Saturday , September 23 2017
Home / شہر کی خبریں / جدید ہاسپٹلس قدیم بیڈس، دواخانہ عثمانیہ کے مریضوں کی پیٹلہ برج منتقلی

جدید ہاسپٹلس قدیم بیڈس، دواخانہ عثمانیہ کے مریضوں کی پیٹلہ برج منتقلی

l 200 مریض 40 ڈاکٹرس ، عنقریب منتقلی کے اقدامات
l عثمانیہ دواخانے کی قدیم عمارت مخدوش حالت میں
l جدید ہاسپٹل میں مسائل کا استقبال
l پرانے پھٹے گدے اور ٹوٹے بیڈس
l مریضوں کو انفکشن ہونے کا خدشہ ، انتظامات پر تنقیدیں

حیدرآباد ۔ 21 ۔ جولائی : ( سیاست نیوز ) : قدیم عمارت دواخانہ عثمانیہ میں زیر علاج مریضوں کی منتقلی کے انتظامات کئے گئے ہیں ۔ یہاں سے 200 مریض 40 ڈاکٹرس اور دیگر عملہ کو پیٹلہ برج ہاسپٹل کی چوتھی منزل پر منتقل کیا جائے گا ۔ مریضوں کے لیے بیڈس ، گدے ، بلانکٹس ، ٹرالیس ، ویل چیئرس اور دیگر ساز و سامان منتقل کیا گیا ہے اور دو تین دن کے عرصہ میں مریضوں کو بھی منتقل کیا جائے گا مگر عثمانیہ کے مریضوں کو قدیم دواخانہ سے جدید دواخانہ میں منتقل ہونے کے باوجود مسائل کا سامنا ہے ۔ جدید ہاسپٹل میں بھی مریضوں کا پھٹے پرانے گدے ، ٹوٹے ہوئے بیڈس ، قدیم پھٹی ہوئی چادریں استقبال کررہی ہیں ۔ جن پر سونے سے مریضوں کو انفکشن ہونے کے شدید خدشات پائے جاتے ہیں جس کی وجہ سے مریض اور زیادہ بیمار ہونا یقینی بات ہے ۔۔
200 بیڈس کی منتقلی
حکومت عثمانیہ کے دور میں اس وقت کے حکمراں نظام میر عثمان علی خاں نے 1910 میں عثمانیہ عوامی دواخانہ کی تعمیر کی تھی جہاں 700 مریض زیر علاج ہوتے ہیں اور یہ عمارت تاریخی عمارتوں میں شمار ہونے کے باوجود عرصہ دراز سے عمارت کے مرمتی کام انجام نہیں دئیے گئے جس کی وجہ سے عمارت بے حد خستہ حالت میں ہے 1168 بیڈس پر مشتمل اس دواخانہ کی چھت منہدم ہوتی جارہی ہے جس کی وجہ سے مریضوں کے ساتھ ساتھ ڈاکٹرس بھی زخمی ہونے کے واقعات رونما ہوچکے ہیں ۔ سابقہ دنوں میں چیف منسٹر کے سی آر نے دواخانہ کا دورہ کرنے کے بعد کہا تھا کہ عمارت کو خالی کر کے اس جگہ پر عصری سہولیات سے آراستہ عمارت تعمیر کی جائے گی مگر یہ عمارت تاریخی ہونے کی وجہ سے آثار قدیمہ کے عہدیداران تاریخ نویس اور اپوزیشن پارٹیوں کی جانب سے مخالفت کی جانے پر حکومت نے خاموشی اختیار کی ۔ اور اس عمارت کو منہدم کیے بغیر اس کے قریب خالی زمین پر جوڑی ٹاورس تعمیر کرنے کا اعلان کیا اور اس تعمیر کے لیے گذشتہ بجٹ میں 200 کروڑ روپئے مختص کیے گئے اور 50 کروڑ روپئے جاری بھی کئے گئے ہیں ۔ بلڈنگ کی پلاننگ بھی کی گئی ہے مگر ابھی اس عمارت کی تعمیر ہونے امکانات موہوم نظر آتے ہیں ۔۔
مسلسل بارش کی وجہ سے مسائل میں اضافہ
حالیہ لگاتار بارش کی وجہ سے تیسری اور چوتھی منزل میں زیر علاج مریضوں کو نیچے کی وارڈس میں منتقل کیا گیا اور ان وارڈس میں جگہ کی کمی کی وجہ سے مریضوں کو زمین ، کھڑکیوں اور سیڑھیوں پر ہی رہتے ہوئے علاج کروانا پڑرہا ہے ۔ یہ حالات مریضوں کے ساتھ ساتھ ڈاکٹرس کے لیے بھی پریشانی کا باعث ہیں ۔ عہدیداران نے ان حالات میں مریضوں کے علاج کے لیے ہونے والے دشوار کن مسائل کے مد نظر پیٹلہ برج سرکاری دواخانے کی چوتھی اور پانچویں منزل پر 6 کروڑ کی لاگت سے متبادل انتظامات کئے ہیں اور ان منزلوں میں عصری سہولیات سے آراستہ آپریشن تھیٹرس کے ساتھ وارڈس میں آکسیجن پائپ لائن اور دیگر ضروری سہولیات فراہم کی گئی ہیں ۔ مگر جدید ہاسپٹل میں قدیم بیڈس کی منتقلی کی وجہ سے تنقیدیں کی جارہی ہیں ۔۔
عنقریب عمارت کا سنگ بنیاد
عثمانیہ دواخانہ کی قدیم عمارت کے قریب قلی قطب شاہ عمارت کے درمیان نرسنگ کالج بلڈنگ اور اس سے متصل میڈیکل شاپ ، کیانٹین کو منہدم کر کے G+7 عمارت کو تعمیر کرنے کا عہدیداران نے فیصلہ کیا ہے ۔ اور اس عمارت کا ڈیزائن بھی تیار کیا گیا ہے اور اس کی تعمیر کے لیے ٹی ایس ایم آئی ڈی سی نے بین الاقوامی کمپنیوں سے ٹنڈرس طلب کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ متعینہ وقت پر اس عمارت کی تعمیر تکمیل ہونے پر مریضوں کے لیے بہترین سہولیات کے ساتھ ساتھ کارڈیالوجی ، نفرالوجی ، یورالوجی ، ٹراماکیر ، گیاسٹروینٹارجی جیسے اہم علاج ایک ہی بلڈنگ میں دستیاب رہیں گے ۔ فی الحال ان پیشنٹس کے لیے استعمال کی جارہی وارڈ کو نرسنگ طالبات کے لیے مختص کر کے اب تک زیر علاج مریضوں کو جدید عمارت میں منتقل کرنے کے امکانات ہیں ۔۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT