Sunday , September 24 2017
Home / مضامین / جرمن کے اسکولوں میں دینی تعلیم کی کلاس پروٹسٹنٹ چرچ کے سربراہ کی وکالت

جرمن کے اسکولوں میں دینی تعلیم کی کلاس پروٹسٹنٹ چرچ کے سربراہ کی وکالت

ایم اے حمید
جرمن میں مسلمانوں کی کثیر آبادی ہے جو زندگی کے مختلف شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دیتے ہوئے ملک کی ترقی میں نمایاں کردار ادا کررہی ہے۔ اس کے باوجود جرمنی میں ایسے اسلام اور مسلم دشمن عناصر بھی ہیں جو وہاں مسلمانوں کے وجود، شعائر اسلام اور دینی تعلیمات سے بناکسی وجہ کے عداوت رکھتے ہیں۔ یہ ایسے عناصر ہیں جو دوسرے جرمن شہریوں کے ذہنوں میں مسلمانوں کے خلاف بے بنیاد باتیں بٹھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ دہشت گردی کو مسلمانوں اور اسلام سے جوڑنے کے موقع کی تلاش میں رہتے ہیں۔ یہ اسلام دشمن عناصر خواتین کے حجاب کو بھی نشانہ بناتے ہیں تاہم جرمن میں ایسے نیک دل لوگوں کی بھی کمی نہیں جو اسلام دشمن عناصر کے پروپگنڈہ کو خاطر میں نہیں لاتے کیونکہ انہیں اندازہ ہے کہ اسلام امن کی تعلیم، انسانیت کا درس دیتا ہے خواتین کا احترام سکھاتا ہے۔ یہاں تک کہ جانوروں پر رحم کا حکم دیتا ہے۔ پیڑ پودوں کو کاٹنے سے منع کرتا ہے، حد تو یہ ہے کہ راہ میں پڑے ہوئے پتھر کو ہٹانے پر اسلام اپنے ماننے والوں کو نیکیوں کا حقدار قرار دیتا ہے۔ ایسے میں ان لوگو ںکا یہ کہنا ہوتا ہے کہ ایک ایسا مذہب جو راہ میں پڑے پتھر کو ہٹانے کا حکم دے وہ لوگوں کی راہ میں کانٹے نہیں بجھاسکتا۔ درختوں کو کاٹنے کی مخالفت کرنے والا مذہب اسلام کیسے انسانوں کے سر قلم کرنے کا حکم دے گا۔ جانوروں سے صلہ رحمی کی ہدایت دینے والا دین اسلام انسانوں پر ظلم و جبر کیسے برداشت کرے گا؟ اسلام اور مسلمانوں کو بدنام کرنے کے لئے دراصل اسے دہشت گردی، ظلم و جبر، خواتین پر مظالم، کوتاہ قلبی و کوتاہ ذہنی سے جوڑا جارہا ہے۔ حال ہی میں جرمن میں پروٹسٹنٹ چرچ کے سربراہ نے ملک بھر کے سرکاری اسکولوں میں دینی تعلیم (اسلام پڑھانے) کی ضرورت پر زور دیا تاکہ مسلم طلباء و طالبات بنیاد پرستوں کے بہکاوے میں آنے سے محفوظ رہیں۔ بشپ ہینرچ بیڈفورڈ ۔ اسٹرام نے ہیل برانہ اسٹیمے اخبار کو بتایا کہ جرمن کے سرکاری اسکولوں میں اسلامی تعلیمات سے مسلم طلباء و طالبات کو اسلام کی حقیقی تعلیمات جاننے کا موقع ملے گا۔ بشپ نے ملک میں ایثار و خلوص اور صبر و تحمل کے رجحان کو فروغ دینے کی ضرورت بھی ظاہر کی۔ جرمنی کی 16 وفاقی ریاستوں نے اپنے اسکولوں میں دینی تعلیم کی کلاس کا انتظام کیا ہے۔ ان اسکولوں میں عیسائیوں کے دونوں فرقوں کیتھولک اور پروٹسٹنٹ عقائد کی بھی تعلیم دی جاتی ہے اور یہ جرمنی کے اسکولوں کی روایت بھی ہے۔ آپ کو بتادیں کہ جرمن میں 40 لاکھ مسلمان ہیں جو جملہ آبادی کا 5 فیصد ہوتے ہیں۔ جرمن میں اسلام اور مسلمانوں کو ماضی میں کافی اہمیت دی جاتی رہی۔ انہیں عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا رہا، لیکن یوروپ میں دہشت گردوں کے حملوں کے بعد اسلام اور مسلمانوں کے تئیں لوگوں کے خیالات میں تبدیلی آئی اس کے علاوہ عراق، شام، یمن اور دنیا کے دیگر ملکوں میں جو خانہ جنگی اور خون آشامی کی صورتحال ہے

اس سے بچنے کے لئے لاکھوں لوگوں نے اپنے ملکوں سے نقل مکانی کرتے ہوئے یوروپی ملکوں کا رخ کیا ہے۔ چنانچہ گزشتہ سال سے اب تک یوروپ میں 10 لاکھ سے زیادہ مہاجرین آچکے ہیں جن میں مسلمانوں کی اکثریت ہے۔ جرمنی میں بھی انجیلا مرکل کی حکومت نے لاکھوں مسلم پناہ گزینوں کو پناہ دی ہے جس کے نتیجہ میں پناہ گزینوں و مہاجرین کی شدت سے مخالفت کرنے والی پارٹی آلٹر نیٹو فار جرمنی (AID) کی عوامی مقبولیت میں اضافہ ہوا ہے۔ اس پارٹی کا موقف ہے کہ اسلام جرمن کے دستور کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ مسلم دشمن کی حیثیت سے شہرت پاچکی AID ملک میں مساجد کی میناروں اور نقاب پر پابندی عائد کئے جانے کی خواہاں ہے۔ جرمن میں AID اور اس طرح کی دیگر مسلم دشمن تنظیموں و جماعتوں کی جانب سے بار بار ایسے فرضی سروے سامنے آتے ہیں جن کے ذریعہ ظاہر کیا جاتا ہے کہ جرمنی میں مسلمانوں کے لئے کوئی جگہ نہیں اور اسلامی تعلیمات جرمن کے دستور سے میل نہیں کھاتے۔ جاریہ ماہ ایسا ہی ایک سروے منظر عام پر آیا جس میں یہ بتانے کی کوشش کی گئی کہ دو تہائی جرمن عوام کے خیال میں ان کے ملک میں اسلام کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ جرمن میں اسلام کی شدید مخالفت کے باوجود غیر مسلموں کا دین اسلام میں داخل ہونے یعنی حلقہ بگوش اسلام ہونے کا سلسلہ جاری ہے۔ دہشت گردانہ حملوں کے بعد یوروپ کے دیگر ملکوں کی طرح جرمنی میں بھی مسلمانوں کے خلاف نفرت کی ایک لہر اٹھی ہے۔ جرمنی کی وزارت داخلہ کے مطابق سال 2012ء سے تاحال کثیر تعداد میں جرمن شہری شام اور عراق میں آئی ایس آئی ایس جنگجوؤں کے شانہ بشانہ لڑنے کے لئے روانہ ہوئے۔ بیڈفورڈ اسٹرام نے اپنے انٹرویو میں جو جمعہ کو شائع ہوا ہے کہا کہ جرمن میں تمام مذاہب و عقائد کا ملک کے جمہوری دستوری سے میل کھانا ضروری ہے۔ ایثار و تحمل، مذہبی آزادی اور ضمیر کی آزادی کا تمام مذاہب پر اطلاق ہونا چاہئے۔ بشپ کے خیال میں جرمنی میں مصروف اسلامی تنظیموں و انجمنوں کو اسکولوں میں دینی تعلیمی کلاسیس کا ذمہ دار و نگران بنایا جانا چاہئے جو خود کو جرمن کے ایک واضح شراکت دار کی حیثیت سے بھی پیش کرسکیں گے۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT