Monday , March 27 2017
Home / شہر کی خبریں / جاریہ سال محکمہ اقلیتی بہبود کو بجٹ سے 1037 کروڑ کی اجرائی

جاریہ سال محکمہ اقلیتی بہبود کو بجٹ سے 1037 کروڑ کی اجرائی

616 کروڑ خرچ، 420 کروڑ اجرائی کے بلس زیرالتواء، سید عمر جلیل کی پریس کانفرنس

حیدرآباد۔/18مارچ، ( سیاست نیوز) حکومت نے جاریہ سال محکمہ اقلیتی بہبود کے بجٹ سے1037 کروڑ روپئے جاری کئے ہیں جبکہ محکمہ نے ابھی تک 616 کروڑ روپئے خرچ کئے۔ سکریٹری اقلیتی بہبود سید عمر جلیل نے میڈیا کے نمائندوں کو بتایا کہ مالیاتی سال 2016-17میں اقلیتی بہبود کا بجٹ 1200کروڑ مختص کیا گیا تھا بعد میں 120کروڑ روپئے کا اضافہ کیا گیا جس سے مجموعی بجٹ 1320 کروڑ تک پہنچ گیا۔ اب جبکہ مالیاتی سال کا جاریہ ماہ اختتام ہوگا حکومت نے 1037 کروڑ روپئے کی اجرائی کے احکامات جاری کئے ہیں۔ مختلف اسکیمات پر تاحال 616کروڑ 61 لاکھ روپئے محکمہ نے خرچ کئے ہیں۔ 420کروڑ روپئے کی اجرائی سے متعلق بلز ٹریژری اور فینانس میں زیر التواء ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ محکمہ فینانس نے کل 63 کروڑ روپئے کی اجرائی سے متعلق احکامات جاری کئے ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ جاریہ سال اقلیتی بہبود کو 1100کروڑ روپئے کی اجرائی عمل میں آسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ برسوں میں بجٹ کی اجرائی اور خرچ کم تھا تاہم جاریہ سال بجٹ کا خرچ حوصلہ افزاء رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 31 مارچ تک مزید اسکیمات کیلئے رقومات خرچ کی جائیں گی۔ محکمہ فینانس نے 63 کروڑ 24 لاکھ 50 ہزار روپئے کی اجرائی سے متعلق جو احکامات جاری کئے ہیں ان میں سی ای ڈی ایم کیلئے ایک کروڑ 50 لاکھ، تلنگانہ حج کمیٹی 75 لاکھ، کرسچین فینانس کارپوریشن کیلئے 2کروڑ 62 لاکھ، ائمہ و مؤذنین کے ماہانہ اعزازیہ کیلئے وقف بورڈ کو 32 کروڑ 50 لاکھ، اردو گھر ؍ شادی خانوں کی تعمیر کیلئے ایک کروڑ 50 لاکھ۔ اوورسیز اسکالر شپ اسکیم کیلئے 15 کروڑ ، تلنگانہ اسٹڈی سرکل کیلئے 3کروڑ 50 لاکھ ، مکہ مسجد و شاہی مسجد کی تعمیر و مرمت کیلئے ایک کروڑ 87 لاکھ، اور اقلیتی نوجوانوں کو ٹریننگ ایمپلائمنٹ اسکیم کیلئے 2 کروڑ روپئے شامل ہیں۔ شادی مبارک اسکیم کیلئے 150کروڑ روپئے گرین چینل میں رکھے گئے ہیں۔ فیس باز ادائیگی کیلئے 89 کروڑ، اسکالر شپ کیلئے 42کروڑ کی اجرائی باقی ہے۔ شادی مبارک اسکیم کے زیر التواء درخواستوں کے سلسلہ میں 40 کروڑ کے بلز کی منظوری ابھی باقی ہے۔ سکریٹری اقلیتی بہبود نے بتایا کہ اقامتی اسکولس کیلئے جاریہ سال 325کروڑ روپئے مختص کئے گئے تھے جن میں سے 175 کروڑ روپئے جاری کئے گئے۔ انہوں نے کہا کہ اسکالر شپ کے سلسلہ میں 300 کے منجملہ 250کروڑ روپئے خرچ کئے گئے ہیں۔ حکومت نے مالیاتی سال 2017-18 میں اقامتی اسکولس کیلئے 425کروڑ روپئے مختص کئے ہیں۔ مکہ مسجد اور شاہی مسجد کے ملازمین کی تنخواہوں کا حوالہ دیتے ہوئے سکریٹری اقلیتی بہبود نے بتایا کہ تمام کی تنخواہیں کل جاری کردی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مکہ مسجد اور شاہی مسجد کے ملازمین کو سرکاری ملازمین کے زمرے میں نہیں رکھا گیا جس کے باعث ان کا علحدہ ہیڈ آف اکاؤنٹ نہیں ہے جس سے رقم کی اجرائی میں دشواری ہورہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سے نمائندگی کرتے ہوئے دونوں مساجد کے ملازمین کی تنخواہوں سے متعلق علحدہ ہیڈ آف اکاؤنٹ قائم کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ مکہ مسجد کے حوض کی صفائی کے کام میں بہتری ہوئی ہے اور پانی کی صفائی کیلئے خصوصی یونٹ نصب کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مسجد کی تعمیر و تزئین اور دیگر ضروری اُمور کی تکمیل کیلئے 8 کروڑ 48 لاکھ روپئے منظور کئے گئے۔ اس رقم سے مقبرہ جات آصفیہ کی چھت کو درست کیا جائے گا اور مکہ مسجد میں الکٹریکل، ساؤنڈ سسٹم اور سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب جیسے اُمور کی تکمیل کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ مسجد سے متصل تقریباً 6000 مربع گز اراضی جو نظام دور حکومت میں مہاجرین کیلئے مختص کی گئی ہے وہاں حقیقی مہاجرین کو مکانات فراہم کرتے ہوئے باقی جگہ پارکنگ کیلئے استعمال کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ مسجد کے اُمور میں بعض بے قاعدگیوں کی اطلاع پر ریٹائرڈ ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس عبدالقدیر صدیقی کو سپرنٹنڈنٹ مقرر کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مسجد کے ملازمین کی تعداد میں بھی اضافہ کیا جائے گا۔ عمر جلیل نے کہا کہ اقامتی اسکولوں کی عمارت کی تعمیر کے سلسلہ میں مرکز سے نمائندگی کی گئی اور 7 اسکولوں کیلئے مرکز نے 126کروڑ روپئے مختص کئے جس میں 75کروڑ 60 لاکھ مرکز کی حصہ داری ہوگی جبکہ 50 کروڑ 40لاکھ ریاستی حکومت کا شیئر ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ مرکز نے 63کروڑ روپئے جاری کردیئے ہیں۔ نظام آباد، بودھن، عادل آباد، کاغذ نگر، ظہیرآباد، تانڈور اور راجندر نگر میں اسکولوں کی تعمیر کیلئے جلد ہی ٹنڈرس طلب کئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہر اسکول کی تعمیر کے سلسلہ میں 18 کروڑ روپئے الاٹ کئے گئے ہیں۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT