Tuesday , October 17 2017
Home / ہندوستان / تین طلاق کے معاملہ پر مسلم پرسنل لاء بورڈ کا موقف

تین طلاق کے معاملہ پر مسلم پرسنل لاء بورڈ کا موقف

نئی دہلی، 4 جون (سیاست ڈاٹ کام) آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے میڈیا پر تین طلاق کے معاملہ کو خوامخواہ طول دینے کا الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ مسلم خواتین مسلم پرسنل لا میں کسی بھی تبدیلی کو قبول نہیں کریں گی۔بورڈ نے کہا اسلام میں طلاق بہت ناخوشگوار عمل ہے اور اس کی حوصلہ شکنی کی گئی ہے ۔ لیکن اگر دونوں فریق شوہر اور بیوی کے طور پر ساتھ رہنے کے لئے مصالحت نہیں کرپاتے اس سے بحفاظت باہر نکلنے کا ایک راستہ موجود ہے ۔بورڈ نے کہا کہ قرآن اور حدیث میں طلاق دینے کا طریقہ واضح طور پر اور تفصیل سے بتایا گیا ہے ۔ ایک دفعہ میں تین طلاق دینا بدعت ہے اور اس سے گریز کرنے کو کہا گیا ہے ۔ بورڈ نے کہا کہ میڈیا اس معاملہ پر خوامخواہ ہنگامہ کررہا ہے اور بڑھا چڑھا کر پیش کررہا ہے ۔انہوں نے اس سروے رپورٹ کی مذمت کی جس میں دکھایا گیا ہے کہ 92 فی صد مسلم خواتین تین طلاق پر پابندی کے حق میں ہیں اور مسلم پرسنل لا میں تبدیلی کی خواہاں ہیں ۔بورڈ نے اس عرضی کی بھی مذمت کی ہے جس پر مرد و خواتین نے دستخط کرکے قومی کمیشن برائے خواتین کو پیش کرکے  ”طلاق کے مسلم طریقہ کو منسوخ کرنے کی مانگ کی ہے ”۔تیسری طلاق کی اجازت کے حوالے سے بورڈ نے کہا کہ جو لوگ اس میں تبدیلی چاہتے ہیں اور شرعی اصول پر کار بند نہیں رہنا چاہتے وہ ملک کے سول کوڈ پر چلنے کے لئے آزاد ہیں ۔ وہ خصوصی شادی ایکٹ کے تحت شادی کرسکتے ہیں ۔ بورڈ نے جنسی تعصب کے الزامات کی بھی تردید کی اور کہا کہ یہ الزامات اسلام اور مسلمانوں کی نشانہ بنانے کی غرض سے لگائے جارہے ہیں ۔

TOPPOPULARRECENT