Sunday , August 20 2017
Home / Top Stories / جرمنی کے ایک تجارتی مرکزپر حملہ، 10 ہلاک

جرمنی کے ایک تجارتی مرکزپر حملہ، 10 ہلاک

برلن۔ 23 جولائی ۔(سیاست ڈاٹ کام) جرمنی کے شہر میونخ کے ایک شاپنگ سینٹر میں فائرنگ کے واقعے میں حملہ آور سمیت 9 افراد ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہوگئے۔میونخ کے پولیس چیف ہوبرٹس اینڈرئی کے مطابق میونخ کے اولمپیا شاپنگ سینٹر میں حملہ کرنے والا 18 سالہ نوجوان ایرانی نژاد جرمن تھا، جس نے حملے کے بعد خودکشی کرلی۔ 18 سالہ حملہ آور، جس کی لاش شاپنگ مال کے قریب سڑک سے ملی، کی شناخت نام سے ظاہر نہیں کی گئی اور نہ ہی وہ پولیس کو اس سے قبل کسی کیس میں مطلوب تھا۔’العربیہ‘ نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ میونخ شہر میں جمعہ کی شام اولمپک سینٹر نامی تجارتی مرکز پرحملہ کرنے والے ایک شخص کی لاش قبضے میں لی گئی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ انہیں شبہ ہے کہ حملہ آور ایک ہی تھا جس نے تجارتی مرکز میں لوگوں پر اندھا دھند گولیاں چلانے کے بعد اسی بندوق سے خود کشی کرلی تھی۔اے ایف پی کے مطابق ہلاک ہونے والے تین افراد کا تعلق کوسوو سے ہے اور کوسوو کے وزارت خارجہ نے اس بات کی تصدیق کردی ہے۔اس سے قبل پولیس نے بتایا تھا کہ وہ حملہ آور کے 3 ساتھیوں کو تلاش کر رہے ہیں۔تاہم بعدازاں حکام نے ایک نیوز کانفرنس کے دوران بتایا کہ حملہ آور اکیلا تھا، جس نے شاپنگ سینٹر میں فائرنگ سے قبل ایک فاسٹ فوڈ ریسٹورنٹ میں بھی فائرنگ کی۔پولیس چیف ہوبرٹس اینڈرئی کے مطابق بچوں سمیت 16 افراد واقعے میں زخمی ہوئے، جن میں سے 3 کی حالت تشویش ناک بتائی گئی۔جرمن ریڈیو ’پائریریشر رونڈ فنک‘ نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ مشتبہ مقتول حملہ آور نعش کے قریب سے سرخ رنگ کا ایک بیگ بھی ملا ہے،

پولیس نے روبوٹ کی مدد سے اس کی تلاشی لی ہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک مشتبہ خود کش حملہ آور کی نعش قبضے میں لینے کے بعد اس کی شناخت اور تحقیقات شروع کردی ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ لگتا ہے کہ یہ ایک شخص کی انفرادی کارروائی ہے۔واقعے کے فوری بعد پولیس نے مقامی تجارتی مرکز اور اس کے آس پاس کے مقامات میں ہنگامی حالت نافذ کی تھی تاہم اب ہنگامی حالت ختم کردی گئی ہے البتہ شہریوں کو سخت محتاط رہنے کی بدستور ہدایت ہے۔پولیس نے شہریوں سے کہا ہے کہ وہ میونخ میں حملے کا شکار ہونے والے تجارتی مرکز کے قریب نہ آئیں۔ اس مرکز کے قریب رہنے والے شہری گھروں سے باہر نہ نکلیں۔پولیس نے شہر کی تمام مصروف شاہرائیں اور زیادہ رش والے مقامات بھی بند کردیئے ہیں۔مقامی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ جرمن بارڈر فورس کے ہیلی کاپٹر میونخ کی جانب روانہ کیے گئے ہیں۔ جرمنی نے پڑوسی ملک چیک کے ساتھ متصل سرحد سیل کردی ہے تاکہ ممکنہ طورپر حملہ آور سرحد پار فرار نہ ہوسکیں۔جرمن چانسلر انگیلا میرکل کی مشیرہ پیٹر التمائر کا کہنا ہے کہ حکام اس بات کی تصدیق نہیں کرسکے ہیں کہ آیا یہ ایک دہشت گردانہ کارروائی تھی یا نہیں۔ جرمن ٹی وی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم فی الوقت میونخ میں تجارتی مرکز پرحملے کے واقعے کو دہشت گردی کی کارروائی قرار دینے کی تصدیق نہیں کرسکتے۔ ا

لبتہ اس کی تحقیقات جاری ہیں۔میونخ واقعے کے تناظر میں جرمنی کی نیشنل سکیورٹی کمیٹی کا ہنگامی اجلاس آج ہفتے کو طلب کرلیا گیا ہے۔جرمن حکومت کے ترجمان اسٹیفن سیپرٹ نے ’ٹوئٹر‘ پر ایک بیان میں بتایا کہ تمام وزراء کو برلن بلالیا گیا ہے۔ میونخ واقعے پر آج فیڈرل سکیورٹی کونسل کا اہم اجلاس بھی ہو رہا ہے جس میں امن وامان کی صورت حال کا جائزہ اور آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔جرمن وزیر خارجہ فرانک فالٹر اشٹائنمر نے ایک بیان میں کہا ہے کی میونخ واقع کے پس پردہ عوامل ابھی تک واضح نہیں ہوسکے ہیں۔دوسری جانب فائرنگ کے واقعے کے تقریباً 7 گھنٹے بعد پولیس نے شاپنگ سینٹرکو کلیئر قرار دیا۔سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی ویڈیو میں دیکھا گیا کہ کالے کپڑوں میں ملبوس ایک شخص مکڈونلڈز ریسٹورنٹ سے فائرنگ کرتے ہوئے نکلا جبکہ لوگوں کو بھی بھاگتے ہوئے دیکھا گیا۔ ’ورلڈ آن الرٹ‘ کے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر حملے کی ویڈیو میں ایک حملہ آور کو شاپنگ سینٹر کی چھت پر شہریوں پر فائرنگ کرتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔اسی ٹوئٹر اکاؤنٹ پر مزید ایک ویڈیو میں حملہ آور کو شاپنگ سینٹر کے باہر شہریوں پر فائرنگ کرتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔ادھر دوسری جانب میونخ واقعے پر عالمی سطح پر شدید رد عمل سامنے آیا ہے۔

 

مہلوک حملہ آور کا داعش سے
کوئی تعلق نہیں تھا :جرمن پولیس
میونخ ۔ 23 جولائی ۔(سیاست ڈاٹ کام)جرمن پولیس نے آج کہا کہ میونخ میں 9 افراد کو اندھا دھند گولی مارکر ہلاک کرنے والے 20 سال سے کم عمر کے نوجوان کا اسلامک اسٹیٹ (داعش ) سے کوئی تعلق یا ربط نہیں تھا ۔ پولیس نے کل کے اس واقعہ کو ایک منتشر ذہن نوجوان کی ایک عجیب قرار دیا ہے۔میونخ کے پولیس سربراہ ہوبرٹس اینڈری نے کہاکہ ’’اسلامک اسٹیٹ سے اس کا قطعی کوئی تعلق نہیں ہے ‘‘ ۔ انھوں نے کہاکہ مشتبہ نوجوان ’’جنونیوں کے ہاتھوں ہلاکتوں ‘‘ کے بارے میں کتابوں اور مضامین سے کافی متاثر تھا۔ میونخ کے استغاثہ نے بھی کہا ہے کہ مشتبہ نوجوان جس کا نام فی الحال مخفی رکھا جارہا ہے ذہنی دباؤ کا شکار تھا اور اس کا نفسیاتی علاج بھی کیا جارہا تھا ۔

TOPPOPULARRECENT