Monday , August 21 2017
Home / Top Stories / جرمنی میں کئی مسلم پناہ گزین عیسائی بننے پر مجبور

جرمنی میں کئی مسلم پناہ گزین عیسائی بننے پر مجبور

ایران اور افغانستان کے ترک وطن کرنے والے سینکڑوں مسلمانوں کے مذہب کو خطرہ

برلن ۔ 5 ۔ ستمبر : ( سیاست ڈاٹ کام ) : جرمنی میں کئی مسلم پناہ گزین عیسائی بننے پر مجبور ہیں ۔ ایران اور افغانستان کے ترک وطن کرنے والے سینکڑوں مسلمانوں کو اس ملک میں پناہ دینے کے عوض عیسائیت قبول کرنے کے لیے مجبور کیا جارہا ہے ۔ایران کے شہری محمد علی کو برلن کی ایک چرچ میں پادری گوٹفریڈ مارٹنس نے مذہب عیسائیت میں شامل کرنے کی رسم پوری کرائی ۔ پادری نے چرچ میں جمع افراد کے درمیان محمد علی پر پانی چھڑکا اور اس کا نام محمد سے مارٹن رکھاگیا ۔ ایران کے شہر شیراز کے محمد علی ایک کارپینٹر ہے ۔ پناہ حاصل کرنے کے خواہاں ہیں انہیں اپنے مذہب اسلام سے دور ہو کر عیسائیت قبول کرنے کے لیے مجبور ہونا پڑرہا ہے ۔

اتوار کے دن مزید کئی افغانی اور ایرانی شہریوں کو مذہب عیسائیت میں شامل کیا جائے گا ۔ ہزاروں پناہ گزینوں کو اپنی سرحدیں کھولدینے والے ممالک جرمنی اور آسٹریا نے بتایا جاتا ہے کہ ان مسلمانوں کو مذہب اسلام سے لاتعلقی اختیار کرنے اور عیسائی قبول کرنے کی ترغیب دیتے ہوئے پناہ دینے کی شرط رکھی ہیں ۔ اگر یہ درست ہے تو پھر عالم اسلام کے لیے افسوسناک خبر ہے ۔ محمد سے مارٹن بن جانے والے ایرانی شہری نے کہا کہ لوگ اپنے ملکوں کو خیر باد کہہ کر جرمنی اور دیگر یوروپی ممالک میں پناہ لینا چاہتے ہیں ۔ میں ان تمام کو یہاں آنے کی ترغیب دے رہا ہوں تاکہ وہ اپنی زندگی سکون سے گذار سکیں ۔ افغانستان میں جنگ کی تباہ کن صورتحال ہے تو ایران اور دیگر بڑی اعلیٰ ملکوں میں معاشی بدحالی نے شہریوں کو مایوس کررہا ہے ۔ تاہم جن لوگوں کے تعلق سے مذہب عیسائیت قبول کرلینے کی اطلاع دی گئی ہے انہوں نے از خود کھل کر یہ نہیں کہا کہ انہوں نے پناہ حاصل کرنے کی خاطر اپنا مذہب ترک کیا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT