Friday , September 22 2017
Home / مضامین / جدید طرز فکر ترقی کی ضمانت

جدید طرز فکر ترقی کی ضمانت

ظفر آغا
برصغیر کا بٹوارہ اس خطہ کے مسلمانوں کی ایک ایسی تاریخی غلطی ہے، جس کے اثرات سے اس پورے خطے کے مسلمان اب تک جوجھ رہے ہیں اور کم از کم فی الحال ایسے کوئی آثار نظر نہیں آتے، جس کی وجہ سے یہ کہا جاسکے کہ اس علاقہ کے مسلمانوں کا مستقبل جلد بدل جائے گا۔ ہندوستانی مسلمان بٹوارہ کے بعد دوسرے درجہ کے شہری بننے کے قریب پہنچ گئے، پاکستان بے معنی جہادی تشدد اور اپنے نظام کی غلامی سے باہر نہیں نکل پا رہا ہے، جب کہ بنگلہ دیش کے مسلمان مذہبی تشدد کا شکار ہیں۔ الغرض مسلم لیگ کی بٹوارے کی سیاست نے پورے برصغیر کے مسلمانوں کو پسماندگی کے ایسے غار میں دھکیل دیا، جس کی تاریکی آج بھی اس کی راہ روکے کھڑی ہے۔
اس کا یہ معنی قطعاً نہیں کہ ایک قوم اگر پسماندگی کا شکار ہو جائے تو پھر وہ کبھی ترقی نہیں کرسکتی۔ چنانچہ ہندو قوم تقریباً ایک ہزار سال پسماندہ رہی، لیکن محض چھ دہائیوں میں وہی قوم آج دنیا کی ایک ترقی یافتہ قوم اور اہم ترین معیشت کی مالک ہے، لہذا یہ ممکن ہے کہ مسلمان بھی ترقی کرسکتے ہیں۔ پاکستان اور بنگلہ دیش اب ایک تاریخی حقیقت ہیں، اس لئے اب یہ وہاں کی لیڈر شپ کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے باشندوں کے لئے ترقی کی راہیں خود تلاش کرے۔ اس وقت ہمارا موضوع ہندوستانی مسلمانوں کے درخشاں مستقبل اور اس کی راہیں تلاش کرنا ہے، اس لئے ہم یہاں ہندوستانی مسلمانوں کے مسائل اور ان کے تدارک پر روشنی ڈالیں گے۔

ہندوستانی مسلمانوں کے مسائل درجنوں ہیں اور ہم آئے دن ان پر آنسو بہاتے رہتے ہیں، مثلاً ہم کو آئے دن کے فسادات نے ایک لامتناہی عدم تحفظ کا شکار بنا دیا ہے۔ ہماری کوئی لیڈر شپ نہیں ہے، مسلمانوں کے ساتھ ملازمتوں کے سلسلے میں سوتیلا سلوک ہو رہا ہے اور مسلمان تعلیمی میدان میں دلتوں سے بھی پیچھے ہوتے جا رہے ہیں۔ یہ ہمارے بنیادی مسائل ہیں، لیکن پچھلے 60 برسوں میں کیا ہم مسلمانوں نے ان تمام مسائل کا حل ڈھونڈا؟۔ اگر آزادی کے بعد سے اب تک ہندوستانی مسلمانوں کی حکمت عملی پر نگاہ ڈالئے تو مسلمانوں نے کبھی کانگریس پارٹی کا دروازہ کھٹکھٹایا اور جب کانگریس نے بابری مسجد جیسے مسئلہ پر دھوکہ دیا تو ریاستی لیڈر چندرا بابو نائیڈو، ملائم سنگھ یادو، مایاوتی، جیوتی باسو اور لالو پرساد یادو جیسے لیڈروں کا سہارا تلاش کیا، جب کہ حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں نے ہر جگہ دھوکہ کھایا۔ ہندوستان کی کسی بھی سیاسی جماعت نے مسلمانوں کی ترقی کے نام پر کچھ نہیں کیا، اگر انھیں کچھ ملا تو محض کسی حد تک فسادات سے نجات ملی اور مسلمانوں کو کچھ تحفظ مل گیا۔
لیکن کیا کسی قوم کی قسمت کوئی حکومت بناتی ہے؟۔ اگر حکومتیں قوموں کی قسمت سنوارتی ہوتیں تو اس ملک کے دلت آزادی کے 60 برس بعد آج سب سے زیادہ ترقی یافتہ ہوتے، کیونکہ دلتوں کو تعلیم سے لے کر نوکریوں تک ہر جگہ 25 فیصد تحفظات میسر ہیں، لیکن دلتوں کی 95 فیصد آبادی آج بھی اچھوتوں کی زندگی گزار رہی ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ یہ قوم اپنی ترقی کے لئے ہر وقت حکومت کی جانب دیکھتی رہتی ہے اور کچھ ایسی ہی غلطی ہندوستان کے مسلمان بھی کر رہے ہیں۔ آزادی کے وقت بٹوارے کی غلطی اور پھر اس کے بعد زندگی کے ہر شعبہ میں خود کو حکومت کا محتاج سمجھنا، ہندوستانی مسلمانوں کی دوسری تاریخی غلطی ہے۔

حکومتیں کسی قوم کا مقدر نہیں بناتیں، بلکہ زندہ قومیں حکومتوں کا مقدر بناتی اور بگاڑتی ہیں۔ آج ہندوستانی ہندوؤں میں سب سے ترقی یافتہ قوم برہمن ہے، جب کہ آبادی کے اعتبار سے ان کا تناسب مسلمانوں سے کم ہے۔ لیکن ہر ہندوستانی جانتا ہے کہ مرکز میں کسی بھی پارٹی کی سرکار کیوں نہ بنے، اس کی چابی برہمنوں کے پاس ہوتی ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ وہ حکومتوں کے محتاج نہیں ہیں، بلکہ حکومتیں برہمنوں کی محتاج ہیں، یعنی حکومتیں اس لابی کے حق میں کام کرتی ہیں، جن سے وہ خوف زدہ ہوتی ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ آخر ہندوستانی برہمن اس مقام تک کس طرح پہنچے کہ آج وہ حکومتوں سے نہیں بلکہ حکومتیں ان سے خوف زدہ رہتی ہیں؟۔ اگر آپ ہندوستانی برہمنوں کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو یہ گتھی سمجھ میں آجائے گی۔ 1857ء تک ہندوستانی برہمن اس ملک کے مسلمانوں سے پسماندہ تھے۔ انگریزوں کی حکومت قائم ہونے کے بعد ان کو یہ احساس ہوا کہ وہ پسماندہ ہیں، لہذا انھوں نے اپنی پسماندگی دور کرنے کے راستے تلاش کئے۔ برہمنوں کو یہ بات بہت جلد سمجھ میں آگئی کہ زمانہ بدل چکا ہے اور انگریز جس نظام تعلیم، نظام سیاست اور نظام معیشت کو لے کر آئے ہیں، وہی دور حاضر کی ترقی کے راستے ہیں۔ اب ان کے سامنے یہ سوال تھا کہ اس نظام کو پورے برہمن سماج میں کس طرح قبول کروایا جائے؟۔ اس کام کے لئے انھوں نے سب سے پہلے اپنے سماج میں تبدیلی کی بحث چھیڑی۔ راجہ رام موہن رائے کے برہمو سماج سے لے کر گوکھلے، گاندھی، ٹیگور اور نہرو جیسے درجنوں لیڈر پیدا ہوئے، جنھوں نے ہندو سماج میں انگریزی تہذیب سے ہم آہنگی پیدا کرنے کے لئے محض سیاسی میدان میں ہی نہیں، بلکہ سماجی میدان میں بھی نئی روشنی پیدا کرنے کے لئے جدوجہد کی۔ جس کے بعد ہندوؤں بالخصوص برہمن سماج میں جدید فکر اور جدید ذہن پیدا ہوا، جس نے ترقی کے جدید ادارے قائم کرکے آج خود کو برہمنوں نے اس مقام پر پہنچادیا کہ اب وہ حکومتوں کی قسمت بنا رہے ہیں۔ لہذا مسلمانوں کو اگر صحیح معنوں میں ترقی کرنی ہے تو ان کو پہلے اپنا طرز فکر بدلنا ہوگا، یعنی یہ خیال ترک کرنا ہوگا کہ وہ ترقی کے لئے حکومت کے محتاج ہیں۔

لیکن مسلمانوں کا طرز فکر آخر کس طرح بدلے؟۔ اس کے لئے وہی کرنا ہوگا، جو برہمنوں نے کیا، یعنی مسلم معاشرہ میں پہلے یہ بحث ضروری ہے کہ آخر ہماری کمزوری یا ہماری سماجی برائیاں کیا ہیں؟۔ دراصل قدیم برہمن سماج کی طرح آج کا مسلمان بھی سماجی سطح پر قدامت پسندی کا غلام ہے۔ مسلمانوں کی سماجی، سیاسی اور معاشرتی قدریں آج بھی وہی ہیں، جو آج سے دو سال قبل تھیں۔ افسوس یہ ہے کہ ایک خاص گروہ نے ان قدامت پسند قدروں کو اسلام کا جامہ پہنا دیا۔ ان کے خلاف اگر کوئی آواز اٹھتی ہے تو فوراً کفر کا فتویٰ صادر کردیا جاتا ہے۔

اسی طرح دور حاضر کی سیاست محض سیکولر سیاست کہی جاسکتی ہے، ہم بی جے پی کے راج میں تو سیکولرازم کی ڈفلی بجاتے ہیں، لیکن اگر کہیں کوئی دہشت گرد اسلامی حکومت کی آواز بلند کرتا ہے تو ہم اس کی مذمت اس طرح نہیں کرتے، جس طرح آر ایس ایس کی کرتے ہیں۔ ایسی دسیوں مثالیں دی جاسکتی ہیں۔ لب لباب یہ کہ سماجی سطح پر مسلم معاشرہ صرف قدامت پرستی کا ہی شکار نہیں ہے، بلکہ اس کو اصل مذہب تسلیم کر بیٹھا ہے۔ جب تک یہ طرز فکر برقرار رہے گا، اس وقت تک مسلمان بد سے بدتر حالات کا شکار ہوتے جائیں گے۔ لہذا مسلمانوں کو اپنا طرز فکر بدلنے کی ضرورت ہے اور یہ جدید طرز فکر اسی وقت ممکن ہوگا، جب مسلم معاشرہ میں جدید روشنی کے ذریعہ ترقی کا راستہ تلاش کرنے کی جستجو پیدا ہوگی۔ جس دن مسلمان اس راستے پر گامزن ہو گئے، اس روز سے حکومتیں ان کا مقدر نہیں، بلکہ وہ خود حکومتوں کا مقدر بنائیں گے۔

TOPPOPULARRECENT