Sunday , August 20 2017
Home / مضامین / جاسٹا قانون امریکہ ۔سعودی عرب میں دوری کا سبب

جاسٹا قانون امریکہ ۔سعودی عرب میں دوری کا سبب

محمد ریاض احمد
امریکہ کی سینٹ اور ایوان نمائندگان میں واضح اکثریت سے جاسٹا قانون منطور کرلیا گیا۔ اس قانون کے تحت نائن الیون دہشت گردانہ حملوں کے مہلوکین کے ارکان خاندان کو حکومت سعودی عرب سے معاوضۃ طلب کرنے کے لئے قانونی چارہ جوئی کا حق دیا گیا ہے۔ امریکی انٹلی جنس ایجنسیوں کا دعویٰ ہے کہ 9/11 دہشت گردانہ حملوں میں بعض سعودی باشندے ملوث تھے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا کسی ملک کے باشندوں کا دہشت گردی میں ملوث ہونے کا مطلب ان کا ملک بھی دہشت گردی میں شامل ہے۔ اگر ایسا ہے تو ساری دنیا میں امریکہ دہشت گردی کو بڑھاوا دینے والا سب سے بڑا ملک ہے۔ مثال کے طور پر عراق پر امریکہ نے قبضہ کیا۔ عام تباہی کے ہتھیاروں کی موجودگی کا بہانہ بناکر اس کی اینٹ سے اینٹ بجادی۔ دولت مند اور خوشحال ملک عراق کو غربت کے دلدل میں ڈھکیل دیا۔ عراق میں امریکی قبضہ کے دوران لاکھوں جانیں گئیں۔ ناقابل یقین جانی و مالی نقصان ہوا کیا امریکہ ان لاکھوں عراقی مہلوکین کے ارکان خاندان کو معاوضہ ادا کرے گا؟ امریکہ کی خفیہ تنظیم سی آئی اے نے پاکستان، یمن سوڈان اور افغانستان میں دہشت گردوں کو ٹھکانے لگانے کی خاطر بے شمار ڈرون حملے کئے ان ڈرون حملوں میں دہشت گردوں سے کہیں زیادہ عام شہری بشمول شیرخوار بچے مارے گئے، کیا امریکہ ان انسانی جانوں کے اتلاف کا معاوضہ ادا کرے گا؟ افغانستان میں امریکہ اور اس کے اتحادی افواج کے فضائی حملوں میں ہزاروں کی تعداد میں بے قصور افغان شہری مارے گئے۔ کیا امریکہ ان افغان مہلوکین کے ارکان خاندان کو معاوضہ ادا کرے گا؟ ویتنام میں بھی امریکہ نے تباہی و بربادی کا برہنہ رقص کیا اب اگر ویتنامی باشندے بھی معاوضہ کا مطالبہ کرنے لگے تو امریکہ انہیں معاوضہ ادا کرے گا؟ امریکہ نے ہمیشہ اسرائیل کی تائید  و حمایت کی ہے، اسرائیل حکومت نے حریت پسند فلسطینیوں کی دشمنی میں نہتے فلسطینیوں کو اپنے فضائی اور زمینی حملوں کا نشانہ بناکر ان کی زندگیوں کا خاتمہ کردیا جن میں شیر خوار بچوں سے لے کر خواتین و طالبات بھی شامل ہیں، کیا اسرائیل کی قدم قدم پر تائید و حمایت کرنے والا امریکہ ان فلسطینی شہداء کے قابل فخر ورثا کو معاوضہ ادا کرے گا؟ دنیا کے کئی مقامات پر امریکہ کے باعث لاکھوں افراد زندگیوں سے محروم ہوگئے کیا امریکہ ان مقتولین کے ورثا کو معاوضہ ادا کر پائے گا؟ ۔ ایسا لگتا ہے کہ جاسٹا خود امریکہ کے گلے کی ہڈی بن جائے گا اس بارے میں خود امریکی صدر بارک اوباما نے اشارے بھی دیئے ہیں۔ امریکی سنیٹ اور ایوان نمائندگان کے ارکان نے بڑی ہی ذلت کے ساتھ صدر اوباما کے ویٹو کو مسترد کردیا۔

جاسٹا کو لے کر دنیا بھر کے ملکوں میں تشویش اور برہمی پائی جاتی ہے۔ سعودی عرب، ترکی، پاکستان، سوڈان کے علاوہ دوسرے عرب و مسلم ملکوں کے ساتھ ساتھ روس اور یوروپی ممالک نے جاسٹا کو مختلف ملکوں کے درمیان اختلافات کو ہوا دینے والا قانون قرار دے کر مسترد کردیا ہے۔ عالمی سطح پر اس قانون کے بارے میں یہ رائے پائی جاتی ہے کہ یہ قانون دنیا کے ملکوں کو حاصل سفارتی تحفظ اور خود مختاری کے خلاف ہے اور ایسے قانون کو مسترد کیا جانا ہی ضروری ہے۔ دلچسپی کی بات یہ ہے کہ اب تو ترکی اور سعودی عرب نے جاسٹا کے جواب میں ایک متبادل قانون بنانے پر غور شر وع کردیا ہے۔

ترکی کے وزیر برائے تعمیر و ترقی لطفی علون نے حال ہی میں دیئے گئے اپنے ایک انٹرویو میں بتایا کہ دونوں دوست ملک امریکہ کے جاسٹا قانون کی متبادل قانون سازی پر بڑی سرگرمی سے غور کررہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کی سرپرستی کرنے والے ملکوں کے خلاف ترکی اور سعودی عرب بھی قانونی چارہ جوئی کے لئے جاسٹا کی طرز کا ایک قانون وضع کررہے ہیں۔ یہ ایسا قانون ہوگا جو دہشت گردی سے متاثرہ ہزارہا افراد کو کسی بھی ملک کے خلاف قانونی کارروائی کا حق دے گا۔ ترکی کے وزیر تعمیرات نے ببانگ دہل کہا کہ ترکی اور سعودی عرب کی کوشش کا مقصد جاسٹا جیسے قانون کا جواب دینا ہے اور یہ جواب امریکہ کو اسلامی تعاون تنظیم اور یوروپی ممالک جیسے فورم سے دیا جائے گا۔ اہم بات یہ ہے کہ ترکی کی وزارت خارجہ اور وزارت انصاف  نے اس مجوزہ قانون کی تیاری کے لئے جو جامع دستاویز تیار کی ہیں ان کی تفصیلات جلد ہی منظر عام پر لائی جائیں گی۔ سعودی عرب کی طرح ترکی نے بھی واضح طور پر کہہ دیا ہے کہ جاسٹا جیسے قانون کو قبول کرنا ناممکن ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ قانون عالمی قوانین سے متصادم ہے۔ ترکی کے وزیر تعمیرات کے مطابق جاسٹا ایسا قانون ہے جس کے تحت کسی شخص کی انفرادی کارروائی پر اس کے پورے ملک کو ذمہ دار ٹھہرانے کی کوشش کی گئی ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ 9/11 دہشت گردانہ حملوں میں چند سعودی باشندوں کے ملوث ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ ریاست کی حیثیت سے سعودی عرب بھی دہشت گردی میں ملوث ہے۔

سعودی حکومت امریکی کانگریس اور سنیٹ میں منظور جاسٹا قانون کو تشویش کی نگاہوں سے دیکھتی ہے کیونکہ ایسے قوانین دوست ملکوں کے درمیان دشمنی و عداوت کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ اس قانون سے دوسرے ملکوں کو حاصل استثنیٰ اور خود مختاری کے اصولوں کو بھی نقصان پہنچے گا اور ملکوں کے باہمی تعلقات پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ آپ کو بتادیں کہ امریکی ایوان نمائندگان میں بارک اوباما کے ویٹو کو 34 کے مقابلے 77 سے مسترد کردیا گیا۔ جبکہ سنیٹ میں امریکی صدر کے ویٹو کو کے ایک کے مقابلہ 97 سے مسترد کیا گیا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ جاسٹا JUSTICE AGAINST SPONSORS OF TERRORISM ACT ایک قانون بن جائے گا۔
جاسٹا قانون کے بارے میں جس طرح سعودی عرب، روس، ترکی، پاکستان اور دوسرے مسلم ملکوں کا موقف ہے اسی طرح خود امریکہ میں بشمول بارک اوباما کئی قائدین اس کی مخالفت کررہے ہیں چنانچہ امریکہ کے سابق اٹارنی جنرل مائکل مکاسی نے جاسٹا قانون پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس قانون سے امریکہ کو فائدہ کم اور نقصان زیادہ ہوگا۔

امریکہ کے سابق اٹارنی جنرل کا یہ بیان ایک ایسے وقت آیا ہے جبکہ جاسٹا قانون کو لے کر عالمی برادری بالخصوص مسلم ملکوں میں برہمی و بے چینی کی لہر پیدا ہوگئی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ اس قانون کی منظوری کے باعث امریکہ سعودی عرب جیسے اپنے دیرینہ دوست ملکوں کی دوستی سے محروم ہونے جارہا ہے۔ سابق امریکی اٹارنی جنرل نے فوکس نیوز سے بات کرتے ہوئے خبردار کیا کہ اب امریکہ نے خود اپنے خلاف معاوضہ کے مقدمات کے لئے دروازے کھول دیئے ہیں۔ امریکی ڈرون حملوں میں افغانی پاکستانی یمنی شہری مارے جارہے ہیں اگر یہ ملک ان ڈرون حملوں کو امریکہ کی دہشت گردی قرار دے کر اس سے معاوضہ طلب کرنا شروع کردیں تو امریکہ کے پاس اس کا جواب کیا ہوگا؟ مسٹر مائکل مکاسی نے ٹھیک کہا ہے کیونکہ 2004 ء سے امریکہ کی خفیہ ایجنسی سی آئی اے نے پاکستان میں 423 ، یمن میں 156 ، صومالیہ میں تقریباً 32 اور افغانستان میں زائد از 614 ڈرون حملے کئے ہیں۔ ان حملوں میں صرف پاکستان میں 1000 سے زائد عام شہری جاں بحق ہوئے ہیں۔ یمن میں سو سے زائد ، صومالیہ میں 20 اور افغانستان میں 200 عام شہری زندگیوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ اگر جاسٹا کے باعث امریکی متاثرین ڈالرس میں معاوضہ طلب کریں تو جواب میں پاکستان، افغانستان، یمن، صومالیہ اور دوسرے ملکوں کے باشندے بھی امریکہ سے ڈالرس کی شکل میں معاوضہ طلب کریں گے۔ مکاسی کے خیال میں سعودی عرب امریکہ کا قریبی دوست ہے جس نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ اور عالمی برادری کی کافی مدد کی لیکن جاسٹا قانون امریکہ کے ایک اچھے اور بااعتماد دوست کو اس سے دور کردے گا جس کا خمیازہ دوسرے ملکوں میں متعین امریکی فوجیوں کو بھگتنا پڑے گا۔ امریکی مفادات کو بھی اس قانون سے شدید نقصان ہوگا۔
[email protected]

TOPPOPULARRECENT