Sunday , March 26 2017
Home / Top Stories / جئے میم جئے بھیم کا نعرہ یو پی کو سیکولرازم کا شمشان بنادیا

جئے میم جئے بھیم کا نعرہ یو پی کو سیکولرازم کا شمشان بنادیا

کہیں مسلم کہیں دلت کے نام پر سیکولر ووٹ تقسیم ، ہندو ووٹ کو متحد کرنے میں شاہ ۔ مودی کامیاب
حیدرآباد۔11مارچ (سیاست نیوز) ملک کی سیاست میں جملوں کا اثر بہت زیادہ ہونے لگا ہے اور 2012کے بعد سے نفرت بھرے جملوں کے ساتھ ایسے جملے بھی اثر دکھانے لگے ہیں جو معصوم عوام کو نشہ میں مبتلاء کرتے ہیں اور نفرت والے جملہ رائے دہندوں کو مذہبی خطوط پر منقسم کرتے ہیں۔ نفرت والے جملوں میں رام کی جائے پیدائش کے نام پر پھیلائی جانے والی نفرت ہو یا ہم پانچ ہمارے پچیس کے ساتھ مسلمانو ںکی رگوں میں کرشن کے خون کا دعوی کرتے ہوئے پھیلائی جانے والی نفرت ہو دونوں ایک ہی ہیں ۔اسی طرح مدہوش کرنے والے نعرے ’ سب کا ساتھ سب کا وکاس ‘ ہو یا جئے بھیم جئے میم کا نعرہ ہو ان نعروں کو لگانے والے چہروں نے اتر پردیش میں بھارتیہ جنتا پارٹی کو کامیابی سے ہمکنار کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ اترپردیش میں بی جے پی کی کامیابی کے محرکات پر سیاسی ماہرین کے تبصروں کا جائزہ لیا جائے تو ان کا کہنا ہے کہ ریاست اتر پردیش میں بھارتیہ جنتا پارٹی نے مذہب کی بنیاد پر اکثریتی ووٹوں کو متحد کرنے کے لئے کوئی دقیقہ نہیں چھوڑا تھا اور بی جے پی نے اپنے بنیادی ایجنڈہ پر ہی انتخابات میں حصہ لیا جس کا ثبوت ایک بھی مسلمان کو بی جے پی سے ٹکٹ کا نہ دیا جانا تھا اور اس کے ساتھ بی جے پی نے اپنی درپردہ حلیف جماعتوں کو میدان میں اتارتے ہوئے مسلم ووٹ کی تقسیم کا بھی انتظام کر رکھا تھا تاکہ اگر مذہبی شدت پسندی کام کر جائے اور دونوں طبقات اس کی لپیٹ میں آجائیں تو ایسی صورت میں مسلم ووٹوں کی تقسیم کو ممکن بنایا جاسکے۔ اترپردیش کے سیاسی مبصرین ابتداء سے ہی مجلس پر بی جے پی کی درپردہ حلیف ہونے کا الزام عائد کرتے آرہے ہیں اور واضح طور پر یہ کہا جا رہا تھا کہ مجلسی امید وار کامیاب تو نہیں ہوں گے اور نہ ہی کسی کو ہرانے کے اہل ہوں گے لیکن ان کی موجودگی سے مخالف مسلم ووٹ کو متحد کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔ اترپردیش انتخابی نتائج پر تبصرہ کے دوران مقامی جرائد کے صحافیوں نے بتایا کہ اترپردیش میں اوسی صاحب کے دوروں اور ان کی سرگرمیوں نے اکثریتی طبقہ کو متحد کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں مجلس نے خواہ 36امیدوار ہی کیوں نہ میدان میں اتارے تھے لیکن جس طرح سے انتخابی مہم چلائی گئی اسے دیکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ اب ہندستان میں ووٹ کی تقسیم یا ووٹ کے حصول کی سیاست کا دور نہیں رہا بلکہ جس طرح ملک کی سیاست کشمیر جیسے حساس موضوعات سے نکل کر شمشان اور قبرستا ن جیسے موضوعات پر پہنچ چکی ہے اسی طرح اب وکاس یا اتحاد کے نام پرکامیابی نہیں ملنے والی ہے بلکہ کام سے زیادہ جملوں کی اہمیت ہے اور وہ بھی ایسے کرخت جملوں کی کہ وہ حزب مخالف کو خوفزدہ کرسکیں۔اترپردیش کا مسلم اور سیکولر ووٹ متحد ہونے سے پہلے ہی اویسی صاحب کی آمد سے منتشر ہو چکا تھا اسی لئے ان کے امیدواروں کی کامیابی کا کوئی امکان نہیں تھا لیکن اس کے باوجود ان کی کوشش اور محنت نے اترپردیش کے عوام کے شبہات میں مزید اضافہ کردیا جس کے نتیجہ میں ان کے امیدوار کہیں کوئی خاطر خواہ مظاہرہ نہیں کرپائے۔ اتر پردیش ملک کی سب سے بڑی ریاست ہے اور یہ کہا جا رہا تھا کہ بی جے پی اپنی حلیف جماعت کو مہاراشٹرا کی طرح یہاں بھی کچھ کامیابی سے ہمکنار کروائے گی لیکن اترپردیش میں استعمال کرنے والی بی جے پی نے مسلمانوں کو بالواسطہ طور پر یہ پیغام دیدیا ہے کہ ان کے ووٹ کی کوئی اہمیت نہیں ہے خواہ وہ کہیں چلا جائے اور 2014پارلیمانی انتخابات کے بعد پارلیمنٹ کے پہلے اجلاس میں صدر مجلس نے وزیر اعظم کواس بات کی ہی مبارکباد پیش کی تھی کہ انہوں نے مسلمانوں کے اس بھرم کو خاک میں ملا دیا کہ ان کے ووٹ کی طاقت ہے۔اترپردیش کے سیاس قائدین نے مجلس کی موجودگی کو اترپردیش میں بی جے پی کا میابی کیلئے اہم ترین امر قرار دیتے ہوئے کہا کہ اترپردیش کی سیاست میں نفرت نہیں تھی ایسا نہیں ہے لیکن اسد اویسی کی اترپردیش میں انتخابی مہم نے اس نفرت کی آگ میں تیل کا کام کیا ہے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT