Tuesday , June 27 2017
Home / ہندوستان / تین طلاق کے طریقہ کارکا دروپدی کے کپڑے اُتارنے کے واقعہ سے تقابل

تین طلاق کے طریقہ کارکا دروپدی کے کپڑے اُتارنے کے واقعہ سے تقابل

اہم مسئلہ پر خاموشی اختیار کرنے والے بھی طلاق دینے والوں کے برابر ذمہ دار ، یوگی آدتیہ ناتھ کی نئی منطق ، یکساں سیول کوڈ کے نفاذ کی وکالت
لکھنو ۔ 17 اپریل ۔ ( سیاست ڈاٹ کام ) اُترپردیش کے چیف منسٹر یوگی آدتیہ ناتھ نے آج کہا کہ تین طلاق پر خاموشی اختیار کرنے والے سیاستداں بھی اس ( طریقہ کار ) پر عمل کرنے والوں کے برابر ذمہ دار ہیں ۔ آدتیہ ناتھ نے مسلمانوں میں طلاق کے اس طریقہ کار کو مہابھارت میں دروپدی کے کپڑے اُتارنے کے واقعہ سے مربوط و مماثل قرار دیا ہے۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے یوگی کے ریمارکس کو جاہلانہ قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا۔ یوگی آدتیہ ناتھ نے ’طلاق ثلاثہ ‘ کے طریقہ کار کا حوالہ دیتے ہوئے مزید کہاکہ ’’آئے دن ملک میں ایک نئی بحث جاری ہے ۔ چند لوگ اس مسئلہ پر خاموشی اختیار کررہے ہیں۔ یہ (خاموشی ) مجھے مہابھارت کا وہ واقعہ یاد دلاتی ہے جس میں دروپدی کے کپڑے بھری محفل میں اُتار دیئے گئے تھے اور اُس ( دروپدی) نے حاضرین سے سوال کیا تھا کہ اس کے لئے کون ذمہ دار ہیں؟لیکن کسی نے ایک لفظ کہنے کی جرأت بھی نہیں کی ۔ اس موقع پر ویدور نے کہا تھا کہ وہ لوگ جنھوں نے اس جرم کا ارتکاب کیا ۔ اس مسئلہ پر جنھوں نے ان کا ساتھ دیا اور جنھوں نے خاموشی اختیار کی وہ بھی برابر کے ذمہ دار ہیں ‘‘ ۔ یوگی آدتیہ ناتھ نے سابق وزیراعظم چندرشیکھر کے 91 ویں یوم پیدائش کے موقع پر منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کے دوران یہ ریمارکس کیا۔ یوگی نے مسلمانوں میں تین طلاق کے طریقہ کار کے خاتمہ اور ملک میں یکساں سیول کوڈ پر عمل آوری کی پرزور وکالت کی۔ آدتیہ ناتھ کے ان ریمارکس سے ایک دن قبل وزیراعظم نریندر مودی نے ’’تین طلاق‘‘ کے متنازعہ و منقسم مسئلہ کے خلاف پرزور لب و لہجہ اختیار کرتے ہوئے اصرار کیا تھا کہ مسلم خواتین کا استحصال ختم کیا جائے اور ان ( مسلم خواتین ) کے ساتھ انصاف کیا جائے ۔ تاہم وزیراعظم مودی نے اس مسئلہ پر مسلم برادری میں اختلاف و تصادم پیدا کرنے کی کسی بھی کوشش سے گریز کرتے ہوئے تجویز پیش کی کہ سماجی شعور بیداری کے ذریعہ اس مسئلہ کو حل کرلیا جانا چاہئے ۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے دعویٰ کیا ہے کہ مسلمانوں کو اپنے عائیلی قانون پر عمل کرنے کا دستوری حق حاصل ہے اور تین طلاق بھی مسلم عائیلی قانون کا حصہ ہے۔ آدتیہ ناتھ نے یکساں سیول کوڈ کے مسئلہ کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’سابق وزیراعظم چندرشیکھر نے ملک میں یکساں سیول کوڈ کی وکالت کی تھی ۔ جب ہمارے مسائل یکساں ہیں تو پھر شادیوں پر قوانین بھی یکساں کیوں نہیں ہوسکتے ‘‘ ۔ آدتیہ ناتھ نے کہاکہ ’’جس دن ہم دستور کے چوکٹھے میں رہتے ہوئے کام کرنا شروع کردیں گے ۔ تصادم اور ٹکراؤ کی صورتحال پیدا نہیں ہوگی اور کوئی بھی قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے کی جسارت نہیں کرسکے گا‘‘ ۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT