Thursday , October 19 2017
Home / شہر کی خبریں / ’جئے شری رام ایک سیاسی نعرہ‘ عوام چوکنا رہیں

’جئے شری رام ایک سیاسی نعرہ‘ عوام چوکنا رہیں

بھگوا کرن کے ذریعہ’بھارت ماتا‘ کا تصور بھی بدل دیا گیا: کنہیا کمار

حیدرآباد 24 مارچ (سیاست نیوز) ’’جئے شری رام‘‘ سیاسی نعرہ ہے اور اِس نعرہ کے ذریعہ آر ایس ایس و بھارتیہ جنتا پارٹی معصوم عوام کو ورغلاتے ہوئے متحد کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ کنہیا کمار نے آج سندریا وگنان کیندرم میں منعقدہ ایک سمینار سے خطاب کے دوران یہ بات کہی اور اُنھوں نے اِس نعرے کے تاریخی حقائق کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ جو لوگ یہ نعرہ لگاتے ہیں وہ درحقیقت ہندو نہیں ہیں بلکہ آر ایس ایس کے نظریات سے متاثر ہیں یا پھر خود کئی ہندو مت کے ماننے والوں کو بھی یہ نہیں پتہ کہ یہ نعرہ ایک سیاسی نعرہ ہے جوکہ سیاسی مقاصد براری کے لئے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ کنہیا کمار نے بتایا کہ ہندوازم میں جو نعرہ لگایا جاتا ہے وہ ’’رام رام‘‘ ہوتا ہے۔ اِسی طرح بھارت ماتا کے بھی تصور کو تبدیل کیا جارہا ہے۔ بھارت ماتا کا جو تصور پہلے پیش کیا جاتا تھا اُس میں ایک خاتون کے مجسمہ کو جو کسی بھی اعتبار سے کوئی دیوی یا بھگوان نہیں تھی بلکہ ایک خوشحال مجسمہ کی شکل دی گئی تھی اور اُس مجسمہ کے ہاتھ میں ترنگا ہوا کرتا تھا لیکن گزشتہ چند برسوں میں بھارت ماتا کے تصور کو جس طرح تبدیل کیا گیا ہے، اُس کے ہاتھ سے سب سے پہلے ترنگا چھین لیا گیا اور بھارت ماتا کا بھگوا کرن کردیا گیا یعنی ترنگا نکال کر اُس مجسمہ کے ہاتھ میں بھگوا پرچم تھمادیا گیا اور جو بھارت ماتا کا تصور سابق میں دیا جاتا تھا وہ ہندوستانی نقشہ پر کھڑی ہوتی تھی لیکن بھگوا کرن کی سیاست کرنے والوں نے بھارت ماتا کے تصور کو تبدیل کرتے ہوئے اب اُسے ایک شیر پر بٹھادیا ہے اور اُس کی ساڑی کو بھی بھگوا رنگ کردیا ہے۔ اُنھوں نے اپنے خطاب کے دوران ترنگے کے تین رنگوں کی اہمیت بیان کرتے ہوئے کہاکہ نیلے رنگ میں موجود چکر کو تبدیل کرنے کی بھی ایک سازش تیار کی جارہی ہے جس سے چوکنا رہنے کی ضرورت ہے۔ نیلا رنگ چونکہ دلت اور پچھڑے طبقات کی علامت ہے اِسی لئے اُسے بھی ترنگے میں برداشت نہیں کیا جارہا ہے لیکن امبیڈکر، لوہیا، بھگت سنگھ اور روہت کی خواہشات کو پورا کرنے کے لئے جدوجہد کے ذریعہ اِس ملک کے بھگوا کرن کو روکنا بھی ہماری ذمہ داری ہے جسے ہم پورا کرنے کی کوشش کریں گے۔

TOPPOPULARRECENT