Tuesday , July 25 2017
Home / شہر کی خبریں / جاریہ تعلیمی سال ایم ٹیک کی نشستوں میں بھی کمی ممکن

جاریہ تعلیمی سال ایم ٹیک کی نشستوں میں بھی کمی ممکن

18کالجس بند ، جے این ٹی یو کی کئی انجینئرنگ کالجس کو نوٹس
حیدرآباد۔23مئی(سیاست نیوز) جواہر لعل نہرو ٹکنالوجیکل یونیورسٹی کی جانب سے کئے جانے والے اقدامات کے سبب جاریہ سال ایم ٹیک کی نشستوں میں بھی کمی واقع ہو سکتی ہے کیونکہ یونیورسٹی کی جانب سے کئے گئے معائنہ جات کے بعد ریاست میں موجود انجنیئرنگ کالجس کو نوٹس جاری کرتے ہوئے انہیں خامیوں کو دور کرنے کیلئے 10یوم کی مہلت فراہم کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ وہ اندرون 10یوم خامیوں کو دور کرتے ہوئے رپورٹ پیش کریں اس کے بعد انہیں حاصل نشستوں کی اجازت کی برقراری پر غور کیا جائے گا۔جے این ٹی یو کی جانب سے گذشتہ دو برسوں کے دوران شہر کے علاوہ اضلاع کے کئی علاقو ںمیں موجود انجنیئرنگ کالجس میں درکار اساتذہ اور سہولتوں کی فراہمی کے متعلق معائنوں کا سلسلہ جاری ہے اور ان معائنوں کے دوران رہنمایانہ خطوط کو پورا نہ کرنے والے کالجس کی مسلمہ حیثیت برخواست کی جانے لگی تھی اور سال گذشتہ جے این ٹی یو کی جانب سے ایم ٹیک میں داخلوں کے لئے منظوری کے قوانین کو بھی سخت کردیا گیا تھا لیکن اس مرتبہ اس سختی کے سبب نشستوں میں قابل لحاظ کمی واقع ہونے کا خدشہ ہے ۔ یونیورسٹی ذرائع کے مطابق جاریہ سال 18 کالجس نے کالج بند کرنے کیلئے درخواست داخل کی ہے اور توقع ہے کہ یہ کالجس تو بند کردیئے جائیں گے اسی طرح جن کالجس میں خامیوں کی نشاندہی کی گئی ہے ان کالجس کو خامیاں دور کرنے کا موقع فراہم کیا گیا ہے اگر وہ خامیوں اور نشاندہی کردہ کمی کو دور کرتے ہیں تو انہیں ایم ٹیک کی نشستوں میں داخلوں کی اجازت حاصل رہے گی۔بتایاجاتا ہے کہ سال گذشتہ جے این ٹی یو میں 94ہزار نشستوں کو منظوری دی گئی تھی لیکن تاحال کئے گئے معائنوں میں 55ہزار نشستیں ایسی ہیں جن میں کوئی خامیاں یا کمی نہیں ہے لیکن مابقی نشستوں میں جو کمی ریکارڈ کی گئی ہے انہیں دور بھی کیا جا سکتا ہے۔جے این ٹی یو کی جانب سے تاحال جن کالجس کو الحاق فراہم کیا گیا ہے ان کی جملہ تعداد 312ہے جن میں 212انجنیئرنگ کالجس 18ایم بی اے کالجس‘ 82فارمیسی کالجس شامل ہیں۔بتایا جاتا ہے کہ یونیورسٹی کی جانب سے کالج انتظامیہ کو یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ وہ اپنے طور پر نشستوں میں کمی کرلیں تاکہ یونیورسٹی کی جانب سے کالجس کے الحاق کو برقرار رکھتے ہوئے نشستوں کی تعدادمیں کمی کا فیصلہ کیا جا سکے۔ اس سلسلہ میں کالجس کے ذمہ داران کا کہنا ہے کہ جن کالجس میں خامیاں پائی جاتی ہیں انہیں نشستوں میں کمی کیلئے کہا جانا درست نہیں ہے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT