Monday , May 22 2017
Home / Top Stories / تین طلاق کے صرف قانونی پہلوؤں پر ہی سپریم کورٹ کا فیصلہ ممکن

تین طلاق کے صرف قانونی پہلوؤں پر ہی سپریم کورٹ کا فیصلہ ممکن

مسلم پرسنل لا کے تحت طلاق کی عدالتی نگرانی کا فیصلہ، مقننہ کے دائرہ کار میں شامل

نئی دہلی 14 فروری (سیاست ڈاٹ کام) سپریم کورٹ نے آج کہاکہ وہ مسلمانوں میں تین طلاق، نکاح حلالہ اور کثرت ازدواج جیسے رسم و روایات کے صرف قانونی پہلوؤں سے متعلق مسائل کے بارے میں ہی فیصلہ کرے گا اور اس سوال سے نہیں نمٹا جائے گا کہ آیا مسلم پرسنل لاء کے تحت طلاق کی عدالتوں کی طرف سے نگرانی کی جائے یا نہیں کیوں کہ یہ سوال عدلیہ کے نہیں بلکہ مقننہ کے دائرہ کار میں آتا ہے۔ چیف جسٹس جے ایس کھیھر کے علاوہ جسٹس این وی رمنا اور جسٹس ڈی وائی چندرا چوڑ پر مشتمل ایک بنچ نے کہاکہ ’’آپ (فریقوں کے وکلاء) مل بیٹھیں اور ہمارے زیربحث آنے والے موضوعات اور مسائل کو قطعیت دیں۔ مسائل کے بارے میں فیصلہ کے لئے ہم پرسوں (جمعرات) کو آئندہ سماعت مقرر کررہے ہیں‘‘۔ اس بنچ نے متعلقہ فریقوں پر یہ واضح کردیا کہ وہ اس مخصوص مقدمہ کے بنیادی پہلوؤں سے نہیں نمٹے گی بلکہ بجائے اس کے صرف قانونی پہلوؤں پر فیصلہ کیا جائے گا۔ عدالت عظمیٰ نے کہاکہ یہ سوال مقننہ کے دائرہ کار میں آتا ہے کہ آیا مسلم پرسنل لاء کے تحت طلاق کو عدالتوں کی نگرانی میں یا پھر عدالتوں کے زیرنگرانی اداروں کے تحت رکھنے کی ضرورت ہے۔ اس دوران عدالت نے وکلاء کو یہ اجازت دی کہ تین طلاق کے مبینہ متاثرین سے متعلق کیسیس کے بارے میں مختصر خاکے داخل کریں۔ قبل ازیں مرکز نے مسلمانوں میں کثرت ازدواج، نکاح حلالہ اور تین طلاق کے عمل کی مخالفت کرتے ہوئے صنفی مساوات اور سیکولرازم کی بنیاد پر نظرثانی کی حمایت کی تھی۔ تاہم آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے نریندر مودی حکومت کے موقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس سے دستور میں محصلہ بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہوگی۔ جمعیۃ العلمائے ہند نے کہا تھا کہ ان مسائل پر مسلم پرسنل لاء میں مداخلت کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT