Thursday , June 29 2017
Home / شہر کی خبریں / جامعہ عثمانیہ کی اعزازی ڈگری کیلئے مختلف تجاویز

جامعہ عثمانیہ کی اعزازی ڈگری کیلئے مختلف تجاویز

چیف منسٹر کے نام پر طلبہ تنظیم کا اعتراض ، سریکانت چاری کو بعد از مرگ ڈاکٹریٹ دینے کا مطالبہ

حیدرآباد۔9 مارچ (سیاست نیوز) جامعہ عثمانیہ صد سالہ تقاریب کے دوران ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری کیلئے مختلف گوشوں سے مختلف ناموں کی تجاویز روانہ کی جا رہی ہیں جن میں چیف منسٹر تلنگانہ کے چندر شیکھر راؤ‘ مسز کویتا ایم پی نظام آباد‘ سری کانت چاری (شہید تلنگانہ) ‘ سابق چیف منسٹر کرناٹک مسٹر دھرم سنگھ‘ سابق اسپیکر لوک سبھا مسٹر شیوراج پاٹل کے علاوہ دیگر کے نام شامل ہیں۔ آئندہ ماہ منعقد ہونے والی جامعہ عثمانیہ صدسالہ تقاریب کے دوران جامعہ عثمانیہ کی جانب سے اعزازی ڈاکٹریٹ کی ڈگری کیلئے پیش کئے جارہے ناموں کے ساتھ مختلف تنظیمیں اپنے دلائل بھی پیش کررہی ہیں لیکن عثمانیہ یونیورسٹی انتظامیہ کا یہ اختیار ہے کہ وہ کسے اعزازی ڈاکٹریٹ کی ڈگری کیلئے منتخب کرتی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ تلنگانہ ودیارتھی پریشد کی جانب سے چندر شیکھر راؤ کو ڈاکٹریٹ پیش کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے لیکن اسکے برخلاف جامعہ عثمانیہ کی کئی طلبہ تنظیموں نے انہیں یہ اعزاز دیئے جانے کی مخالفت کی ہے اور یہ کہا جا رہا ہے کہ انہیں یہ اعزاز پیش کئے جانے پر یونیورسٹی انتظامیہ کو طلبہ کے احتجاج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ۔ اسی طرح مسز کے کویتا کے نام کی تجویز پر بھی اعتراض کیا جانے لگا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ مسز کے کویتا نے تلنگانہ جاگرتی کے ذریعہ تحریک تلنگانہ ضرور چلائی ہے لیکن تحریک میں کئی لوگوں نے زندگی گنوائی ہے۔ طلبہ تنظیموں کے قائدین کا کہنا ہے کہ جامعہ عثمانیہ سے تعلق رکھنے والے طالب علم سری کانت چاری نے علحدہ تلنگانہ کیلئے اپنی جان دی ہے اسی لئے سری کانت چاری کو بعد از مرگ اعزازی ڈاکٹریٹ سے نوازنا چاہئے۔جامعہ عثمانیہ کے فارغین کو ڈاکٹریٹ کے اعزاز کے لئے پیش کئے جانے والے ناموں میں مقامی تنظیموں کی جانب سے سابق اسپیکر لوک سبھا مسٹر شیو راج پاٹل کا نام بھی پیش کیا جا رہا ہے کیونکہ وہ بھی جامعہ عثمانیہ کے فارغین میں ہیں اور اسی طرح سابق چیف منسٹر کرناٹک مسٹر دھرم سنگھ کا نام بھی مقامی تنظیمیں پیش کرنے لگی ہیں اور وہ بھی جامعہ عثمانیہ کے فارغ ہیں۔ جامعہ عثمانیہ صد سالہ تقاریب کے دوران ڈاکٹریٹ کے اعزاز کی حوالگی تاریخی اہمیت کی حامل تصور کی جا رہی ہے اور یونیورسٹی انتظامیہ اس مسئلہ کو سنجیدگی اور کافی غور و فکر کے بعد حل کرنے کی کوشش کررہا ہے کیونکہ جامعہ عثمانیہ صد سالہ تقاریب کے موقع پر دی جانے والی ڈاکٹریٹ کو کافی اہمیت حاصل ہے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT