Saturday , October 21 2017
Home / ہندوستان / جادھو کی رہائی کی ہدایت دینے کی درخواست

جادھو کی رہائی کی ہدایت دینے کی درخواست

درخواست گذار سے تجویز حکومت کو پیش کرنے کے بارے میں استفسار ،فیصلہ محفوظ
نئی دہلی۔ 19 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) دہلی ہائیکورٹ نے آج حکومت کو بین الاقوامی عدالت انصاف سے ہندوستانی شہری کلبھوشن جادھو کی رہائی کیلئے رجوع ہونے کی ہدایت دینے کیلئے ایک درخواست مفادِ عامہ پر اپنا فیصلہ محفوظ کردیا۔ جادھو پاکستان میں سزائے موت کا مجرم قرار دیا گیا۔ کارگزار چیف جسٹس گیتا متل اور جسٹس انو ملہوترا پر مشتمل ایک بینچ نے کہا کہ وہ اس درخواست پر احکام جاری کرے گی۔ مرکزی حکومت نے کہا کہ یہ مفادِ عامہ کی درخواست نہیں ہے۔ حکومت پہلے ہی جادھو کی رہائی یقینی بنانے کے لئے اقدامات کرچکی ہے۔ ایڈیشنل سالیسیٹر جنرل سنجے جین نے وزارت خارجہ اور وزارت داخلہ کی پیروی کرتے ہوئے گزارش کی کہ یہ موضوع جو عدالت کے اجلاس پر اٹھایا گیا ہے، پہلے ہی سے متعلقہ وزارتوں کے زیرغور ہے اور یہ وزارتیں پہلے ہی اس کی رہائی کا ملک کو تیقن دے چکی ہیں۔ وزیر خارجہ نے اپنی روایت سے ہٹ کر ایوان پارلیمنٹ میں اعلان کیا ہے کہ ہر ممکن اقدام جادھو کو واپس لانے کیلئے کیا جائے گا۔ ایڈیشنل سالیسیٹر جنرل نے یہ بھی کہا کہ یہ معاملہ پارلیمنٹ اور اس کے ارکان کی ذمہ داری ہے، کیونکہ یہ ایک نایاب موقع ہے کہ دونوں ایوانوں کے ارکان پارٹی خطوط سے بالاتر ہوکر پاکستانی فوجی عدالت کی کارروائی کی مذمت کرچکے ہیں۔ حکومت نے اپنی بہترین کوشش کوشش کرچکی ہے اور بہترین اقدامات کررہی ہے۔ ایڈیشنل سالیسیٹر جنرل نے کہا کہ اگر حکومت کچھ نہیں کررہی ہے تو درخواست گزار عدالت سے رجوع ہوسکتے تھے، لیکن ایسا نہیں ہوا۔ عدالت سماجی کارکن راہول شرما کی پیش کردہ درخواست کی سماعت کررہی تھی ، جنہوں نے وزارت خارجہ اور وزارت داخلہ کو ہدایت دینے کی درخواست دی تھی کہ وہ بین الاقوامی عدالت انصاف سے رجوع ہوکر جادھو تک قونصل کی رسائی کی فراہمی کیلئے مقدمہ دائر کریں۔ بحریہ کے سابق عہدیدار کو نہ صرف غیرقانونی طور پر قید رکھا گیا ہے بلکہ انہیں غلط طور پر سزائے موت سنائی گئی ہے۔ حکومت کی اس درخواست کی مخالفت کے علاوہ ہائیکورٹ کی بینچ بھی درخواست گذار کی مشیر قانونی گورو کمار بنسل سے جاننا چاہتی ہے کہ کیا انہوں نے حکومت کو بھی یہ تجویز پیش کی ہے۔

TOPPOPULARRECENT