Sunday , September 24 2017
Home / اضلاع کی خبریں / جان و مال غیر محفوظ ، لیکن ایمان محفوظ

جان و مال غیر محفوظ ، لیکن ایمان محفوظ

مائنمار کے مسلمانوں کی ثابت قدمی ، درس عبرت ، ورنگل میں احتجاجی جلسہ ، ملک معتصم خاں اور دیگر کا خطاب

 

ورنگل ۔ /12 ستمبر (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) جماعت اسلامی ہند شہر ورنگل کی جانب سے کل جماعتی احتجاجی اجلاس کا انعقاد عمل میں آیا جس میں مہمان خصوصی جناب ملک معتصم خان سکریٹری حلقہ ملی و عالمی امور جماعت اسلامی ہند تلنگانہ و اڈیسہ و رکن اسٹیٹ وقف بورڈ تلنگانہ نے مخاطب کرتے ہوئے روہنگیائی مسلمانوں پر جاری ظلم و بربریت تشدد پر سخت مذمت کا اظہار کیا اور اپنے غم افسوس کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ برما میں نسل کشی کو فی الفور روکا جائے ۔ روہنگیائی مسلمانوں کی شہریت بحال کی جائے اور انسانی حقوق اور شہری حقوق کے ساتھ امن و سکون کی زندگی گزارنے کی سہولت بہم پہونچائی جائے ۔ اس موقع پر UNO ، تنظیم اسلامی کانفرنس اور دنیا کے طاقتور ملک کی خاموشی مجرمانہ ہے ۔ انہوں نے حکومت ہند سے مطالبہ کیا کہ انسانی حقوق کی بنیاد پر اور ہمارے ملک کی روایتوں کی بنیاد پر روہنگیائی مسلمانوں کو مہاجر تسلیم کرتے ہوئے یہاں پر حالات بحال ہونے تک ٹھہرنے کا موقع دیں ۔ انہوں نے بنگلہ دیش کی حکومت کے رویہ پر افسوس اور غصہ کا اظہار کیا ۔ ساتھ ہی بنگلہ دیش کے باشندوں کی تعریف کی اور اس ملک کے باشندوں میں حوصلہ و ہمت کی داد دی اور کہا کہ غربت کی اس حالت میں بھی انہوں نے روہنگیائی پناہ گزینوں کو غذا ، دوائیں ، اناج اور رہائش کے لئے اور دوسری ضروری چیزیں بہم پہنچائیں ۔ بنگلہ دیش کی حکومت بھی مذمت کے قابل ہے کہ اس نے پڑوسی ملک کے مسلمانوں کے لئے اپنی سرحدیں بند کردیں ۔ وہیں پر ترک کے صدر نجیب طیب اردغان کو دنیا کے حکمرانوں کو جھنجھوڑنے والا، حوصلہ ، ہمت ، تائید میں آواز بلند کرنے والا حکمران کہا اور تعریف کی ۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ اجلاس جہاں پر احتجاجی ہے وہیں پر احتسابی بھی ہے ۔ ہمیں اس بات پر غور کرنا ضروری ہے کہ ان پر مصیبت آئی ہے مگر ہم بھی ضرور آزمائے جائیں گے ۔ اس جیسے بدترین حالات میں کوئی ایک ہی ایسی نظیر نہیں ملتی کہ وہاں کے مسلمانوں نے ظلم و تشدد سے دل برداشتہ ہوکر کسی نے بھی تبدیلی مذہب یا ارتداد کا شکار نہیں ہوا ۔ یہ ان مسلمانوں کا ایمان کا پیمانہ ہے ۔ جو بچ گئے غازی اور جو مارے گئے وہ شہید ہوئے ۔ مگر اتنے خطرناک حالات میں بھی اپنے ایمان کا سودا نہیں کیا ۔ ہمیں چاہئیے کہ ان سے سبق لیں کہ حالات کیسے ہی نہ ہوجائیں ایمان پر مضبوطی سے ٹھہریں رہیں ۔ سید شاہ غلام افضل بیابانی المعروف خسروپاشاہ نے اس موقع پر اپنا مذمتی پیغام روانہ کیا جو اجلاس میں پڑھ کر سنوایا گیا ۔ سید اظہر الدین سکریٹری مرکز (ایس آئی او) محمد عمر مختار سٹی پریسیڈنٹ (ایس آئی او) نے مخاطب کیا ۔ جناب وہاج الحق نے قرارداد پڑھ کر سنایا جسے سارے افراد نے منظور کیا ۔ صدارتی خطاب میں مولانا محمد فصیح الدین قاسمی کنوینر مسلم پرسنل لاء بورڈ شہر ورنگل نے کہا کہ ملک اور دنیا کے ان حالات میں ہم سارے مسلمانوں کو متحد رہنے کی ضرورت ہے ۔ مسلم نوجوان ہمت اور حوصلہ سے کام لیں ۔ انہوں نے مزید حکومت سے گذارش کی کی کہ جب تک وہاں کے حالات بحال نہیں ہوجاتے روہنگیائی مسلمانوں کو ہمارے ملک میں پناہ فراہم کی جائے ۔ شہر کے مسلمانوں سے اپیل کی کہ جماعت اسلامی ہند اور ہیومن ویلفیر فاؤنڈیشن کی جانب سے روہنگیائی مسلمانوں کو حیدرآباد کے کیمپ میں امداد کی جارہی ہے ۔ آپ تمام سے اس میں حصہ لینے کی گذارش کی ۔ HWF کے کیمپ میں جو امدادی کام ہورہے ہیں اس کی ویڈیو بھی دکھائی گئی ۔ محمد خالد سعید نے افتتاحی کلمات پیش کئے جناب صابر عالم نے کارروائی چلائی ۔ سید احمد صدر ایم پی جے ، یعقوب بیگ ، اعظم بیگ ، اعظم بیگ ، عبدالعلیم ، عبدالقدیر ، عبدالقیوم ، ظاہر نواب نے لوگوں کا استقبال کیا ۔ ایس آئی او کے والنٹرس نے سارے انتظامات بہتر طور پر انجام دیئے ۔ بڑی کثیرتعداد میں شہر کے بااثر لوگ جمع ہوئے ۔ بالخصوص جناب محمد یوسف ، مرزا حسینی بیگ ، سید نبی ، محمد فیض الرحمن شکیل ، محمد وہاج الحق ، برائے مقامی کے علاوہ سید مجاہد احسن ناظم ضلع جے شنکر ڈائس پر موجود تھے ۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT