Tuesday , August 22 2017
Home / مذہبی صفحہ / جسے دیکھ کر اﷲ یاد آجائے ، وہ اﷲ والا ہے

جسے دیکھ کر اﷲ یاد آجائے ، وہ اﷲ والا ہے

اب رہی یہ بات کہ کوئی کیسے معلوم کرے کہ کون اﷲ والا ہے ؟ تو اس سلسلہ میں حضور اکرم ﷺ کا یہ ارشاد بڑا رہنما ہے کہ تم دو شخصوں کی صحبت اختیار کرو ، ایک تو وہ جس کو دیکھ کر اﷲ یاد آئے اور آخرت کی فکر پیدا ہو ، دوسرا وہ جس کے کلام سے تمہارے علم میں اضافہ ہو ۔ حضورؐ کے ارشاد کے مطابق یہ دو اشخاص ایسے ہیں جن سے روحانی اور قلبی نسبت قائم ہوجائے تو انسان فیوض و برکات سے بہرہ مند ہوجاتا ہے۔
رسول اکرم ﷺ کا ارشاد ہے : اﷲ کے بندوں میں ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جو نہ نبیؐ ہیں ، نہ شہید، لیکن قیامت کے دن قرب الٰہی کی وجہ سے انبیاء اور شہداء ان پر رشک کریں گے ۔ صحابہؓ نے عرض کیا : یا رسول اﷲ ! وہ کون لوگ ہوں گے اور ان کے اعمال کیا ہوں گے ، ہمیں بتائیے تاکہ ہم اُن سے محبت کریں۔ فرمایا : وہ لوگ جو آپس میں اﷲ کے لئے محبت کرتے ہیں ، نہ اُن میں کوئی رشتہ ہوگا نہ مالی منفعت ، بخدا اُن کے چہرے پُرنور ہوں گے اور انھیں نور کے منبروں پر بٹھایا جائے گا۔اُس دن دوسرے لوگ خوف زدہ ہوں گے لیکن انھیں کوئی خوف نہ ہوگا ، لوگ حزن و ملال میں مبتلا ہوں گے لیکن انھیں کوئی حزن و ملال نہ ہوگا۔ پھر حضور اکرم ﷺ نے یہی آیت تلاوت فرمائی ’’ألآ اِنَّ أَوْلِیَآئَ اﷲِ لاَخَوْفُٗ عَلَیْھِمْ وَلاَھُمْ یَحْزَنُوْنَ‘‘۔ (سورہ یونس : آیت ۶۲)
انہیں خوف اور غم اس لئے نہیں ہوگا کہ انھیں اﷲ تعالیٰ کی طرف سے خوف و حزن نہ ہونے کی بشارت مل چکی ہوگی کیوں کہ خوف مستقبل کے کسی اندیشہ کی وجہ سے ہوتا ہے اور اس کے نہ ہونے کی بشارت مل جانے کی وجہ سے کسی اندیشہ کا امکان باقی نہیں رہتا اور غم و حزن اس لئے نہیں ہوگا کہ ماضی میں انہیں کسی چیز کی محرومی کا احساس نہیں رہا تھا کیوں کہ دنیا میں وہ بے نیاز آرزو تھے ، ان کے مقاصد ضرور جلیل تھے لیکن تمنائیں قلیل تھیں، استغناء نے انھیں بے نیاز آرزو کردیا تھا اور پھر دوسری بات یہ ہے کہ جب آخرت کی بے مثال نعمتیں ان کے سامنے آجائیں گی تو ماضی کی ہر محرومی کا احساس مٹ جائے گا ۔ انسان کی فطرت ہی کچھ اس طرح کی ہے کہ نعمتیں احساس محرومی کو ختم کردیتی ہیں۔

اولیاء اﷲ کو خوف و حزن نہ ہونے کی جو بشارت دی گئی ہے وہ دنیا و آخرت دونوں عالموں کے لئے ہے یعنی جس طرح انھیں آخرت میں خوف و حزن نہیں ہوگا اسی طرح دنیا میں بھی وہ بیگانۂ خوف و حزن ہوں گے کیوں کہ ایمان کی پختگی ہر خوف کو مٹادیتی ہے اور دل کا استغناء ہر حسرت کو فنا کردیتا ہے ۔
آخرت کی کامیابی کو قرآن کریم ’فوز عظیم‘ ( بڑی کامیابی ) قرار دیتا ہے ۔ یہ لفظ قرآن کریم میں تقریباً ۱۵۔۲۰ مقامات پر استعمال ہوا ہے اور ہرجگہ اس سے مراد آخرت ہی کی کامیابی ہے لیکن یہاں یہ لفظ دنیا و آخرت دونوں جہانوں کی کامیابی کیلئے استعمال ہوا ہے۔ اس لحاظ سے یہ ’فوزعظیم‘ اور زیادہ اہمیت کی حامل ہے کہ انسان دونوں جہانوں میں ہر خوف و حزن سے آزاد ہوکر کامیاب و کامران اور سرخرو ہوجائے ۔ اس سے اولیاء اﷲ کی فائز المرامی کا اندازہ کیا جاسکتا ہے اور اسی سے کچھ کچھ یہ اندازہ بھی ہوجاتا ہے کہ اﷲ تعالیٰ اپنے دوستوں کو کیسی عظیم الشان کامیابی عطا فرماتا ہے ۔
آیت کریمہ میں جس ایمان و تقویٰ ، بے خوفی و بے حزنی اور فوز عظیم کا تذکرہ فرمایا گیا ہے ، اس کو محسوسات کی شکل میں اگر سمجھنا ہو تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ ایمان کی مثال بیج کی سی ہے ، جس طرح بیج زمین میں چھپا ہوتا ہے اسی طرح ایمان بھی دل میں چھپا ہوتا ہے تقویٰ گویا درخت ہے جو ایمان کے بیج سے پھوٹ کر خارج میں ظاہر ہوتا ہے ، بے خوفی و بے حزنی تقویٰ کے درخت کے پتے ہیں جو پورے درخت کو گھنا اور سایہ دار بنادیتے ہیں ، پھر اس درخت پر جو پھول آتا ہے اس کا نام ’ولایت‘ اور اس درخت کے ثمر کا نام ہے ’فوز عظیم‘۔
صمیم قلب سے دعا کیجئے کہ اﷲ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے ہم سب کو اس کامیابی (فوزعظیم ) سے ہم کنار فرمائے ۔ آمین
آمین بجاہ سیدالمرسلین صلی اﷲ علیہ و آلہٖ و سلم

TOPPOPULARRECENT