Saturday , August 19 2017
Home / ہندوستان / جامعہ ملیہ کے ہاسٹل میں پولیس کے داخلے کی مخالفت ‘طلبہ کا مظاہرہ جاری

جامعہ ملیہ کے ہاسٹل میں پولیس کے داخلے کی مخالفت ‘طلبہ کا مظاہرہ جاری

نئی دہلی، 14 اگست (سیاست ڈاٹ کام) جامعہ ملیہ اسلامیہ سنٹرل یونیورسٹی کے ہاسٹل میں کل شام پولیس کے داخلے کی مخالفت میںسینکڑوں طلباء نے آج بھی اپنا مظاہرہ جاری رکھا۔ اس درمیان یونیورسٹی انتظامیہ نے بغیر اجازت کے ہاسٹل میں پولیس داخلے کی سخت مذمت کی ہے اور دہلی پولیس کو خط لکھ کرمجرم پولیس اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے ۔ اگرچہ جامعہ کی ڈین اسٹوڈنٹ ویلفیئر پروفیسر تسنیم مینائی نے طلبہ سے امن بنائے رکھنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ انٹیلی جنس محکمہ یا پولیس اہلکاروں نے ہاسٹل میں ‘چھاپہ ماری’نہیںکی ہے ۔ مظاہر ہ کرنے والے طالب علموں کا کہنا ہے کہ کل شام تقریبا چار بجے دو ویگن آر میں سوار کچھ لوگوں نے سادہ وردي میں ہاسٹل میں آکر ویڈیوگرافی کرنی شروع کر دی۔

طالب علموں نے جب اس کی مخالفت کی تب انہوں نے کہا کہ ان کے پاس جامعہ انتظامیہکی اجازت حاصل ہے ۔اس کی مخالفت میں طالب علموں نے کل شام سے ہی دھرنا ومظاہرہ شروع کر دیا اور یہ آج بھی جاری رہا۔ اس مظاہرے میں جامعہ کے سابق طالب علم بھی شامل ہو گئے ہیں۔ مظاہر ہ کرنے والے طالب علموں نے یونیورسٹی کے  صدر دروازے پر آج بھی جم کر نعرے بازی کی۔ ان طلباء نے جامعہ کے چیف پراکٹر اور پروویسٹ کے استعفی کا مطالبہ کیا ہے ۔ اس درمیان جواہر لعل نہرو یونیورسٹی طلبا یونین نے بھی ہاسٹل میں بغیر اجازت کے پولیس داخلے کی مخالفت کی ہے اور آج کے مظاہرے میں جے این یو اسٹوڈنٹ یونین کے عہدیدار بھی شامل ہوئے ۔

جامعہ انتظامیہ کی جانب سے جاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ پولیس نے ہاسٹل میں داخل ہونے سے پہلے کسی قسم کی اجازت نہیں لی تھی۔ اس معاملے میں چیف پراکٹر پروفیسر مہتاب عالم نے جنوب مشرقی دہلی کے پولیس کمشنر کو خط لکھ کر اس کی مخالفت کی ہے اور مجرم پولیس اہلکاروں کا پتہ لگانے کے لئے کہا ہے اور مناسب کارروائی کرنے کی بھی اپیل کی ہے ۔ مسٹر عالم نے طالب علموں سے احاطے میں امن بنائے رکھنے کی بھی اپیل کی ہے ۔ پولیس ڈپٹی کمشنر مندیپ سنگھ رندھاوا نے کہا ہے کہ پولیس پراکٹر سے ملنے گئی تھی اور انہوں نے کسی طرح کی ویڈیوگرافی ہاسٹل میں نہیں کی گئی ہے اور نہ ہی چھاپہ ماری کی گئی ہے ۔ یہ تمام الزامات بے بنیاد ہیں۔جامعہ کے اسٹوڈنٹ یونین کے سابق صدر شمس پرویز نے کہا کہ اگر پولیس ہاسٹل میں چھاپہ ماری یا ویڈیوگرافی کرنے نہیں گئی تھی تو آخر پولیس وہاں کیا کرنے گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی انتظامیہ کی اجازت کے بغیر پولیس کا کیمپس میں آنا کیا اشارہ کرتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ 15 اگست کے ٹھیک پہلے پولیس کا اس طرح ہاسٹل میں آنا مناسب نہیں ہے ۔

TOPPOPULARRECENT