Monday , March 27 2017
Home / شہر کی خبریں / جائیدادوں کی رجسٹری 40 فیصد کم ہوگئی

جائیدادوں کی رجسٹری 40 فیصد کم ہوگئی

رئیل اسٹیٹ شعبہ کو زبردست دھکا

حیدرآباد 20 نومبر (سیاست نیوز) بڑے کرنسی نوٹوں کی منسوخی کے مرکز کے اقدام سے تلنگانہ ریاست میں پہلے سے تباہ رئیل اسٹیٹ شعبہ کو زبردست دھکا لگا ہے۔ صرف رئیل اسٹیٹ کا کاروبار کرنے والے اور بلڈرس ہی نہیں جائیدادوں کی خریدی کرنے والے افراد بھی حیران پریشان ہیں۔ تلنگانہ رجسٹریشن ڈپارٹمنٹ پر اس کا کافی منفی اثر پڑا ہے۔ کرنسی نوٹوں کی منسوخی کے بعد سے تلنگانہ میں جائیدادوں کی رجسٹری چالیس فیصد گھٹ گئی ہے۔ تلنگانہ میں جائیدادوں کی رجسٹری پر رجسٹری ڈپارٹمنٹ کو یومیہ 15 کروڑ روپئے کی آمدنی ہورہی تھی اب یومیہ آمدنی گھٹ کر صرف 8 کروڑ روپئے رہ گئی ہے۔ البتہ 19 نومبر کو رجسٹریشن ڈپارٹمنٹ کے اس اعلان کے بعد کہ 24 نومبر تک اسٹامپ ڈیوٹی اور رجسٹریشن فیس کی ادائیگی پرانی نوٹوں سے کی جاسکتی ہے، صورتحال قدرے بہتر ہوئی ہے۔ رجسٹریشن کے لئے لین دین عام طور پر نقدی کی شکل میں ہی ہوتا ہے اور رئیل اسٹیٹ کاروبار میں زیادہ تر غیر محسوب دولت استعمال ہوتی ہے۔ ایک مکتب فکر کا یہ احساس ہے کہ مرکزی حکومت کے اقدام کے نتیجہ میں جائیدادوں کی قیمتوں میں کمی ہوگی۔ رئیل اسٹیٹ اور کنسٹرکشن سیکٹر میں محسوب اور غیر محسوب دولت کا ایک ساتھ چلن ہے۔ رئیل اسٹیٹ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ رہائشی مکانات کی فروخت پر اثر نہیں پڑے گا۔ کمرشیل ریٹیل مقامات اور کھلے پلاٹس پر اثر پڑسکتا ہے۔ مستقبل کے بارے میں کوئی کچھ بھی اندازہ لگانے سے قاصر ہے۔ حیدرآباد میں تنخواہ یاب ملازمین اور این آر آئیز کی بڑی تعداد مکانات کی خریدی سے دلچسپی رکھتی ہے اور یہ معاملت زیادہ تر جائز رقومات کے ذریعہ ہوتی ہے۔ زیادہ تر معاملت آن لائن کی جاتی ہے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT