Monday , September 25 2017
Home / ہندوستان / ثقافتی مسائل و زعفرانی ذہنیت ہندوستان کی ترقی میں اصل رکاوٹ

ثقافتی مسائل و زعفرانی ذہنیت ہندوستان کی ترقی میں اصل رکاوٹ

عظیم اصلاحات کی بجائے سست رفتار پیشرفت ۔نئے ہندوستان کی امیدوں کو پورا نہیں کیا گیا ۔ امریکی تھنک ٹینک
واشنگٹن 23 ستمبر ( سیاست ڈاٹ کام ) امریکہ کے ایک اعلی تھنک ٹینک نے کہا ہے کہ ہندوستان میں ثقافتی مسائل اور زعفرانی رنگ دینے کی کوشش کے نتیجہ میں ملک کے معاشی شعبہ میں بڑے اصلاحات کی جگہ صرف معمولی اور سست رفتار سے تبدیلی آئی ہے ۔ اس تھنک ٹینک کا کہنا ہے کہ این ڈی اے حکومت نے ایک نئے ہندوستان کی سمت پیشرفت کی امیدوں کو ابھی پورا نہیں کیا ہے ۔ یہ واضح کرتے ہوئے کہ ہندوستان افراط زر کو قابو میں کرنے میں کامیاب رہا ہے واشنگٹن سے کام کرنے والے ہڈسن انسٹی ٹیوٹ نے کہا کہ ملک میں دو ہندسی شرح ترقی حاصل کرنے کی صلاحیت موجود ہے اگر وہ انفرا اسٹرکچر کو عصری بنانے پر ‘ بنیادی سہولیات کو بہتر بنانے پر اور منظوریوں میں تاخیر کو ختم کرنے پر توجہ دیتا ہے ۔ اپنی حالیہ رپورٹ میں تھنک ٹینک نے وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت والی حکومت کے دو سال کی کارکردگی کا تجزیہ پیش کیا ہے ۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حکومت نے کچھ اہم اصلاحات نافذ کئے ہیں اور ان میں سب سے اہم جی ایس ٹی بل کی منظوری ہے ۔ کہا گیا ہے کہ یہ بل گذرتے وقتوں کے ساتھ ایک وسیع ہندوستانی مارکٹ تیار کرنے میں کامیاب ہوگا ۔

تھنک ٹینک نے کہا کہ اگر ہندوستان کی حکومت برطانوی دور کے ریل ‘ روڈ اور ائر ٹرانسپورٹ میں بہتری پیدا کرتی ہے ‘ بندرگاہ کے انفرا اسٹرکچر کو بہتر کیا جاتا ہے اور برقی و پانی کی سربراہی کی بنیادی سہولیات کو بہتر بناتی ہے اور بیورو کریٹک رکاوٹوں کو دور کرنے میں کامیاب ہوجاتی ہے تو ہندوستان دو ہندسی شرح ترقی کو یقینی بناسکتا ہے ۔ ساتھ ہی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حکومت نے اپنے دو سال میں ابھی تک ایک نیا ہندوستان کی تعمیر کی سمت تیزی سے پیشرفت کی امیدوں کو پورا نہیں کیا ہے ۔ کہا گیا ہے کہ ہندوستان کو ایک کھلا سماج بنانے کی ضرورت ہے جس میں خاص طور پر معاشی مسائل پر توجہ دی جانی چاہئے لیکن گذشتہ دو سال میں ثقافتی مسائل اور زعفرانی رنگ اختیار کرنے کی کوشش نے بڑے پیمانے پر اصلاحات لانے کی بجائے کافی سست رفتاری سے پیشرفت کی ہے ۔ ڈائرکٹر ہڈسن انسٹی ٹیوٹ انڈیا انیشئیٹیو ڈاکٹر اپرنا پانڈے نے کہا کہ ہندوستان فی الحال دنیا کی تیزی سے ترقی کرتی ہوئی معیشت ہے اور عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں گراوٹ کی وجہ سے سبسڈی کے بوجھ میں کمی آئی ہے ۔

ہندوستان میں اب کاروبار کرنا آسان ہوگیا ہے حالانکہ یہاں کریڈٹ کی سہولت حاصل کرنا مشکل ہوگیا ہے اور ٹیکس کی ادائیگی آسان ہوگئی ہے ۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ موجودہ حکومت ہندوستان ایک معاملہ میں اپنی پیشرو حکومتوں سے مختلف ہے اور وہ معاملہ خارجہ پالیسی کا ہے جس کو مودی حکومت میں نئے جوش و جذبہ کے ساتھ پروان چڑھایا جا رہا ہے ۔ مودی اب تک چھ براعظموں میں 42 ممالک کا دورہ کرچکے ہیں جن میں امریکہ کے چار دورے بھی شامل ہیں۔ مودی نے ان ممالک کا بھی دورہ کیا ہے جہاں ان کے پیشرو حکمرانوں نے کئی دہوں میں بھی دورے نہیں کئے تھے ۔

TOPPOPULARRECENT