Tuesday , May 23 2017
Home / سیاسیات / جاٹ طبقہ کے اتحاد سے بی جے پی کیلئے مشکلات

جاٹ طبقہ کے اتحاد سے بی جے پی کیلئے مشکلات

اجیت سنگھ کو نظرانداز کردینے پر زعفرانی پارٹی کے خلاف مہم
نئی دہلی۔/6فبروری، ( سیاست ڈاٹ کام) اجیت سنگھ کو بے عزت کیا ہے ہر پارٹی نے۔ جاٹ سماج اس سے آہٹ ہے۔ مغربی اتر پردیش میں علیگڑھ کے قریب دیہاتیوں نے یہ تبصرہ کیا ہے۔ یہاں پر جاٹ برادری کی غالب آبادی مقیم ہے۔ جاٹوں نے 1960 کے عشرہ سے معاشی اور سیاسی طور پر ترقی کی سمت گامزن ہوئے اور اصلاحات اور اراضیات اور سبز انقلاب کے ثمرات حاصل کرنے لگے اور انہیں چودھری چرن سنگھ اور ان کے فرزند اجیت سنگھ پر اٹوٹ اعتماد ہے۔ حتیٰ کہ سیاسی مخالفین بھی ان کے پرستار ہیں ۔ تاہم یہ سیاسی بھرم مظفر نگر کے فسادات 2013 میں اسوقت ٹوٹ گیا جب مسلمانوں اور جاٹوں میں حالات کشیدہ ہوگئے۔ لیکن اجیت سنگھ اور ان کی پارٹی آر ایل ڈی نے مسلم مخالف موقف اختیار کیا تھا جس کا نتیجہ یہ برآمد ہوا کہ ایک طرف بی جے پی مضبوط ہوگی تو دوسری طرف لوک سبھا انتخابات 2014 میں اجیت سنگھ اور ان کے فرزند جینت چودھری کو مسلم ووٹوں سے محروم ہونا پڑا جس کے باعث پارلیمنٹ میں جاٹ برادری کی نمائندگی گھٹ گئی۔ گوکہ مغربی اتر پردیش کے اضلاع آگرہ، متھرا، علیگڑھ، بلند شہر، میرٹھ، باغپت، شیاملی، مظفر نگر میں جاٹ برادری کی اکثریت ہے اور اجیت سنگھ کی پارٹی راشٹریہ لوک دل کا اثر و رسوخ پایا جاتا ہے۔ اس کے باوجود کسی بھی جماعت نے اجیت سنگھ کے ساتھ انتخابی مفاہمت کے قابل نہیں سمجھا کیونکہ کانگریس ۔ سماجوادی پارٹی کے اتحاد نے آر ایل ڈی کو دور کردیا اور بی جے پی نے بھی ان کو گلے لگانے سے گریز کیا۔ شیاملی کی طاقتور بی جے پی لیڈر سنجیو بلیاں بھی جاٹ طبقہ سے تعلق رکھتے ہیں اور انہیں مرکزی وزیر بنائے جانے کے بعد اجیت سنگھ کا سیاسی قد چھوٹا ہوگیا ہے تاہم جاٹ برادری نے بی جے پی کی سیاسی چالوں کا ادراک کرلیا ہے اور یہ معلوم ہوگیا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے کسی طرح جھوٹے خواب بتاکر انہیں دھوکہ دیا ہے۔ اسمبلی انتخابات کی مہم میں یہ نعرہ لگایا جارہا ہے کہ بی جے پی کسان ورودھی ہے کیونکہ یہ بنیا پارٹی ہے۔ دوسری طرف جاٹ برادری کا مطالبہ کیا کہ مرکزی حکومت کی دیگر پسماندہ طبقات( بی سی ) فہرست میں ریزرویشن مختص کیا جائے اور اس مقصد کیلئے پشپال ملک کی زیر قیادت اکھل بھارتیہ ارکھشنا سمیتی جدوجہد کررہی ہے۔ جاٹ برادری نے اس بات میں انہیں نظر انداز کردینے پر دوبارہ اجیت سنگھ کی قیادت میں متحد ہوگئی ہے جو کہ بی جے پی کیلئے خطرہ کی گھنٹی ثابت ہوسکتی ہے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT