Sunday , June 25 2017
Home / اضلاع کی خبریں / جذباتی تقاریر سے مسلمانوں کی معاشی پسماندگی دُور نہیں ہوسکتی

جذباتی تقاریر سے مسلمانوں کی معاشی پسماندگی دُور نہیں ہوسکتی

مجلس نے تحفظات کی مخالفت کی تھی ، اقلیتوں کی تعلیم و روزگار کیلئے کانگریس کے ٹھوس اقدامات : محمد علی شبیر
کاماریڈی۔16 فروری ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) کانگریس کے دور میں ہی مسلمانوں کی فلاح بہبودی کیلئے کئی ایک اقدامات کرتے ہوئے انہیں تعلیم اور روزگار سے آراستہ کرنے کیلئے اقدامات کئے گئے ان خیالات کا اظہار قانون ساز کونسل کے اپوزیشن لیڈر محمد علی شبیر نے آج اپنی قیام گاہ اقلیتوں کے ایک بڑے اجلاس سے مخاطب کرتے ہوئے کیا ۔ سینئر کانگریس قائد ین محمد ماجد اللہ ، محمد مقصود، محمد معز اللہ کی قیادت میں آج ایک وفد نے محمد علی شبیر سے ملاقات کی اور انہیں سالگرہ کی مبارکباد پیش کی ۔ اس موقع پر محمد علی شبیر نے اقلیتی قائدین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس ایک سیکولر جماعت ہے اور یہ ہمیشہ مسلمانوں کی ترقی کیلئے کوشاں رہی ہے جبکہ مجلس اتحاد المسلمین مسلمانوں کے ساتھ زبانی ہمدردی کے سواء کوئی بھی ٹھوس کام نہیں کیا ۔ صدر مجلس اسد الدین اویسی تحفظات کی مخالفت کی تھی اور اس کا ثبوت بھی میرے پاس موجود ہے کہتے ہوئے اپنے فون میں موجوداسد الدین اویسی کے ویڈیو کلپ کو بتایا اور کہا کہ مجلس ہمیشہ مسلمانوں کو جذباتی تقریر سے خوش کرنے کے سوا ء کوئی کام نہیں کیا جذباتی تقریر سے ووٹ حاصل کیا جاسکتا ہے۔ مسلمانوں کی معاشی پسماندگی دور نہیں ہوسکتی ،مسلمانوں کو معاشی طور پر مستحکم کرنے کیلئے انہیں روزگار کا موقع فراہم کرنا ضروری ہے اور تعلیم سے ہی ہر چیز حاصل ہوسکتی ہے ۔ تعلیمی میدان میں مسلمانوں کو آگے بڑھانے کیلئے چار فیصد تحفظات فراہم کئے گئے جس کی وجہ سے 4لاکھ طلباء و طالبات کو فائدہ حاصل ہوا اور 4لاکھ طلباء کو حصول تعلیم کے بعد روزگار حاصل ہوئے ۔ قدیم شہر کے بیشتر نوجوان آج بھی روزگار نہ ہونے کی وجہ سے پریشان ہیں اور اپنے روایتی کاروبار میں ہی مصروف ہیں کانگریس پارٹی مسلمانوں کو ہرشعبہ میں آگے بڑھانا چاہتی ہے انہوں نے کہا کہ کانگریس کے دور میں ہی دینی مدارس پر کئے جانے والے الزامات کو دور کرنے کیلئے اقدام کئے گئے ۔مدارس میں پولیس عہدیداروں کو جلسوں میں طلب کیا گیا اور بتایا گیا کہ دینی مدارس امن کے گہوارہ ہیں اور یہاں پر اسلام کی تعلیم دی جاتی ہے دینی مدارس میں کسی قسم کی دہشت گردی سے وابستہ سرگرمیاں نہیں چلائے جانے کے پیغام کو عام کیا گیا اس کے علاوہ کمپیوٹر کی تعلیم سے دینی مدارس کے طلباء کو آراستہ کرنے کیلئے کمپیوٹر فراہم کئے گئے اور کمپیوٹر انسٹراکٹر س کا بھی انتظام کیا گیا اور حکومت کی جانب سے تنخواہ بھی ادا کی گئی اور آر وی ایم کی جانب سے مڈڈے مل کی سہولت بھی فراہم کی گئی مسٹر شبیر علی نے کہا کہ مسلمان جذباتی تقاریر کے بہکائو میں نہ آئیں اور منصوبہ طریقہ سے آگے بڑھیں تاکہ مسلمانوں کی سیاسی ، سماجی و معاشی ترقی ہوسکے ۔ انہوں نے مسلمانوں سے خواہش کی کہ تحفظات کے حصول کیلئے جدوجہد کریں اور تحفظات کے حاصل سے تعلیمی اور ملازمتیں حاصل کریں۔ اس موقع پر صدر جامع مسجد میر فاروق علی نے اپنی تقریر میں کہا کہ کانگریس کے دور میں مسلمانوں کو تحفظات فراہم کئے گئے تھے اور تحفظات کی وجہ سے ہر سال طلباء کو تعلیمی میدان میں آگے بڑھنے کا موقع حاصل ہورہا ہے کاماریڈی کی ترقی میں مسٹر شبیر علی کی کارکردگی اہمیت کی حامل ہے انہوں نے آبی سہولتیں فراہم کرنے میں اہم رول ادا کیا اور اس بات کا اعتراف خود چیف منسٹر مسٹر چندر شیکھر رائو نے کونسل میں کیا تھا ۔ اس موقع پر محمد ماجد اللہ ، محمد مقصودایڈوکیٹ، میر امتیاز علی سابق رکن ریاستی حج کمیٹی عبدالواجد ، محمد معز اللہ صدر منڈل اقلیتی کانگریس کے علاوہ دیگر بھی موجود تھے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT