Thursday , August 24 2017
Home / شہر کی خبریں / تین چیف منسٹرس ‘ آندھرا کو خصوصی موقف کے مخالف

تین چیف منسٹرس ‘ آندھرا کو خصوصی موقف کے مخالف

مرکزی وزیر اشوک گجپتی راجو کا ادعا ۔ مسئلہ پر مرکز سے تعلقات منقطع نہ کرنے نائیڈو کا اشارہ
وجئے واڑہ 8 مئی ( پی ٹی آئی ) مرکزی وزیر اشوک گجپتی راجو نے آج کہا کہ جبکہ مرکزی حکومت آندھرا پردیش کو خصوصی زمرہ کی ریاست کاموقف دینے پر غور کر رہی ہے تین چیف منسٹرس اس تجویز کے مخالف ہیں۔ چیف منسٹر آندھرا پردیش این چندرا بابو نائیڈو آندھرا پردیش کو خصوصی زمرہ کی ریاست کا درجہ دلانے کیلئے بے تکان جدوجہد کر رہے ہیں اور سمجھا جاتا ہے کہ انہوںنے اس مسئلہ پر مرکز میںبی جے پی زیر قیادت این ڈی اے حکومت سے تعلقات منقطع کرلینے کا امکان مسترد کردیا ہے ۔ ایسے وقت میں جبکہ آندھرا پردیش کو خصوصی موقف دینے کا مسئلہ گرماتا جا رہا ہے آندھرا انٹلیکچولس فورم کے صدر چلسانی سرینواس نے آج اس مطالبہ کی تائید میں اننت پورم ٹاؤن میں غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال شروع کی ہے ۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ مرکزی حکومت آندھرا پردیش سے تقسیم ریاست کے وقت جو وعدے کئے گئے تھے انہیں پورا کرے ۔ یہ تمام تبدیلیاں ایسے وقت میں رونما ہو رہی ہیں جبکہ چند مرکزی وزرا نے پارلیمنٹ میں یہ بیان دیا تھا کہ آندھرا پردیش کوخصوصی موقف دینا ممکن نہیں ہے ۔ اپنے آبائی ٹاؤن وجیا نگرم میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے مرکزی وزیر شہری ہوابازی اشوک گجپتی راجو نے کہا کہ موجودہ صورتحال پیدا نہیں ہوتی اگر ریاست کیلئے خصوصی زمرہ کے مسئلہ کو تنظیم جدید آندھرا پردیش قانون 2014 میں ہی شامل کرلیا جاتا ۔

انہوں نے کہا کہ وزیر فینانس ارون جیٹلی نے آندھرا کو خصوصی ریاست کے مسئلہ پر پارلیمنٹ میں اظہار خیال کیا ہے اور کہا کہ آندھرا پردیش سے تقسیم ریاست کے بعد انصاف کردیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت ایسا کرنے پر غور بھی کر رہی ہے لیکن تین ریاستوں کے چیف منسٹرس اس تجویز کے مخالف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 14 ویں فینانس کمیشن نے اپنی رپورٹ میں واضح طور پر کہا کہ آئندہ پانچ سال میں آندھرا پردیش میں 23,000 کروڑ روپئے کا مالیاتی خسارہ ہوگا جبکہ اتنے ہی وقت میں تلنگانہ ریاست کے پاس 1.18 لاکھ کروڑ روپئے کا فاضل مالیہ ہوگا ۔ سارے اختیارات تلنگانہ کو منتقل ہوگئے ہیں اور آندھرا پردیش پر قرضہ جات کا بوجھ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایسے میںمرکزی حکومت کو چاہئے کہ وہ آندھرا پردیش کی مدد کرے تاکہ وہ ایک بار پھر ترقی یافتہ ریاست کے طور پر ابھر سکے ۔ گجپتی راجو نے کہا کہ آندھرا پردیش کی مدد اسی وقت ہوسکتی ہے جب مرکز اور ریاستی حکومت ایک دوسرے سے تعاون رکیں لیکن کچھ طاقتیں ہیں جو سیاسی وجوہات کی بنا پر ایسا ہونے کی راہ میں رکاوٹیں پیدا کر رہی ہیں۔

TOPPOPULARRECENT