Sunday , September 24 2017
Home / Top Stories / جاریہ سال ذاکر نائک کی وطن واپسی کا منصوبہ نہیں

جاریہ سال ذاکر نائک کی وطن واپسی کا منصوبہ نہیں

ممبئی۔15 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) متنازعہ مبلغ اسلام ذاکر نائک جنہیں کئی تحقیقاتی کارروائیوں کا سامنا ہے جو مبینہ طور پر ان کی اشعال انگیز تقریروں کے بارے میں کی جارہی ہیں، انہوں نے آج کہا کہ وہ جاریہ سال ہندوستان واپسی کا کوئی منصوبہ نہیں رکھتے تاہم انہوں نے کہا کہ ان کے خلاف الزامات حقیقت سے کہیں زیادہ مبالغہ آرائی کا نتیجہ ہیں۔ انہوں نے دہشت گرد سرگرمیوں کے لئے کبھی بھی تحریک نہیں دی۔ ٹیلی ویژن پر تبلیغ کے لئے شہرت رکھنے والے ذاکر نائک کی پریس کانفرنس تین مرتبہ تقریب کے مقام کے منتظمین کے دبائو کے تحت ملتوی کردینے کا ادعا کیا گیا ہے۔ انہوں نے ذرائع ابلاغ سے اسکائپ کے ذریعہ سعودی عرب سے تفصیلی تبادلہ خیال کرتے ہوئے ان تمام الزامات کو جو ان پر ان کی تقریروں کی بنیاد پر عائد کیئے گئے ہیں مسترد کردیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ امن کے پیغامبر ہیں۔ انہوں نے اپنی تقریروں کی جھلکیوں کا حوالہ دیا جو ڈھاکہ قتل عام کے بعد دکھائی گئی تھیں اور کہا کہ ہندوستانی ذرائع ابلاغ ان کے خلاف ایک مہم چلارہے ہیں اور بے بنیاد خبریں نشر کررہے ہیں۔
ان کے ادھورے جملے دکھائے جارہے ہیں۔ جھلکیوں کو تراش تراش کرکے پیش کیا جارہا ہے اور ان کے بیانات ان کو بدنام کرنے کے لئے سیاق و سباق سے الگ کرکے پیش کئے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ذرائع ابلاغ کی اس قسم کی کارروائیاں غیر اخلاقی ہیں۔ ان کے 2000 جملے ایسے ہیں جن میں انہوں نے دہشت گردی کی مذمت کی ہے۔ ممکن ہے کہ یہ جملے دہرے معنی رکھتے ہوں، ویڈیو جھلکیاں مفادات حاصلہ کے تحت مسخ کرکے پیش کی جارہی ہیں۔ جب ان کی ایک تقریر کے بارے میں جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اسلام میں خودکش حملے کی اجازت ہے، دریافت کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ دوسری عالم گیر جنگ میں جاپان میں خودکش بمبرداروں کو ایک جنگی چال کے طور پر استعمال کیا تھا۔

 

ذاکر نائک امن کے داعی
بی جے پی اسلام کو دہشت گردی سے جوڑ رہی ہے : ڈگ وجئے
پونے، 15 جولائی ( سیاست ڈاٹ کام) مبلغ اسلام ذاکر نائک کو ’’امن کا داعی‘‘ قرار دیتے ہوئے سینئر کانگریس لیڈر ڈگ وجئے سنگھ نے آج بی جے پی کو مورد الزام ٹھہرایا کہ وہ اسلام کو دہشت گردی سے ’’جوڑ‘‘ رہی ہے۔ ڈگ وجئے نے کہا کہ اگر ڈاکٹر ذاکر اشتعال انگیز تقاریر کرنے کے ملزم ہیں تو پھر بی جے پی قائدین جیسے ساکشی مہاراج، یوگی ادتیہ ناتھ، سادھی پراچی کے خلاف ’’جذبات بھڑکانے‘‘ کی پاداش میں کوئی کارروائی کیوں نہیں کی گئی ہے۔ ڈاکٹر ذاکر ڈھاکہ کی رسٹورنٹ پر یکم جولائی کو پیش آئے حملے کے بعد سے مشکوک نظروں سے دیکھے جارہے ہیں کیونکہ حملہ آوروں میں کم از کم ایک شخص ایسا پایا گیا جو ڈاکٹر ذاکر کی تقاریر سے متاثر ہوا ہے۔ چنانچہ مختلف ایجنسیوں نے ڈاکٹر ذاکر کی سرگرمیوں کا جائزہ لینا شروع کردیا اور میڈیا کے ایک گوشہ نے بھی مبلغ اسلام کے خلاف محاذ کھول دیا ، جو فی الحال بیرون ملک مقیم ہیں۔

TOPPOPULARRECENT