Saturday , April 29 2017
Home / شہر کی خبریں / جائیداد ٹیکس کی وصولی کا نشانہ نا مکمل ، بلدیہ کو مالی خسارہ ممکن

جائیداد ٹیکس کی وصولی کا نشانہ نا مکمل ، بلدیہ کو مالی خسارہ ممکن

ترقیاتی کاموں کی انجام دہی کے لیے حکومت سے امداد کی ضرورت ، کرنسی تنسیخ کے بعد صورتحال یکسر تبدیل
حیدرآباد۔13فروری (سیاست نیوز) ریاستی حکومت کی امداد کے بغیر مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد مارچ سے قبل حصول جائیداد ‘ سڑکوں کی مرمت اور دیگر امور کے اخراجات کی ادائیگی کے موقف میں نہیں ہے۔ جی ایچ ایم سی کی جانب سے جائیداد ٹیکس کی وصولی کا نشانہ مکمل نہ کئے جانے کے سبب بلدیہ کو مالی خسارہ کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے اور جاریہ مالی سال کے دوران جی ایچ ایم سی ٹیکس وصولی کا متعینہ نشانہ مکمل کرنے کے موقف میں نہیں ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ملک میں کرنسی تنسیخ کے فوری بعد پیدا شدہ حالات میں جی ایچ ایم سی کی جانب سے منسوخ کرنسی میں ٹیکس کی وصولی کے اعلان کے بعد یہ سمجھا جا رہا تھا کہ جی ایچ ایم سی کو 200کروڑ اضافی ٹیکس وصول ہوگا ۔ جی ایچ ایم سی نے مالی سال 2016-17کے دوران 1200کروڑ جائیداد ٹیکس کے ذریعہ وصول کرنے کا نشانہ مقرر کیا تھا اور توقع کی جا رہی تھی کہ کرنسی تنسیخ کے سبب اس میں 200کروڑ کا اضافہ ہوسکتا ہے لیکن تاحال جاریہ سال بلدیہ نے صرف 800کروڑ کی وصولی میں کامیابی حاصل کی ہے۔ ذرائع کے بموجب کرنسی تنسیخ کے بعد جی ایچ ایم سی کی جانب سے شہر میں ٹیکس وصولی سے زیادہ الکٹرانک ادائیگیوں پر توجہ مرکوز کئے جانے کے سبب ٹیکس وصولی پر توجہ نہیں دی جا سکی ہے۔ عہدیداروں نے بتایا کہ جاریہ سال ٹیکس وصولی کے نشانہ تک پہنچنا اب ممکن نظر نہیں آرہا ہے کیونکہ جائیداد ٹیکس وصولی کیلئے چلائی جانے والی مہم کو نظر انداز کئے جانے کے علاوہ اساتذہ زمرے کے کونسل انتخابات نے عملہ کو مصروف کردیا ہے اور بلدی حدود میں موجود عملہ اب ان انتخابی تیاریوں میں مصروف ہے اسی لئے اب ان سے یہ توقع نہیں کی جا سکتی کہ وہ جائیداد ٹیکس کی وصولی کے ساتھ ساتھ ان تیاریوں کو جاری رکھیں گے۔ بتایا جاتا ہے کہ جاریہ سال مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد نے جملہ 2لاکھ47ہزار 460جائیدادوںکے ٹیکس میں تبدیلی لاتے ہوئے اس پر از سر نو غور کیا ہے جس کے ذریعہ بلدیہ کو 24کروڑ 74لاکھ روپئے وصول ہوئے ہیں۔جی ایچ ایم سی کو ٹیکس کی عدم وصولی کے سبب 350کروڑ روپئے کے خسارہ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد نے مالی سال 2017-18کے بجٹ کی تیاری مکمل کرتے ہوئے اسٹینڈنگ کمیٹی میں اسے منظوری بھی دے دی ہے اور توقع کی جا رہی ہے کہ 18فروری کو منعقد ہونے والے جی ایچ ایم سی کے جنرل باڈی اجلاس میں آئندہ سال کے مالی تخمینہ کو منظوری دیدی جائے گی لیکن اس سے قبل ریاستی حکومت کی مدد سے بقایاجات ادا کرنے کے متعلق فیصلہ کرنا ضروری ہوگا۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT