Sunday , September 24 2017
Home / Top Stories / جادھو کو سزائے موت کے سنگین نتائج، پاکستان کو ہندوستان کا انتباہ

جادھو کو سزائے موت کے سنگین نتائج، پاکستان کو ہندوستان کا انتباہ

بے قصور ہندوستانی شہری کو انصاف دلانے مقررہ راستوں سے بہتر اقدامات سے بھی گریز نہ کرنے کا عہد ۔ پارلیمنٹ میں سشما سوراج اور راج ناتھ سنگھ کے بیانات
نئی دہلی 11 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) ہندوستانی شہری کلبھوشن جادھو کو پاکستان میں جاسوس قرار دیتے ہوئے سزائے موت کے اعلان پر پارلیمنٹ میں ظاہر کردہ سخت برہمی کے درمیان ہندوستان نے آج کہاکہ کلبھوشن کو انصاف دلانے کے لئے وہ مقررہ راستوں سے ہٹ کر بھی ممکنہ قدم اُٹھائے گا اور پاکستان کو خبردار کیاکہ اس (کلبھوشن) کو پھانسی پر چڑھانے کی صورت میں باہمی تعلقات پر سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ کلبھوشن کو جاسوس قرار دیئے جانے کے بعد پاکستانی فوجی عدالت کی جانب سے سزائے موت کے اعلان کے خلاف پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں لوک سبھا اور راجیہ سبھا نے آج سخت احتجاج و برہمی کا اظہار کیا۔ تمام جماعتوں نے بہ یک آواز ہوکر واقعہ کی مذمت کی اور حکومت پر زور دیا کہ کلبھوشن کی مدد کے لئے تمام ممکنہ اقدامات کئے جائیں۔ حکومت اور اپوزیشن نے کہاکہ کلبھھوشن کو دی گئی سزا دراصل ہندوستان کو بدنام کرنے اور پاکستان کے زیرسرپرستی دہشت گردی سے بین الاقوامی برادری کی توجہ ہٹانے کی کوشش ہے۔ وزیر خارجہ سشما سوراج نے دونوں ایوانوں میں بیان دیتے ہوئے کہاکہ جادھو کے ساتھ انصاف رسانی کو یقینی بنانے کے لئے ہندوستان اپنے مقررہ راستوں سے آگے بڑھ کر بھی ہرممکنہ مساعی کرے گا کیوں کہ جادھو ایک ’’بے قصور اور مغویہ ہندوستانی ہے‘‘۔ سشما سوراج نے خبردار کیاکہ ’’جادھو پر سزائے موت کی تعمیل کی کوئی بھی کوشش کو ہندوستان بہرصورت منصوبہ بند قتل متصور کرے گا اور اس پر عمل آوری کی صورت میں پاکستان کو باہمی تعلقات پر مرتب ہونے والے اثرات اور عواقب کو ملحوظ رکھنا چاہئے۔

انھوں نے کہاکہ جادھو ایران میں کاروبار کررہے تھے جہاں سے ان کا اغواء کرتے ہوئے پاکستان لیجایا گیا۔ ان کے خلاف عائد کردہ جاسوسی کے الزامات من گھڑت ہیں اور ان کے خلاف چلایا گیا مقدمہ فرضی تھا جس کے نتیجہ میں ایک ناقابل دفاع اور ناقابل صفائی فیصلہ صادر کیا گیا۔ سشما سوراج نے کہاکہ ’’مجھے صاف طور پر یہ کہنے دیجئے کہ ہندوستان کے عوام اور حکومت اس امکان کو انتہائی سنگین نقطہ نظر سے دیکھیں گے کہ کسی بے قصور ہندوستانی شہری کو پاکستان میں بین الاقوامی تعقلات، انصاف و قانون کے بنیادی ضابطوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اور مروجہ عمل کی تکمیل کے بغیر ہی سزائے موت کا سامنا ہے‘‘۔ وزیر خارجہ نے کہاکہ ’’جادھو کی کسی غلطی کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔ اگر کچھ ہے تو یہی ہے کہ وہ (پاکستان کے) اس منصوبہ کا شکار ہوا ہے جس کا مقصد ہندوستان کے بارے میں غلط فہمی پیدا کرنے اور دہشت گردی کی کفالت و مدد کرنے سے متعلق پاکستان کے معروف ریکارڈ سے بین الاقوامی برادری کی توجہ ہٹانا ہے۔ مقدمہ کے طریقہ کار پر سوال اُٹھاتے ہوئے سشما سوراج نے کہاکہ پاکستان نے اپنی تحقیقات کے دوران ثبوت کی دستیابی کے لئے ہندوستان سے مدد طلب کیا تھا اور ان سینئر عہدیداروں کے خلاف مضحکہ خیز الزامات عائد کئے جن کا اس مسئلہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ سشما سوراج نے اس خبر کو بکواس قرار دیا کہ جادھو کا بیان ششی تھرور تحریر کیا تھا۔  مرکزی وزیر وینکیا نائیڈو نے کہا کہ اگر جادھو کو پھانسی دی جائے تو دُنیا بھر میں پاکستان کی مذمت کی جائے گی۔ دریں اثناء کانگریس نے جادھو کی فرضی عدالت کی جانب سے فرضی مقدمہ چلاکر سزائے موت دینے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اسی وجہ سے وزیراعظم کو پاکستان پر جادھو کی رہائی کیلئے سفارتی دباؤ ڈالنا پڑا۔ راجیہ سبھا میں قائد اپوزیشن غلام نبی آزاد نے اس واقعہ پر سخت برہمی کا اظہار کیا اور کہاکہ سچائی ثابت کرنے کو یقینی بنانے کے لئے حکومت ہند کی جانب سے جادھو کو بہترین خدمات فراہم کرنا چاہئے تھا۔

ان کے ریمارک کے جواب میں سشما سوراج نے کہاکہ حکومت نے جادھو کو نہ صرف پاکستان سپریم کورٹ کے بہترین وکلاء کی خدمات کی فراہمی کو یقینی بنائے گی بلکہ اس مسئلہ کو پاکستان کے صدر سے رجوع کرے گی۔ انھوں نے کہاکہ ’’جو کچھ بھی ضروری ہوگا ہم کریں گے۔ ہم مقررہ راستہ سے آگے بڑھ کر بھی اس کی مدد کریں گے۔ جادھو اب نہ صرف اپنے ماں باپ کے بیٹے ہیں بلکہ ہندوستان کے سپوت بھی ہیں‘‘۔ انھوں نے کہاکہ جادھو کن حالات میں پاکستان پہونچے ہیں وہ ہنوز غیر واضح ہیں اور صرف اسی صورت میں صحیح معلومات دستیاب ہوں گے جب جادھو کو قونصل خانہ کی رسائی حاصل ہوگی۔ جس سے پاکستانی حکام انکار کرچکے ہیں۔ اُنھوں نے کہاکہ حکومت اب جادھو کے والدین سے رابطہ میں ہے اور اس مشکل گھڑی میں ان کی بھرپور مدد کی جائے گی۔ قبل ازیں وزیرداخلہ راج ناتھ سنگھ نے لوک سبھا میں کہاکہ جادھو کو انصاف دلانے کے لئے حکومت ممکنہ مساعی کرے گی۔ انھوں نے پاکستان کے اقدام کی مذمت کرتے ہوئے کہاکہ انصاف و قانون کے تمام اُصولوں کو نظرانداز کردیا گیا۔ راج ناتھ سنگھ نے مزید کہاکہ ’’حکومت اس اقدام کی سخت مذمت کرتی ہے۔ اس کارروائی میں انصاف و قانون کے تمام اُصولوں کو نظرانداز کردیا گیا ہے۔ میں اس ایوان کو یقین دلانا چاہتا ہوں کہ جادھو کو انصاف دلانے کے لئے حکومت ہرممکنہ قدم اُٹھائے گی۔ اس کو ضرور انصاف حاصل ہوگا‘‘۔ لوک سبھا کی کارروائی کا آج جیسے ہی آغاز ہوا تمام ارکان نے جماعتی وابستگی سے بالاتر ہوکر پاکستان کی سخت مذمت کی۔ حکمراں اور اپوزیشن کے درمیان اکثر موقعوں پر تنقیدوں کا تبادلہ ہوا۔ اپوزیشن نے حکومت پر الزامع ائد کیاکہ اس مسئلہ پر مضبوط موقف اختیار نہیں کیا گیا۔ کانگریس کے لیڈر ملکارجن کھرگے نے اس بات پر حیرت کا اظہار کیاکہ حکومت اس مسئلہ پر خاموش کیوں ہے۔ ان کے ریمارک پر بی جے پی ارکان نے تنقید کی اور کہاکہ حکومت پہلے ہی اس واقعہ کی مذمت کرچکی ہے۔ ملکارجن کھرگے نے لاہور میں نواز شریف کی دختر کی شادی کی تقریب میں شرکت کے لئے وزیراعظم نریندر مودی کے اچانک دورہ پاکستان کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ ’’دعوت کے بغیر آپ شادی کی تقریب میں شرکت کرسکتے ہیں۔ لیکن اس مسئلہ پر آپ اُن سے ملاقات یا بات چیت نہیں کرسکتے‘‘۔ اسپیکر سمترا مہاجن نے کہاکہ ’’اس مسئلہ پر تنقیدوں کا اور الزامات کا تبادلہ نہیں کیا جانا چاہئے۔ جادھو کے انجام پر ہم سب کو مساویانہ طور پر فکر و تشویش ہے‘‘۔

TOPPOPULARRECENT