Sunday , October 22 2017
Home / مذہبی صفحہ / جبراً طلاق کا حکم

جبراً طلاق کا حکم

سوال : کیافر ماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ بکر نے ایک طلاق نامہ اپنے کسی دوست سے لکھوایاکہ ’’ میںآج روبرو گواہان اپنی بیوی خالدہ کو طلاق دیدیا ہوں طلاق، طلاق ، طلاق، اور اس پر جبراً  اپنے بھائی سے جوہندہ کا شوہرہے اور اس کا نام عمرو ہے دستخط لے لی۔ عمرو کا بیان ہے کہ اس نے نہ تو خود طلاق نامہ کوپڑھا اور نہ اس کوپڑھ کر سنایا گیا اگر وہ دستخط نہ کرتا تو مار پیٹ کا اندیشہ تھا۔ ایسی صورت میں شرعا طلاق واقع ہوگی یا نہیں ؟
جواب :  بشرط صحت سوال وصدق بیان مستفتی صورت مسئول عنہا میں عمرو نے نہ طلاق نامہ لکھا اور نہ لکھوایا بلکہ جس طرح طلاق نامہ پراس کی دستخط حاصل کی گئی اس کی تحریر سے اسکوباخبربھی نہیں کیاگیا۔ طلاق نامہ کے مضمون سے لاعلم رکھ کر صرف شوہر کی دستخط حاصل کی گئی تو شرعا اس سے کوئی طلاق واقع نہیںہوگی اور دونوں میں زوجیت کا تعلق حسب سابق قائم ہے۔ ردالمحتار جلد ۲ ص ۶۶۲ میں ہے:  کل کتاب لم یکتبہ بخطہ ولم یملہ بنفسہ ولم یقر أنہ کتابہ لا یقع الطلاق۔
تجارت میں حصہ
سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید یونٹ ٹرسٹ آف انڈیا کے حصص {شیرز} خریدنا چاہتا ہے جنکی قیمت بڑھتی گھٹتی رہتی ہے یعنی تجارتی کاروبار میں نفع نقصان کے سبب کبھی شیرز کی رقم سے بڑھ کر منافعہ ملتا ہے۔ نقصان کی صورت میں اصل رقم بھی گھٹ جاتی ہے اور خریدار حصص کو نقصان برداشت کرنا پڑتاہے۔ ہرسال منافعہ خریدار کو نقد ادا کیا جاتا ہے اور اگر خریدار حصص خواہش کرے تو اس کو حصہ میں شامل کرلیا جاتا ہے۔ یہ سرکاری ادارہ ہے۔
ایسی صورت میں ان شیرز کی خریدی شرعاً جائز ہوگی یا نہیں  ؟
جواب : ایک یا کئی افراد کی رقم اور دوسرے شخص کی محنت سے تجارت کی جاتی ہے اورنفع و نقصان میں سب برابر کے شریک رہتے ہیں تو شرعاً اس کو ’’مضاربت‘‘ کہتے ہیں۔ ایسی تجارت کے لئے رقم لگانے میں شرعاً کوئی امر مانع نہیں ہے۔  المضاربۃ فی عقد شرکۃ فی الربح بمال من أحد و عمل من آخر۔ شرح وقایہ جلد ۳ ۔
امامت ِ غیر مقلد
سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید شہر کی جامع مسجد میں کوئی عرصہ دوسال سے وعظ و خطابت جمعہ و عیدین اور امامت کی خدمات ادا کررہا ہے۔ زید کے غیر مقلد ہونے کی وجہ مصلیان مسجد متفقہ طور پر زید کو امامت و خطابت سے علحدہ کرنا چاہتے ہیں۔
ایسی صورت میں شرعًا کیا حکم ہے  ؟
جواب :  ائمہ اربعہ کے مقلدین کیلئے یہ جائز نہیں کہ وہ کسی غیر مقلد کی اقتداء میں نماز ادا کریں۔ قد وقع الاجماع علی أن الاتباع اِنما یجوز للأربع فلا یجوز الاتباع لمن حدث مجتھدًا مخالفاً لھم۔ تفسیر احمدی اور الاشباہ والنظائر میں ہے ومن خالف الأئمۃ الأربعۃ فخالف الاِجماع۔
پس صورت مسئول عنہا میں زید کو غیر مقلد ہونیکی وجہ مصلیان جامع مسجد امامت و خطابت سے علحدہ کرنا چاہتے ہیں تو ان کو اس کا حق ہے بلکہ وہ زید کو مسجد میں آنے سے بھی منع کرسکتے ہیں۔ درمختار مطبوعہ محمدی کے ص ۱۰۲ میں ہے : ویمنع منہ وکذا کل موذٍ فلو بلسانہ اور اسی صفحہ میں ہے بل و لأھل المحملۃ منع من لیس منھم عن الصلاۃ فیہ۔                              فقط واﷲ أعلم

TOPPOPULARRECENT