Saturday , October 21 2017
Home / Top Stories / جدید ہندوستان کی پسماندگی۔ارونا چل پردیش میںعہد قدیم کی واپسی

جدید ہندوستان کی پسماندگی۔ارونا چل پردیش میںعہد قدیم کی واپسی

کرنسی نوٹ دستیاب نہ ہونے پر اشیاء کے عوض اشیاء کا تبادلہ

حیدرآباد۔15نومبر (سیاست نیوز) ملک میں جاری کرنسی بحران نے معاشرے کو زمانہ قدیم کی طرف دھکیل دیا ہے اور لوگ اشائے کے بدلے اشیاء حاصل کرنے والے دور میں پہنچ چکے ہیں جب کرنسی نہیں ہوا کرتی تھی۔ ملک کے مختلف دیہی علاقوں میں جہاں اب تک کرنسی نہیں پہنچ پائی ہے ان علاقوں میں لوگ اپنے پاس موجود اشیائے ضروریہ کے عوض میں اشیاء حاصل کر رہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ اروناچل پردیش کے گاؤں میچوکا میں جہاں اسٹیٹ بینک آف انڈیا کی صرف ایک برانچ موجود ہے میں تاحال کرنسی نوٹ نہیں پہنچ پائے ہیں جس کی وجہ سے لوگ ترکاریوں اور اجناس کے علاوہ تیل ‘ دال وغیرہ کے ذریعہ اشیاء حاصل کر رہے ہیں۔ ملک کے شمال مشرقی حصہ میں آج بھی لوگ ایسے ہی زندگی گذارنے پر مجبور ہیں کیونکہ اس خطہ میں اب تک بھی ریزرو بینک آف انڈیا کی جانب سے جاری کردہ نوٹ نہیں پہنچ پائے ہیں اور عوام ان کے حصول کیلئے روزانہ قطار میں کھڑے ہو رہے ہیں

لیکن اب سرحد کے قریب کے ان علاقوں میں جہاں دیہی آبادیاں ہیں وہ ضروریات زندگی کیلئے شہروں کا رخ کرنے کے بجائے اپنے ہی علاقوں میں قدیم دور میں داخل ہوتے ہوئے اشیاء دے اور لے رہے ہیں۔ ملک کے اس حصہ میں عوام کا درپیش مشکلات کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ گذشتہ 5یوم کے دوران انہیں کرنسی کے نام پر ایک نوٹ بھی حاصل نہیں ہوئی ہے لیکن 500اور1000کے نوٹوں کا چلن یکسر بند کردیا گیا جس کی وجہ سے تاجرین بھی ان کرنسی نوٹوں کو کو حاصل کرنے سے منع کر رہے ہیں بلکہ ان کے پاس موجود اشیاء کے عوض دیگر اشیاء کے حصول کے لئے تیار ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ تیل رکھنے والے تاجرین اپنے تیل کو فروخت کرنے کیلئے چاول حاصل کر نے لگے ہیں اور جن کے پاس چاول موجود ہے وہ اس کے ذریعہ اپنی ضروریات کی چیزیں خرید رہا ہے ۔ ترکاری رکھنے والے دیہی عوام جن کے پاس ترکاری موجود ہے وہ دال اور دیگر اشیاء کے عوض اس کی فروخت کر رہے ہیں۔ شمال مشرق کے دیہی علاقوں میں جاری یہ طریقہ کار مزیدکچھ دنوں تک جاری رہنا مشکل ہے کیونکہ اگر ان دیہی علاقوں میں موجود اجناس‘ دالوں‘ تیل‘ آٹا‘ دیگر اشیائے ضروریہ کا ذخیرہ ختم ہوجاتا ہے تو ایسی صورت میں انہیں شہروں کا رخ کرتے ہوئے دوبارہ ان اشیاء کی خریداری کرنی پڑے گی لیکن ان کے پاس یہ اشیاء خریدنے کیلئے کرنسی موجود نہیں ہے۔

بتایا جاتا ہے کہ جن علاقوں کی ایسی حالت ہے ان علاقوں کے متعلق تفصیلی رپورٹ تیار کی جا رہی ہے تاکہ فوری طور پر انہیں کرنسی پہنچانے کے اقدامات کو یقینی بنایا جا سکے۔ شمال مشرق کے علاقوں میں جاری اس صورتحال کے متعلق عوام کا کہنا ہے کہ دیہی علاقوں میںہی ایسا ممکن ہوگا کہ لوگ اپنے پاس موجود اشیاء کے عوض دوسرے کی مساوی قیمت کی اشیاء حاصل کرتے ہوئے اپنی اور دوسروں کی ضرورت کی تکمیل کر سکتے ہیں لیکن شہری علاقوں میں یہ رجحان نہیں ہو سکتا۔ حکومت ہند کی جانب سے چین کی سرحد کے قریب موجود ان علاقوں کے عوام کو محکمہ دفاع کی خدمات حاصل کرتے ہوئے ان علاقوں تک کرنسی پہنچائی جائے گی۔ 8نومبر کی شب حکومت کے اعلان کے بعد پیدا شدہ صورتحال سے متاثر ابھی ایسے کئی گاؤں ہیں جو سنبھل نہیں پائے ہیں۔اے ٹی ایم سے محروم دیہی علاقوں کی حالت بھی انتہائی ابتر ہے جہاں صرف بینک کے ذریعہ رقومات حاصل کرنے کی گنجائش ہے ان علاقوں میں چھوٹے تاجرین اور عوام کو کئی تکالیف کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جس کی وجہ سے وہ بھی اشیاء کے عوض اشیاء کے حصول میں مصروف ہیں تاکہ ان حالات سے نمٹنے تک ایک دوسرے کا سہارا بن سکیں۔

TOPPOPULARRECENT