Saturday , September 23 2017
Home / شہر کی خبریں / جئے للیتا کی جائیدادوں کو عوامی املاک قرار دیا جائے

جئے للیتا کی جائیدادوں کو عوامی املاک قرار دیا جائے

ہائیکورٹ میں اپیل مسترد، درخواست گذار پر جرمانہ
حیدرآباد 20 ڈسمبر (پی ٹی آئی) حیدرآباد ہائی کورٹ نے آج شہر کی ایک تنظیم کی جانب سے دائر کردہ درخواست مسترد کردی جس میں آنجہانی جئے للیتا کے تلنگانہ میں موجود اثاثہ جات کو عوامی املاک قرار دینے اور اِس پر ایک لاکھ روپئے جرمانہ عائد کرنے کی درخواست کی گئی تھی۔ کارگذار چیف جسٹس رمیش رنگا ناتھن کی زیرقیادت ہائیکورٹ کی ڈیویژن بنچ نے مفاد عامہ کی اِس درخواست کو مسترد کردیا۔ عدالت سے یہ استدعا کی گئی تھی کہ حکومت تلنگانہ کو آنجہانی انا ڈی ایم کے سربراہ جئے للیتا کی چھوڑی ہوئی جائیدادوں پر قبضہ حاصل کرلینے اور ایک لاکھ روپئے جرمانہ عائد کرنے کا حکم دیا جائے۔ ڈیویژن بنچ نے یہ احساس ظاہر کیاکہ درخواست گذار نے جو بات پیش کی ہے اُس کی قانون میں کوئی گنجائش نہیں۔ درخواست گذار نے محض سستی شہرت کے حصول کے لئے یہ راستہ اختیار کیا اور عدالت کا وقت ضائع کیا۔ ہائیکورٹ نے کہاکہ درخواست گذار کو اِس غلطی کی قیمت ادا کرنی ہوگی تاکہ یہ دوسروں کے لئے ایک مثال بن جائے۔ رٹ درخواست میں کہا گیا تھا کہ تلنگانہ میں جئے للیتا کا ایک کمرشیل کامپلکس اور ایک فارم ہاؤز ہے اور انھوں نے اپنی جائیداد کسی دوسرے فرد کے نام نہیں کی لہذا درخواست گذار نے یہ تجویز پیش کی کہ حکومت یہ اثاثہ جات اپنی تحویل میں لے۔ ہائیکورٹ نے کہاکہ اِس درخواست کی کوئی وقعت نہیں ہے۔ عدالت نے حکومت تلنگانہ کو درخواست گذار سے جرمانہ وصول کرنے کی ہدایت دی۔ قبل ازیں مفاد عامہ کی ایک درخواست رضاکارانہ تنظیم غریب گائیڈ سوسائٹی نے ہائیکورٹ میں دائر کرتے ہوئے وراثت ایکٹ کے تحت جئے للیتا کے اثاثہ جات کو عوامی جائیداد کے طور پر حاصل کرلینے کی خواہش کی تھی۔

TOPPOPULARRECENT