Thursday , August 24 2017
Home / ہندوستان / جامعہ ملیہ اسلامیہ ، اقلیتی ادارہ نہیں سپریم کورٹ میں اٹارنی جنرل مکل روہتگی کی رائے

جامعہ ملیہ اسلامیہ ، اقلیتی ادارہ نہیں سپریم کورٹ میں اٹارنی جنرل مکل روہتگی کی رائے

نئی دہلی ۔ 15 ۔ جنوری : ( سیاست ڈاٹ کام ) : اٹارنی جنرل نے حکومت کو مطلع کیا ہے کہ دہلی میں واقع جامعہ ملیہ اسلامیہ اقلیتی ادارہ نہیں ہے جس کا قیام پارلیمنٹ میں ایک قانون کی منظوری کے ذریعہ عمل میں لایا گیا ۔ قبل ازیں انہوں نے سپریم کورٹ میں بتایا تھا کہ علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کو اقلیتی موقف دینے کے لیے قانون سازی کی کوئی تجویز نہیں ہے ۔ وزارت فروغ انسانی وسائل کو اپنی رائے پیش کرتے ہوئے اٹارنی جنرل مکل روہتگی نے 1967 کے سپریم کورٹ فیصلہ کا حوالہ دیا ۔ جس میں کہا گیا ہے کہ ٹیکنیکی بنیاد پر اے ایم یو کو اقلیتی ادارہ قرار نہیں دیا جاسکتا اور یہی اصول جامعہ ملیہ اسلامیہ پر نافذ ہوتا ہے ۔ وزارت فروغ انسانی وسائل نے اس مسئلہ پر وزارت قانون سے رائے طلب کی تھی جس پر اٹارنی جنرل سے قانونی مشورہ طلب کیا گیا تھا ۔ چند سال قبل نیشنل کمیشن فارمیناریٹی ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشنس نے جامعہ ملیہ اسلامیہ کو اقلیتی ادارہ کے طور پر اعلان کیا تھا ۔ جس کی بنیاد پر جامعہ نے ایس سی ، ایس ٹی اور او بی سی کے لیے تحفظات منقطع کردئیے اور نصف نشستیں مسلم امیدواروں کو مختص کئے تھے ۔ وزارت قانون کے ذرائع نے جامعہ ملیہ اسلامیہ ایکٹ بابتہ 1988 کا حوالہ دیا جس میں کہا گیا ہے کہ یونیورسٹی میں بلا لحاظ جنس ، نسل ، ذات و طبقہ داخلے دئیے جائیں اور یونیورسٹی کی جانب سے مذہبی اعتقاد کی بنیاد پر کسی بھی شخص سے امتحان نہیں لیا جاسکتا ۔ ان کا تعلق چاہے ٹیچر سے ہو یا اسٹوڈنٹ سے ہو ۔ اٹارنی جنرل روہتگی نے سپریم کورٹ میں جاریہ ہفتہ کے اوائل میں کہا تھا کہ حکومت کی نقطہ نظر میں اے ایم یو اقلیتی ادارہ نہیں ہے ۔۔

TOPPOPULARRECENT