Tuesday , September 26 2017
Home / مضامین / جب مسلمان کو ڈرنا ہی نہیں سکھایا گیا تو …

جب مسلمان کو ڈرنا ہی نہیں سکھایا گیا تو …

انجلی شرما
ترجمہ : صفورہ نزہت

جب مسلمانوں کو ڈرنا سکھایا ہی نہیں گیا تو تم انہیں ڈراؤگے کیسے ؟ آج دنیا بھر میں اسلام اور مسلمانوں پر حملے ہورہے ہیں، مختلف گروپس اپنے ایجنڈے کی تکمیل کی خاطر مذہب اسلام اور مسلمانوں کے خلاف الزامات عائد کر رہے ہیں۔ اسلام کے دشمن اور ملک کے غدار بعض اوقات سوریہ نمسکار کے نام پر مسلمانوں کواسلام کے راستے سے ہٹانے کی کوشش کر رہے ہیں یا بعض اوقات مدرسوں کو یہ الزام لگاتے ہوئے نشانہ بنارہے ہیں کہ وہ دہشت گرد تیار کر رہے ہیں اور بعض اوقات مارنے کاٹنے والے ہجوم آدھمکتے ہیں تاکہ مسلمانوں کو خوفزدہ کیا جاسکے اور ان میں احساس کمتری پیدا کیا جاسکے ۔ یہ عناصر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر عمل کرنے والوں کا یہ کہتے ہوئے مذاق اڑاتے ہیں کہ یہ داڑھی والے جہادی اور ملک کے غدار ہیں۔ مسلمانوں کو حیران پریشان کرنے کے مقصد سے دشمنان اسلام انہیں ہراساں کرتے ہیں۔ گالی گلوج کی جاتی ہے ، ان کا مقصد و منشا یہ ہوتا ہے کہ قرآن اور اپنے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے منحرف ہوجائیں۔ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ جب مسلمان خود اپنے مذہب سے منحرف ہوجائیں تب وہ بے یار و مددگار اور پریشان ہوجائیں گے ۔ مسلمانوں کا صفایا کرنے کی سوچنے سے پہلے تار یخ سے آگاہ ہوجاؤ۔ میں اسلام کے دشمنوں ، انسانیت کے دشمنوں اور ملک کے غداروں سے یہ کہنا چاہتی ہوں کہ مسلمانوں کو ڈرانے دھمکانے اور ان کا صفایا کرنے سے پہلے تاریخ پر نظر ڈالو ، تم سے پہلے بہت آئے اور چلے گئے جو ا سلام اور مسلمانوں کا صفایا کردینا چاہتے تھے لیکن وہ اپنے برے ارادے پورے کرنے میں کبھی کامیاب نہیں ہوسکے۔ غزوہ بدر میں جب مسلمانوں کی تعداد 313 تھی۔ جب حضرت بلال بن رباح رضی اللہ تعالیٰ عنہ شدید مصائب اور مشکلات میں تھے جب انہیں زنجیروں میں جکڑ دیا گیا تھا اور انہیں کوڑے مارے جاتے تھے اور انہیں گرم ریت پر لٹایا جاتا تھا اور ان کے سینے پر پتھر رکھ دیا جاتا تھا اور ان سے کہا جاتا تھا کہ وہ اسلام ترک کردیں لیکن حضرت بلالؓ کی زبان پر احد، احد ہی ہوتا۔ اللہ ایک ہے ، اللہ ایک ہے ۔ حضرت بلال ؓ ظلم زیادتی سے خوفزدہ نہیں ہوئے۔ مصائب اور مشکلات کی پرواہ نہیں کی اور توحید پر ڈٹے رہے۔ بی بی سمیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی زندگی کا جائزہ لو ، اس معمر خاتون کو اذیت پہونچائی گئی ہے ، ابوجہل نے ان پر اسلام چھوڑنے کیلئے شدید دباؤ ڈالا لیکن بی بی سمیہ اسلام پر ڈٹی رہیں۔ ابو جہل نے دھمکایا ، اسلام ترک کردو نہیں تو مار ڈالا جائے گا ۔ بی بی سمیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے جان دے دی مگر اسلام نہیں چھوڑا۔ ہر مسلمان ظلم زیادتی سے ڈرے گھبرائے ہوتے تو وہ باقی نہ رہتے۔ مسلمانوں نے ظلم سے گھبراکر اسلام کبھی نہیں چھوڑا۔ ہندوستان میں ہزارہا فرقہ وارانہ فسادات ہوئے ایک مثال بھی ایسی نہیں پیش کی جاسکتی کہ کسی مسلمان نے جان بچانے کی خاطر ایمان چھوڑا ہو۔ مولانا ابوالکلام آزاد اپنی تقاریر میں کہا کرتے تھے کہ یہ ممکن ہے کہ آگ اور پانی یکجا ہوجائیں لیکن یہ ناممکن ہے کہ ایمان اور خوف یکجا ہوں۔ مسلمانوں کو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دین سے منحرف نہیں کیا جاسکتا۔ وہ دین اسلام کو اپنی جان سے زیادہ عزیز رکھتے ہیں۔ مسلمان سوائے اللہ کے کسی سے نہیں ڈرتا۔ قرآن مجید کی تعلیم یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کے آگے نہیں جھکنا، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم یہی ہے کہ ناانصافی سے ہرگز گھبرانا نہیں، پریشان نہیں ہونا، اگر مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ سے ہٹ کر کسی دوسرے کے آگے جھکنے کی تعلیم ہوتی تو حضرت بلالؓ کو مصائب جھیلنے نہ پڑتے۔ بی بی سمیہؓ شہید نہ ہوتیں۔ مسلمان کسی سے ڈرنے اور کسی کے آگے جھکنے والا نہیں، وہ صرف اللہ رب العزت کے آگے سر بہ سجود ہوتا ہے ۔ تم مسلمانوں سے کہتے ہو کہ تم سے روزگار چھین لیا جائے گا، بھوک پیاس سے انہیں ڈراتے ہو تو جان لو کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم نے پیٹ پر پتھر باندھے ہی سنگباری کا سامنا کیا اور پیر مبارک لہو لہان ہوگئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی پیروی کرنے والوں کے لئے عملی مثال قائم کی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT