Wednesday , October 18 2017
Home / اداریہ / جرم سنگین مگر، سزائے موت نہیں

جرم سنگین مگر، سزائے موت نہیں

جو بھی دکھ یاد نہ تھا یاد آگیا
آج کیا جانیے، کیا یاد آیا
جرم سنگین مگر، سزائے موت نہیں
ہندوستانی مسلمانوں نے ناانصافیوں کے بہت عذاب جھیلے ہیں۔ گذشتہ 6 دہائیوں میں پارلیمنٹ سے لیکر عدلیہ اور معاشرتی زندگی تک مسلمانوں کو صرف مایوس کن صورتحال سے گذرنا پڑا ہے۔ تازہ واقعات میں ممبئی کے 1992-93ء فسادات سے لیکر گجرات کے 2002ء مسلم کش فسادات تک مسلمانوں کو اندھادھند طریقہ سے نشانہ بنایا گیا اور انہیں ہر محاذ پر کمزور کرنے کی کوشش کی گئی۔ گجرات کے فرقہ وارانہ فسادات میں گلبرگ سوسائٹی کا قتل عام بھی ایک ہولناک واقعہ کی طرح ملک کی تاریخ میں پیوست ہوچکا ہے مگر اس واقعہ کے ذمہ داروں کو عدالت سے جو سزاء ملی ہے وہ واقعہ کی سنگینی کے مقابل بہت ہی کم متصور کی جارہی ہے۔ عدالت نے 24 مجرمین کے منجملہ 11 کو صرف عمر قید کی سزاء سنائی جبکہ ایک کو 10 سال کی قید اور ماباقی 12 کو 7 سال کی سزاء دی جبکہ گلبرگ سوسائٹی میں 69 افراد کو زندہ جلا کر ہلاک کردیا گیا تھا۔ اس آتشزنی میں کانگریس کے سابق ایم پی احسان جعفری اور دیگر کئی افراد ہلاک ہوئے تھے۔ عدالت نے 2 جون کو اس کیس میں 24 افراد پر فردجرم عائد کیا تھا اور ماباقی 36 کو بری کردیا تھا۔ استغاثہ وکیل نے 11 مجرمین کو سزائے موت دینے کا مطالبہ کیا تھا جس کو مسترد کردیا گیا۔ خصوصی تحقیقاتی ٹیم کی عدالت کے جج بی پی دیسائی نے کہا کہ مجرمین سماج کے لئے لعنت نہیں ہیں۔ انہیں سدھرنے کا موقع دیا جانا چاہئے۔ اس کیس کا شروع سے جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوگا کہ یہاں انصاف کے حصول کے خواہاں شہریوں کو ہر قدم پر مایوس کیا گیا۔ کیس کے تقریباً 90 فیصد ملزمین کو ضمانت پر رہا کردیا گیا تھا۔ ان کے خلاف متاثرین کی جانب سے بھی کوئی شکایت درج نہیں کروائی گئی۔ اس کی وجہ ڈر اور خوف ہوسکتی ہے۔ جج نے گلبرگ سوسائٹی قتل عام واقعہ کو سیول سوسائٹی کی تاریخ میں ایک ’’سیاہ دن‘‘ قرار دیا مگر سزائے موت دینے کے معاملہ میں حد سے زیادہ نرمی کا مظاہرہ کیا۔ ہندوستانی عدلیہ میں سزائے موت دینے کا فیصلہ  بھی شاذونادر ہی ہوتا ہے اور جب فیصلہ ہوتا ہے تو صرف مسلمانوں کے خلاف سزائے موت دی جاتی ہے۔ گلبرگ سوسائٹی کیس میں کسی بھی خاطی کو سزائے موت نہ دی جانا عدلیہ کے انصاف کے معیارات میں جھول کو ظاہر کرتا ہے۔ اس معیار کا اگر قانون اور انصاف کے نکتہ نظر سے جائزہ لیں تو ایک واحد رکنی جج کی بنچ کے تاثرات پر ہی انحصار کرکے خاطیوں کو سزائے موت سے بچایا جاتا ہے تو یہ افسوسناک پہلو ہے۔ 28 فبروری 2002ء کو گجرات بھر میں مسلمانوں کی جان و مال کو نشانہ بناتے ہوئے موت کا ننگاناچ کرنے والوں کو جب قانون سے براء ت ملتی ہے تو پھر سماجی انصاف کا توازن بگڑ جاتا ہے۔ دن دھاڑے قتل عام کیا جانے کا واقعہ بھی شاذونادر تھا اور جرم کی نوعیت اس قدر سنگین ہے کہ اس کیلئے تمام خاطیوں کو پھانسی پر لٹکایا جاکر انصاف سے کام لیا جاتا مگر ایسا نہیں ہوسکا۔ ہندوستانی نظام قانون کا توازن بگاڑنے کی کوشش کرنے والوں نے متاثرین کے ساتھ ناانصافی سے کام لیا ہے تو پھر یہ تنگ نظری بدترین مثال کہلائے گی۔ عدالت گودھرا ٹرین آتشزنی کیس میں جب 11 مسلمانوں کو سزائے موت دیتی ہے تو اس ایک دن بعد ہونے والے مسلمانوں کے قتل عام میں ملوث خاطیوں کو سزائے موت دینے سے ناانصافی کا مظاہرہ کیوں کیا گیا؟ یہ سوال ہندوستانی سیول سوسائٹی کے ذہنوں کو جھجھوڑنے میں ناکام رہے تو سمجھا جائے کہ معاشرہ پر مردہ دلی چھا رہی ہے۔ عدالتوں میں بھی فرقہ پرستی کی بنیاد پر اگر فیصلے کئے جانے لگیں تو انصاف کے حصول کیلئے برسوں کی مشقت اور کارروائیاں و پیروی فضول ثابت ہوگی۔ مارچ 1993ء کے بم دھماکوں کے سلسلہ میں 100 مسلمانوں کو مجرم قرار دے کر 10 کو سزائے موت دی گئی تھی۔ اگرچیکہ سپریم کورٹ نے بعدازاں ان کی سزائے موت کو بدل دیا تھا اور صرف ایک کو سزائے عمر قید دی گئی تھی تاہم ان دھماکوں کے بعد فسادات میں سینکڑوں افراد ہلاک ہوئے تھے اور مرنے والوں میں مسلمانوں کی تعداد ہی زیادہ تھی۔ اس میں صرف 3 افراد کو خاطی قرار دے کر ان پر معمولی اسلحہ رکھنے کا جرم قرار دیا گیا تھا۔ عدالت نے گجرات فسادات میں ملوث خاطیوں کو بھی بری کرنے اور سزاء دینے کے معاملہ میں قانون و انصاف کو ملحوظ نہیں رکھا۔ اس طرح کے فیصلے ہندوستان کی سب سے بڑی اقلیت میں مایوسی اور بے اطمینانی کو پیدا کرتے ہیں جو سیکولر ہندوستان کیلئے کسی بھی صورت میں مناسب نہیں۔ عدالت کا فیصلہ اجتماعی قومی دانش کا مظہر نہیں ہے۔ اس فیصلہ کے بعد آپس میں لفظی جھڑپ کرنے والی سیاسی پارٹیوں کو قومی مفادات میں خیانت کرنا ترک کرنا ہوگا۔ قانون اور انصاف کا مطلب براری یا بیجا استعمال کیا جائے گا تو حالات موافق نہیں ہوں گے۔ ہندوستانی جمہوریت کو سربلند رکھنے کیلئے انصاف کے تقاضوں کے ساتھ کوتاہی نہیں کی جانی چاہئے۔
کانگریس کی تنظیمیں غلطیاں
آندھراپردیش تلنگانہ سے لیکر پنجاب یا پھر چھتیس گڑھ اور ہریانہ جیسی ریاستوں میں کانگریس پارٹی میں ہونے والی غلطیوں اور کوتاہیوں نے اس پارٹی کو ازخود کمزور بنانے کا کام کیا ہے۔ اب پنجاب میں کمال ناتھ کو پارٹی کا انچارج بنانے کی غلطی کے فوری بعد 72 گھنٹوں کے اندر ہی عہدہ سے استعفیٰ دینا پڑا، جس لیڈر پر 1984ء سکھ فسادات کے الزامات میں انہیں پنجاب کی ذمہ داری تفویض کرنا سراسر سیاسی موت کو گلے لگانے کی آرزو سے زیادہ نہیں ہوتی۔ کمال ناتھ نے پنجاب میں اپنی پارٹی کانگریس کو مزید کمزور ہونے سے بچانے کیلئے ہائی کمان کے فیصلہ کے فوری بعد استعفیٰ دیدیا۔ پارٹی کی قیادت ان دنوں جس طرح کے تفصیلی فیصلے کررہی ہے اس سے تقریباً ہر ریاست میں ناراضگیاں پیدا ہورہی ہیں۔ تلنگانہ میں کانگریس قائدین اپنے سیاسی مستقبل سے مایوس ہوکر ٹی آر ایس میں شامل ہورہے ہیں۔ آندھراپردیش میں پارٹی کا بڑا حال ہے اور چھتیس گڑھ میں اجیت جوگی کا اخراج، اتراکھنڈ اور اروناچل پردیش میں گروہ واری اختلافات نے کانگریس کو مزید کمزور بنادیا ہے۔ پارٹی کے ماباقی سینئر قائدین ہنوز ہائی کمان سے یہ توقع کررہے ہیں کہ وہ پارٹی کو بچانے کیلئے پارٹی کی قیادت میں تبدیلی کا اعلان کریں گی۔ اترپردیش میں پرینکا گاندھی کو سب سے بڑا رول دے کر اسمبلی  انتخابات میں کامیابی کو یقینی بنایا جائے گا لیکن ایسی باتیں گذشتہ کئی سال سے پارٹی کے اندر باہر گشت کررہی ہیں لیکن پارٹی قیادت نے ہر بار اپنی غلطیوں کی اصلاح کرنے پر دھیان نہیں دیا۔ پنجاب میں کمل ناتھ کو ذمہ داری اپنے کا فیصلہ بھی پارٹی ہائی کمان کی متواتر غلطیوں میں سے ایک نیا اضافہ ہے۔

TOPPOPULARRECENT