Monday , August 21 2017
Home / ہندوستان / ججس کی قلت زیرتصفیہ مقدمات میں اضافہ کی بنیادی وجہ نہیں

ججس کی قلت زیرتصفیہ مقدمات میں اضافہ کی بنیادی وجہ نہیں

 
نئی دہلی ۔ 10 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) ججس کی قلت کو زیرالتواء مقدمات تعداد میں اضافہ کی ’’اہم وجہ‘‘ سمجھا جاتا ہے، اس تاثر کے برعکس وزارت قانون نے دہلی اور گجرات جیسی ریاستوں کے اعداد و شمار پیش کئے جہاں ججس اور آبادی کا تناسب زیادہ ہونے کے باوجود کئی مقدمات زیرالتواء ہے۔ وزارت قانون نے یہ نوٹ ایسے وقت جاری کیا جبکہ چیف جسٹس آف انڈیا ٹی ایس ٹھاکر نے ججس کی موجودہ  21000 کی تعداد کو بڑھا کر 40,000 ہزار نہ کرنے پر عاملہ کی بے عملی پر تنقید کی تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ زیرالتواء مقدمات کے بوجھ کو کم کرنے کیلئے ججس کی تعداد میں اضافہ  کرنا ضروری ہے۔ وزارت قانون نے ماہرین کے حوالہ سے بتایا کہ عدالت میں زیرالتواء مقدمات میں تاخیر کی اور بھی کئی وجوہات ہیں۔ ان میں کورٹ مینجمنٹ سسٹم کا فقدان، متعدد التواء، وکلاء کی ہڑتال، پہلی اپیل کو قبول کرنا اور رٹ درخواستوں سے متواتر استفادہ اور مقدمات پر نظر رکھنے کیلئے خاطرخواہ نظام کی عدم موجودگی وغیرہ شامل ہے۔ جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق دہلی میں جج ۔ آبادی کا تناسب سب سے زیادہ ہے (یہ ریاست دوسرے مقام پر ہے) اسی طرح گجرات پانچویں مقام پر ہے لیکن اس کے باوجود یہاں زیرتصفیہ مقدمات کی تعداد بھی کافی زیادہ ہے۔ اس کے برعکس ٹاملناڈو اور پنجاب میں جہاں جج اور آبادی کا شہر تناسب کافی کم ہے۔ دیگر ریاستوں کے مقابلہ زیرتصفیہ مقدمات کی تعداد بھی کافی کم ہے۔ وزارت قانون نے نیشنل مشن فار جسٹس ڈیلیوری اینڈ لیگل ریفارمس کیلئے ایک نوٹ تیار کیا ہے جس میں کہا گیا ہیکہ زیرتصفیہ مقدمات کے مسئلہ کو صرف ججس کی قلت سے منسوب کرنا ٹھیک نہیں اور اس سے مکمل تصویر بھی واضح نہیں ہوپاتی۔ اس میں کہا گیا ہیکہ سال 2005ء اور 2015ء کے درمیان ڈسٹرکٹ اور سب آرڈینیٹ عدالتوں میں سالانہ سیول مقدمات کی تعداد کا اگر جائزہ لیا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہیکہ 2005ء میں سیول مقدمات 40,69,073 سے کم ہوکر 2015ء میں 36,22,815 ہوئے ہیں۔ اس طرح 11 فیصد کی کمی واقع ہوئی۔ اسی مدت کے دوران زیرتصفیہ سیول مقدمات کی تعداد 2005ء میں 72,54,145 سے بڑھ کر 2015ء میں 84,056,47 ہوگئی۔ اس طرح 16فیصد اضافہ ہوا۔ یہ بات بھی نوٹ کی گئی کہ 2005ء میں ڈسٹرکٹ اور ذیلی عدالتوں میں ججس کی تعداد 11,682 تھی جو 2015ء میں بڑھ کر 16,070 ہوگئی۔ ججس کی تعداد میں اضافہ اور درج کردہ مقدمات کی تعداد میں کمی کے باوجود زیرتصفیہ سیول مقدمات میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT