Tuesday , April 25 2017
Home / شہر کی خبریں / جائیدادوں کو غیرمجاز قابضین سے پاک بنانے کی کوشش

جائیدادوں کو غیرمجاز قابضین سے پاک بنانے کی کوشش

الیکٹرانک پراپرٹی پاس بُک کے منصوبہ کو قطعیت دینے کا عمل شروع ، رئیل اسٹیٹ شعبہ میں شدید بحران کی پیش قیاسی
حیدرآباد۔2مارچ(سیاست نیوز) کیا ہوگی الکٹرانک پراپرٹی پاس بک اور اسکے ذریعہ کس طرح بے نامی جائیدادوں کا پتہ چلایا جائے گا؟ پتہ چلائی گئی بے نامی جائیدادوں کا کیا ہوگا کیا مالکین جائیداد ان پر اپنے ادعا پیش کر پائیں گے؟ حکومت نے کرنسی تنسیخ کے بعدجو اعلان کیا تھا کہ بے نامی جائیدادوں کو نشانہ بنانے منصوبہ بندی کی جا رہی ہے اب حکومت اس منصوبہ پر عمل آوری کیلئے تیار ہو چکی ہے اور اتر پردیش انتخابی نتائج کے فوری بعد اس سلسلہ میں اعلان کئے جانے کا امکان ہے۔ 8نومبر کو کرنسی تنسیخ کے بعد پیدا شدہ حالات کے دوران وزیر اعظم نریندر مودی کے 22نومبر کے ایک خطاب میں اس بات کا اشارہ دیا گیا تھا کہ حکومت بہت جلد بے نامی جائیدادوں کے خلاف مہم شروع کرے گی اور ذرائع کے مطابق 25نومبر 2016سے ہی الکٹرانک پراپرٹی پاس بک کے منصوبہ کو قطعیت دینے کا عمل شروع کردیا گیا تھا جو بہت جلد مکمل کرلیا جائے گا۔ بتایا جاتا ہے کہ ملک کی بیشتر ریاستوں میں جو ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ ہیں اور جن کے پاس جائیدادوں کے ریکارڈس ڈیجیٹل ہیں ان سے ریکارڈس حاصل کرلئے گئے ہیں ۔ ذرائع کے بموجب مرکزی حکومت اس عمل کیلئے جائیدادوں کے ریکارڈس کے لئے علحدہ محکمہ کے قیام کے متعلق غور کررہی ہے اوریہ فیصلہ 11مارچ کے بعد کسی بھی وقت ممکن ہے۔ عہدیداروں نے بتایا کہ الکٹرانک پراپرٹی پاس بک میں تمام جائیدادوں کا اندراج کروایا جانا ناگزیر ہوگا اور جن جائیدادوں کا اندراج نہیں کروایا جائے گا ان جائیدادوں کو حکومت کی جانب سے سرکاری جائیداد قرار دے دیا جائے گا ۔ حکومت کے منصوبہ کے مطابق سب سے پہلے تمام جائیدادوں کے مالکین کو ان کے آدھار یا پیان کارڈ سے ان جائیدادوں کو مربوط کرنا ضروری ہوگا تاکہ الکٹرانک پراپرٹی پاس بک میں ان جائیدادوں کا اندراج ممکن ہو سکے ۔ آمدنی سے زائد لاگت کی جائیدادوں کے متعلق استفسار کا اختیار محکمہ انکم ٹیکس کو ہوگا اور ان جائیدادوں کے متعلق نئے محکمہ کی جانب سے کوئی پوچھ تاچھ نہیں کی جائے گی بلکہ نئے محکمہ کے تمام ریکارڈس انکم ٹیکس اور انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ کے حوالہ کردیئے جائیں گے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق ایک سال کے طویل منصوبہ کے اس عمل کے دوران بیشتر جائیدادوں بالخصوص تفریح گاہوں (فارم ہاؤز) رہائشی جائیدادوں کے علاوہ اراضیات کی فروخت و منتقلی کو روک دیئے جانے کا منصوبہ ہے اور اس کے بعد ہی علاقہ واری اساس پر اراضیات و جائیدادوں کی قیمت کا تعین کئے جانے کا امکان ہے۔ 31مارچ 2018تک جاری رہنے والے اس عمل کے دوران جائیدادوں کی عدم منتقلی و فروخت سے ضرورت مند فروخت کنندگان اور خریداروں کو شدید مشکلات کا شکار ہونا پڑ سکتا ہے۔ بے نامی جائیدادوں کو محسوب زمرے میں شامل کرنے کے لئے کئے جانے والے ان اقدامات کے تحت ملک کی ان تمام خانگی جائیدادوں کا ریکارڈ اکٹھا کیا جائے گا جو مختلف لوگوں کے نامو ںپر ہیں اور ان جائیدادوں کو الکٹرانک پراپرٹی پاس بک میں شامل کرنے کے لئے فراہم کی جانے والی مہلت کے دوران جو ان جائیدادوں کے اندراج میں ناکام ہوں گے ان کی جائیدادوں کی قرقی کے متعلق احکام جاری کئے جائیں گے۔ الکٹرانک پراپرٹی پاس بک کو مالک جائیداد کے پیان کارڈ اور آدھار سے مربوط کرتے ہوئے انہیں مکمل تحفظ کی فراہمی اور غیر مجاز قابضین سے پاک بنائے رکھنے کے فوائد بھی بتائے جا رہے ہیں۔ حکومت کے اس اعلان کے بعد ملک بھر کے رئیل اسٹیٹ شعبہ میں شدید بحران کی پیش قیاسی کی جا رہی ہے لیکن حکومت نے کرنسی تنسیخ کے فیصلہ کی طرح اس فیصلہ کو بھی مسلط کرنے کا ذہن تیار کرلیا ہے اور آئندہ دنوں میں کئے جانے والے ان اقدامات کے اثرات کے متعلق ماہرین کا کہنا ہے کہ الکٹرانک پراپرٹی پاس بک سے عام آدمی یا جائیداد کے مالکین کو کوئی مشکل نہیں ہوگی بلکہ ان لوگوں کو شدید مسائل کا سامنا کرنا پڑے گاجو بے نامی جائیدادیں رکھے ہوئے ہیں یا خرید و فروخت کے لئے رقمی ادائیگی کرنے کے باوجود جائیداد کی منتقلی نہیں کروانے سے گریز کر رہے ہیں۔ الکٹرانک پراپرٹی پا س بک کی تیاری و اجرائی کا عمل اس وقت تک ممکن نہیں ہے جب تک خرید و فروخت کے علاوہ جائیدادوں کی منتقلی پر پابندی عائد نہیں کی جاتی۔عہدیداروں کا ماننا ہے کہ اس طرح کے احکام کی صورت میں رہائشی‘ زرعی‘ تجارتی زمروں کو علحدہ علحدہ کرتے ہوئے ان پر علحدہ علحدہ مدت کیلئے منتقلی خرید و فروخت کی پابندی عائد کی جا سکتی ہے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT