Saturday , September 23 2017
Home / مذہبی صفحہ / جب کسی شخص نے اسلام قبول کر لیا

جب کسی شخص نے اسلام قبول کر لیا

عَنْ أَبِي سَعَيْدٍ الْخُدْرِيِّ رضي اللہ عنه قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ ﷲِ صلي اللہ عليه وآله وسلم : إِذَا أَسْلَمَ الْعَبْدُ فَحَسُنَ إِسْلَامُهُ، يُکَفِّرُ ﷲُ عَنْهُ کُلَّ سَيِئَةٍ کَانَ زَلَفَهَا، ثُمَّ کَانَ بَعْدَ ذَلِکَ الْقِصَاصُ : الْحَسَنَةُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا إِلَي سَبْعِ مِئَةِ ضِعْفٍ، وَالسَّيِئَةُ بِمِثْلِهَا إِلاَّ أَنْ يَتَجَاوَزَ ﷲُ عَنْهَا. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَالنَّسَائِيُّ.
’’حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جب کسی شخص نے اسلام قبول کر لیا اور اس کا اسلام خوب نکھرا تو اللہ تعالیٰ اس کی تمام گزشتہ خطائیں معاف فرما دیتا ہے اور پھر اس کے بعد اس کا بدلہ ہے، اس کی ہر نیکی کا بدلہ دس گنا سے سات سو گنا تک ہے اور برائی کا صرف اسی کے برابر ہے اور اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو اس سے بھی درگزر فرما دے۔‘‘
تقدیر پر ایمان لاؤ
عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ رضي اللہ عنه قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ صلي اللہ عليه وآله وسلم فَقَالَ : يَا عَدِيَّ بْنَ حَاتِمٍ، أَسْلِمْ تَسْلَمْ، قُلْتُ : وَ مَا الإِسْلَامُ؟ فَقَالَ : تَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا ﷲُ، وَأَنِّي رَسُوْلُ ﷲِ، وَتُؤْمِنُ بِالْأَقْدَارِ کُلِّهَا، لِخَيْرِهَا وَشَرِّهَا، حُلْوِهَا وَ مُرِّهَا.
رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه وَ الطَّبَرَانِيُّ.
’’حضرت عدی بن حاتم طائی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہِ اقدس میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اے عدی بن حاتم! اسلام قبول کر لو، سلامتی میں رہو گے۔ میں نے عرض کیا : اسلام کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اس بات کی گواہی دو کہ اﷲ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں اور تقدیر پر ایمان لاؤ، خواہ بھلی ہو یا بری، شیریں ہو یا تلخ۔‘‘

TOPPOPULARRECENT