Wednesday , September 20 2017
Home / Top Stories / جئے پور میں تشدد، مسلم نوجوان کی موت ، کرفیو نافذ

جئے پور میں تشدد، مسلم نوجوان کی موت ، کرفیو نافذ

جئے پور ، 9 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) شہر کے چار پولیس اسٹیشنوں کے حدود میں کرفیو نافذ کرنا پڑا ہے جبکہ پولیس اور احتجاجیوں کے درمیان جھڑپوں میں ایک شخص کی موت ہوگئی اور سات دیگر زخمی ہوئے۔ عہدیداروں کے مطابق احتجاجیوں نے کافی توڑ پھوڑ مچائی اور زبردست تشدد پر آمادہ نظر آرہے تھے جیسا کہ انھوں نے زائد دو درجن گاڑیوں کو حملوں کا نشانہ بنایا۔ یہ تشدد جمعہ کی رات پھوٹ پڑا جب پولیس کی معمول کی چیکنگ کے دوران پولیس والوں نے ایک موٹر سائیکل سوار کو مار پیٹ کی، جس پر رام گنج پولیس اسٹیشن کے پاس احتجاجی جمع ہوگئے اور سنگباری کردی۔ برہم ہجوم نے دو درجن گاڑیوں اور چار دیگر بشمول ایک امبولنس اور ایک پولیس بس کو نذر آتش کیا، نیز ایک پاور سب اسٹیشن کو بھی آگ لگادی۔ پولیس نے کہنا ہے کہ جب آنسو گیس کے شلوں اور ربڑ کی گولیوں کا ہجوم پر کچھ اثر نہ ہوا تب اسے ہوا میں اور پھر شرپسندوں پر فائر کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔ پولیس نے کہا کہ ان جھڑپوں میں محمد رئیس عرف عادل (24 سال) کی موت ہوئی لیکن موت کا قطعی سبب معلوم نہ کیا جاسکا کیونکہ پوسٹ مارٹم کی ارکان خاندان مزاحمت کررہے ہیں۔ اس تشدد میں چھ پولیس ملازمین کے بشمول سات افراد زخمی ہوئے ۔ تشدد سے متاثرہ علاقوں میں بھاری تعداد میں سکیورٹی دستوں کو متعین کردیا گیا ہے۔
جئے پور پولیس کمشنر سنجے اگروال نے کہا کہ چار پولیس اسٹیشنوں رام گنج، سبھاش چوک، مانک چوک اور گلتا گیٹ کے علاقوں میں رات 1 بجے کرفیو لاگو کیا گیا۔ انٹرنٹ سرویسیس معطل کردیئے گئے اور کرفیو والے علاقوں میں اسکولس بھی بند ہیں۔ دہلی ۔ آگرہ روٹ براہ جئے پور کا رُخ موڑ دیا گیا ہے۔ ڈی سی پی (نارتھ) ستیندر سنگھ نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ اس معاملے میں کیس درج رجسٹر کیا گیا اور انکوائری ایس ڈی ایم کو تفویض کی گئی جو آگے کا لائحہ عمل طے کریں گے۔

TOPPOPULARRECENT