاق کے مسئلہ پر سپریم کورٹ میں اپنا موقف بیانکرے گی‘‘۔ چیف منسٹر نے اس مسئلہ پر مسلم خواتین سے رائے لینے کیلئے ایک منصوبہ تیار کرنے کی عہدیداروں کو ہدایت کی اور اپنی کابینہ میں شامل تمام خاتون وزراء سے کہا کہ وہ بھی تین طلاق کے مسئلہ پر مسلم خواتین کی تنظیموں سے گفت و شنید کریں۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کا 15 اپریل سے شروع ہونے والا دو روزہ اجلاس بھی تین طلاق کے مسئلہ پر تبادلہ خیال کرے گا۔ متعدد مسلم خواتین نے تین طلاق اور ’’نکاح حلالہ‘‘ کو جبر و استبداد پر مبنی فرسودہ قرار دیتے ہوئے سپریم کورٹ میں مفاد عامہ کی درخواستیں دائر کرتے ہوئے ان کے جواز کو چیلنج کیا ہے۔ تاہم پرسنل لاء بورڈ نے مفادعامہ کی ان درخواستوں کی مخالفت کی ہے اور عدالت عظمیٰ میں جوابی حلفنامے دائر کرتے ہوئے مسلم پرسنل لاء اور بالخصوص تین طلاق کی مدافعت کی ہے۔ مرکز نے 7 اکٹوبر کو سپریم کورٹ میں حلفنامہ دائر کرتے ہوئے مسلمانوں میں کثرت ازدواج، نکاح حلالہ اور تین طلاق کے عمل و روایات کی مخالفت کی تھی اور ان مسائل پر منفی مساوات اور سیکولرزم جیسی بنیادوں پر دوبارہ غور کی درخواست کی تھی۔ وزارت انصاف و قانون نے اپنے حلفنامہ میں صنفی مساوات، سیکولرزم، بین الاقوامی ضابطوں، مذہبی طور طریقوں کے علاوہ مختلف مسلم ممالک میں شادی بیاہ اور قانون ازدواج کا حوالہ دیتے ہوئے اس نقطہ نظر پر اپنی دلیل پیش کرنے کی کوشش کی تھی کہ بالخصوص تین طلاق اور کثرت ازدواج سے متعلق قوانین پر سپریم کورٹ کی طرف سے دوبارہ غور اور تازہ احکام جاری کرنے کی ضرورت ہے۔ عدالت عظمیٰ نے اس سوال پر ازخود نوٹ لیا تھا کہ مسلم خواتین کو آیا طلاق یا ان کے شوہروں کی دوسری شادیوں کی صورت میں صنفی امتیاز کا سامنا تو نہیں ہے۔ اترپردیش کے چیف منسٹر یوگی آدتیہ ناتھ نے عہدیداروں کو ہدایت کی ہیکہ ریاست میں تمام شادیوں کے لازمی رجسٹریشن کے لئے قواعد تیار کئے جائیں۔ محکمہ اقلیتی امور کی کارکردگی پر تبادلہ خیال کے دوران چیف منسٹر آدتیہ ناتھ نے عہدیداروں کو ہدایت کی کہ مدرسوں کی تعلیم کو عصری بنایا جائے۔ ان کے نصاب میں انگریزی کے علاوہ پیشہ ورانہ مہارت اور ہنر کے درس بھی شامل کئے جائیں گے۔ یوگی آدتیہ ناتھ نے عہدیداروں کو ہدایت کی کہ ہر ضلع میں اقلیتوں کیلئے کمیونٹی سنٹرس کی تعمیر کیلئے اراضیات کی نشاندہی کی جائے اور عازمین حج کیلئے تمام ضروری انتظامات کئے جائیں۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT