Monday , August 21 2017
Home / مذہبی صفحہ / تین طلاق کی بحث…

تین طلاق کی بحث…

تین طلاق کا مسئلہ اس وقت سارے ملک میں زیربحث ہے ،اس سے متعلق بعض افراد اور خود حکومت وقت نے اسلام کے ایک خالص علمی وقانونی مسئلہ کو ملکی عدالتوں میں پہونچادیا ہے۔ملک کی اعلی عدالت سپریم کورٹ نے بھی اس میںدلچسپی دکھائی ہے ۔اس مسئلہ میں دلچسپی دکھانے والوں کا ادعاء یہ ہے کہ اس قانون کی وجہ مسلم خواتین ظلم کا شکارہیں ، اس طرح مسلم خواتین سے ہمدردی کی آڑمیں اسلام کے قانون کونشانہ بنا یا جارہاہے،مسلم خواتین سے واقعی ہمدردی ہوتوآئے دن سیکولر ملک میں ہونے والے عصمت دری کے واقعات کی روک تھام کی طر ف ان کی توجہ ہونی چاہیے ،انسان نما بھیڑیے اس وقت سارے ملک میں فسادمچائے ہوئے ہیں،حال ہی میں ۲۴/ اگست کی رات میوات میں گاؤرکھشکوں کی مجرمانہ کا روائی کے نتیجہ میں ایک غریب اورکھیت کی رکھوالی کرنے والامسلم خاندان مسلم دشمن ظالم سماجی عناصرکے ظلم کا شکارہوا، انسان نما ان درندوں نے اس خاندان کی لڑکیوں کی عفت وعصمت کو پامال کیا ،رات بھرافرادخاندان کوگالی گلوچ کرتے ہوئے مارپیٹ کی گئی مزید ستم یہ کہ انکے والدین کو جنہیں پہلے ہی سے رسیوں سے باندھ دیا گیا تھا جاتے ہوئے قتل کردیا گیا۔ عصمت دری اوردہرے قتل کی یہ واردات ہندوستان کے ہر سنجیدہ اورجمہوریت پر ایقا ن رکھنے والے شہری کوخون کے آنسورلا رہی ہے ،یہی ایک واقعہ نہیں ہزاروں واقعات ہیں جواس بات کا منہ بولتا ثبوت ہیں کہ اب اس ملک میں جنگل کا قانون رائج ہے۔جان ومال ،عزت وآبروداؤ پر لگی ہوئی ہے، اسلامی عائلی قوانین پر مذہب اسلام کی روسے عمل پیراخواتین کی مظلومیت پر مگرمچھ کے آنسوبہانے والے پتہ نہیں اُس وقت کہاں غائب ہوجاتے ہیں جب ملک میںغیرسماجی عناصرکی بہیمانہ کا روائیوں سے خواتین متاثر ہوتی ہیںاُس وقت اُن سے ہمدردی کرنے والا کوئی آگے نہیں آتا ،مرادآباد،میرٹھ،مظفرنگر،بھاگل پور،ممبئی ،گجرات وغیرہ جیسے شہروں میں ہونے والے فسادات نے کتنے ہی معصوم و    بے قصورشہریوں کوموت کی نیندسلادیا ،اس سے کتنی ہی خواتین بیوہ ہوگئیں اورکتنے ہی معصوم بچے اپنے باپ کی سرپرستی وشفقت سے محروم ہوگئے ،اورکئی ایک خواتین کی عفت وعصمت کی چادرتارتارکردی گئی ۔ ایسے میں اسلام کے خالص علمی ،تحقیقی وقانونی مسئلہ میں اپنی دلچسپی دکھا نا کہاں کی ہمدردی ہے؟ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سیکولردشمن طاقتوں اورفسطائی جماعتوں کودرپردہ حکومت کی سرپرستی حاصل ہے ، تبھی تووہ پوری دلیری کے ساتھ فساد مچارہے ہیں،امن وقانون کے رکھوالے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔افسوس !ہندوستان کا میڈیا بھی جمہوری اقدارکوخیربادکہکرتعصب ودشمنی پر اترآیا ہے ،مسلم مسائل کوخوب اچھالا جاتا ہے،

مسلمانوں اورخاص طورپر مسلم خواتین پر ہونے والے مظالم پر اس کوسانپ سونگھ جاتا ہے،سارے میڈیا والے گویا اندھے ،بہرے اورگونگے بن جاتے ہیں ،مذہب اسلام کا کوئی مسئلہ زیربحث آجائے توپھرانکے دل میں ہمدردی کا دردآتش فشاں بن کراسکا لاوہ کچھ ایسے پھوٹ پڑتا ہے کہ سارے ملک کی میڈیا سے اس کی صدائے بازگشت سنائے دینے لگتی ہے، کچھ مسلم نما مردوخواتین بھی اس کا شکارہوجاتے ہیں اوراسلام دشمن طاقتوں کی آواز میں اپنی آوازملانا شروع کردیتے ہیں ۔یہ ایک حقیقت ہے کہ کتاب وسنت سے مستفاد بعض مسائل میں علمی اختلاف رہا ہے ، انہیں مسائل میں سے ایک مسئلہ ’’ایک مجلس میں دی جانے والی تین طلاق کا ہے ‘‘ائمہ اربعہ اورجمہورعلماء کتاب وسنت اورآثارصحابہ کی روشنی میں ایک مجلس میں دی جانے والی تین طلاق کوتین طلاق مانتے ہیں ۔یعنی تین طلاق کے وقوع کا فیصلہ دیتے ہیں ،گوکہ انکے ہاں اس طرح طلاق دینا بدعت ہونے کی وجہ سخت نا پسندیدہ ہے۔ اسلام کا ایک طبقہ جو ’’اہل حدیث ‘‘کہلاتاہے اس مسئلہ میں اسکی رائے منفردہے ،ایک مجلس میں دیجانے والی تین طلاقیں بیک لفظ ہوں کہ متفرق وہ اسکوایک ہی مانتا ہے ،اس طبقہ کا استدلال بھی کتاب وسنت ہی سے ہے ۔علامہ ابن تیمیہ وانکے شاگردرشیدعلامہ ابن قیم وغیرہ اسکے قائل ہیں۔اس مسلک کی نمائندہ جماعت حضرت رکانہ والی حدیث پیش کرتی ہے جبکہ جمہورعلماء بھی اس حدیث کوزیربحث لاتے ہیں لیکن ہردوکی تفہیم جداجداہوتی ہے ،اس حدیث سے مستفادعلمی نازک بحث عوام کے پلے نہیں پڑسکتی ،اسلئے عوام کے حق میں بہترصورت یہی ہوسکتی ہے کہ وہ اپنی پسندکے مسلک کے مطابق عمل کریں ،ہردومکتب فکرکے علماء کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی رائے کودوسروں پر ٹھونسنے کی نا رواکوشش نہ کریں ۔

ہر ایک اپنے مسلک کے مطابق عمل کا مختارہے اسلئے ان جیسے مسائل پر بحث وگفتگواورشدومدکے ساتھ اپنے مسلک کے حق ہونے کے دلائل اوراس پر ردوقدح اس دورکے نازک حالات کے پس منظرمیں حکمت ودانش کے منافی ہے ،اسکی وجہ غیروں کواورخاص طورپر اسلام دشمن طاقتوں کو دشنام طرازی کا موقع ہاتھ آرہا ہے ۔اسلامی ہدایات کی روشنی میں طلاق کے قانون کا ناگزیرضرورت پر ہی سہارا لیا جاسکتا ہے اس سے مقصودعاقدین کے درمیان سمجھوتہ ممکن نہ ہوسکے تو نزاع کو ختم کرکے جدائی اختیار کرنے کی راہ کو آسان بنا نا ہے۔حتی المقدوررشتہ کو برقراررکھنے کی اسلام حمایت کرتا ہے ،اسلام نے درجہ بدرجہ اصلاح کی کوششوں کا راستہ دکھا یا ہے،اختلاف کی صورت میں دونوں آپسی مصالحت ومعاملہ فہمی سے اپنا مسئلہ خودحل کرسکتے ہیں، اس میں کامیابی نہ ہوتو بااعتمادہمدردافرادکوخواہ وہ خاندان کے ہوں کہ غیر خاندان کے بشرطیکہ وہ حکم بننے کی صلاحیت رکھتے ہوں، حکم بنا کرآپسی نزاع وکشیدگی کودور کیا جاسکتا ہے ، اصلاح کی یہ صورت بھی ناکام ثابت ہوتوظاہر ہے جدائی ہی ایک ایسا راستہ ہے جودونوں کے حق میں عافیت کا باعث بن سکتاہے ۔عاقدین میں سے کوئی ایک اپنے جائزساتھی سے بے توجہی برت رہا ہو یا ظلم ڈھا رہا ہو،ایذا وتکلیف پہنچا نا ہی اسکی عادت ثانیہ بن گئی ہوتو ظاہر ہے ازدواجی زندگی بجائے راحت وسکینت کے عذاب بن جاتی ہے ،بعض باطل مذاہب نے رشتہ ازدواج کوختم کرنے کا کوئی راستہ ہی نہیں رکھا،جبکہ اسلام ایک پاکیزہ، فطری مذہب ہے اسلئے اس نے اسکا حل ’’طلاق وخلع‘‘اوربعض حالات میں حاکم اسلام کونکاح فسخ کرنے کے دئیے گئے حق واختیار کے ذریعہ پیش کیا ہے ۔ طلاق کب دی جائے اورطلاق دینا نا گزیرہوتواسکا مناسب طریقہ کارکیا ہویہ ساری ہدایات اسلام نے دی ہیں ،طلاق دینے کا حق اگرمروں کودیا گیا ہے تو ہرگزاسکے یہ معنی نہیں کہ وہ اپنی مرضی کے مطابق جب چاہیں اورجس طرح چاہیں اسکا استعمال کرتے ہوئے ظلماً طلاق دیں،اسلام اس بات کوبھی پسند نہیں کرتا کہ زوجین اپنے درمیان شدیداختلاف اورسخت ناراضگی و ناپسندیدگی کے باوجودرشتہ زوجیت نبھا تے رہیں ، ان جیسے خاص حالات میں رشتہ نکا ح کوختم کرلینے میں ہی دونوں کیلئے عافیت ہوتی ہے،اسلام کا قانون کوئی انسانو ںکا بنا یا ہوانہیں بلکہ ساری کائنات اورانسانو ںکے خالق کا بنا یا ہواہے۔اس خدائی قانون پر عمل بشرطیکہ اسکا ناروا اورغلط استعمال نہ کیا جائے انسانو ںکے حق میں بہتر اورباعث رحمت ثابت ہوسکتا ہے اوراسی میں انسانی سماج کی صلاح وفلاح ہے۔دنیا کا کوئی قانون جوانسانوں کا بنا یا ہواہے وہ حقیقی معنی میں نہ توانسانو ںکیلئے کوئی بہتر قانون ثابت ہوسکتا ہے اورنہ ہی معاشرہ میں کوئی سدھارلاسکتاہے ۔

اسلام نے دفع مضرت کیلئے طلاق کاقانون ضروربنا یا ہے لیکن اسکوایک بالکلیہ آخری چارہ کارکے طورپراختیارکرنے کی تلقین کی ہے اسی لئے اسکومباح چیزوں میں سب سے زیادہ ناپسندیدہ اورمبغوض قراردیا گیاہے۔ہندوستان میں عائلی مسائل کی بہترصورت گری اوراس راہ میں درپیش موانعات کے حل کیلئے مسلمانو ںکا ایک متحدپلیٹ فارم بنام’’مسلم پرسنل لا بورڈ ‘‘قائم ہے جو مسلمانوں کے سارے طبقات اورمختلف مکا تب فکرکی نمائندہ جماعت ہے ،ایسے مسائل جومختلف فیہ ہیں اسمیں ہر مکتب فکرکے افرادکواپنے مکتب فکرکی تحقیق کے مطابق عمل کی آزادی حاصل ہے ،اوراس بارے میں مسلمانو ںکے درمیان آپسی کوئی نزاع نہیں ہے ۔ایک مجلس میں دیجانے والی تین طلاق کو ایک طلاق ماننے والے افرادایک مان کر عمل کرسکتے ہیں ،ایک مجلس میں دیجانے والے تین طلاق کو تین طلاق ماننے والے کبھی انکے معاملہ نہ کوئی مداخلت کرتے ہیں نہ انکواپنی رائے کے مطابق عمل پر مجبورکرتے ہیں ،اوریہی طرزعمل انکا بھی ہے جوایک مجلس کی تین طلاق کوایک طلاق تصورکرتے ہیں ۔ قانون سازداروں کا فرض ہے کہ انکے پاس طلاق کے مسئلہ میں رجوع ہونے والو ں کے مسئلہ کو انکے مسلک کے علماء کے رائے طلب کرکے فیصلہ صادرکریں ۔اس کوبلاوجہ نزاع کا مسئلہ بنانا اوراسلام کے قانون پر حرف رکھنا جمہوری اقدارکے منا فی ہے ۔ہندوستان ایک سیکولرملک ہے جہاں کئی ایک مذاہب پر عمل کرنے والے انسانی بھائی چارہ کے ساتھ ایک ساتھ رہتے بستے ہیں ۔ دستورنے سارے مذاہب کے احترام کو تسلیم کیا ہے ،ہرشہری اپنے مذہب پر عمل کیلئے آزادہے اوروہ مذہبی معاملات میں اپنے مذہبی پیشواؤں سے رہنمائی حاصل کرتا ہے۔اسلامی قانون کے ماہرعلماء ودانشورہوں یا دیگرمذاہب کے مذہبی دھرم گروہوں عیسائیوں کے پاسٹرس یا پوپ ہوں یا یہودیوں کے مذہبی رہنما ربی ہوں یہ سب کے سب اپنے مذہبی قانون سے واقف ہوتے ہیں ،اورانکے ماننے والے ظاہرہے اپنے مسائل میں انہیں سے رجوع کرتے ہیں اورانکے بتا ئے ہوئے مشوروں پر عمل کرتے ہیں ۔ایسے میں اسلام کے قانون پر عمل کرنے والوں کو مطعون کیا جائے اوراس قانون اسلامی کے بارے میں نفرت کی مہم چلائی جائے یہ کہاں کا انصاف ہے؟ اوریہ کس حدتک جمہوری اقدارکے مطابق ہوگا ؟۔اس پر سنجیدگی کے ساتھ حکومت ،سپریم کورٹ ، لاکمیشن اور سیکولر ملک کے سنجیدہ تمام شہریوں کو غور کرنا چاہئے،کثیر مذہبی اور کثیر تہدیبی اس سیکولر ملک میں سب کو ایک قانون کا پابند کیا جانا ممکن نہیں ، اس لئے مسلم لا ء میں تبدیلی کی اس مہم سے دستبردار ہونے کی سخت ضرورت ہے ،چونکہ اسلام کا قانون ساری کائنات اور انسانوں کے پیدا کرنے والے کا بنایا ہوا ہے کسی مخلوق کا نہیں اس لئے مخلوق یعنی انسانوں کو اس قانون میں تغیر وتبدل کا ہر گز ہرگز کوئی حق نہیں ، اس پر نہ تو کلام کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی اس کو بحث کا موضوع بنایا جاسکتاہے۔

TOPPOPULARRECENT