Saturday , September 23 2017
Home / مذہبی صفحہ / جشنِ ولادت (ﷺ) کا اجر

جشنِ ولادت (ﷺ) کا اجر

حضرت عروہ بن زبیرؓ  فرماتے ہیں کہ ثوبیہ نامی عورت پہلے ابولہب کی باندی تھیں۔ جب سرکار دو عالم ﷺکی ولادت مبارک ہوئی ۔ تو ثوبیہ باندی بھاگتی ہوئی گئی۔ سرکار(ﷺ) کے چچا ابولہب کو یہ خبر سنائی کہ آپ کے ہاں ایک بھتیجا پیدا ہوا ہے ۔ ابولہب نے بھتیجے کی خوشی میں انگلی سے اشارہ کیا کہ جا تو آج سے آزاد ہے ۔ ابولہب جب مرگیا تو اس کے گھر والوں میں سے کسی نے اسے خواب میں برے حال میں دیکھا تو پوچھا تمہارے ساتھ کیا گذری۔ ابولہب نے کہا ۔ میں تم سے جدا ہوتے ہی سخت عذاب میں پھنس گیا ہوں۔ ماسوائے اس کہ ثوبیہ کو آزاد کرنے کے باعث جن انگلیوں سے آزاد کیا تھا مجھے ان انگلیوں سے پانی پلایا جاتا ہے ۔ اس حدیث کی شرح میں عظیم محدث امام ابن حجر رحمتہ اﷲ تعالیٰ علیہ نے شرح صحیح البخاری میں لکھا ہے کہ حضرت عباسؓ فرماتے ہیں ۔ ابولہب جب مرا تو میں ایک سال بعد اسے خواب میں دیکھا تو وہ کہہ رہا تھا کہ میں بہت بُرے حال میں ہوں۔ تم سے جدا ہوکر مجھے کوئی راحت نصیب نہیں ہوئی ۔ میں سخت عذاب میں مبتلا ہوں۔ لیکن اتنی بات ضرور ہے کہ ہر پیر کے دن میرے عذاب میں تخفیف کردی جاتی ہے ۔ پیر کے روز تحفیف عذاب کا سبب بھی حضرت عباسؓ نے بیان فرمایا کہ یعنی پیر کے دن سرکار دوعالم ﷺ  پیدا ہوئے اور ثوبیہ نے جب ابولہب کو آپؐ کی ولادت کی خوشخبری سنائی تو ابولہب نے اسے آزاد کردیا تھا ۔ ( بخاری شریف)
محترم ! اندازہ لگائیے کہ ابولہب جیسا کافر جس کی مذمت میں قرآن کی سورت نازل ہوئی ( جس کا ذکر سورہ لہب میں ہے ) کا یہ حال ہے کہ اس کے عذاب میں تخفیف ہوتی ہے تو جو سرکار ﷺ کا امتی سرکار دو عالم ﷺ کی ولادت کی خوشی منانے میں دامے درمے سخنے تعاون کرتا ہے تو اس امتی کو آخرت میں کیا مرتبہ ملے گا ۔ اس کا اندازہ کس طرح ہوسکتا ہے ۔ ہمارا ایمان ہے کہ ایسے لوگوں کو جو ہمارے پیارے آقا و مولیٰ صلی اﷲ علیہ و سلم کی ولادت کی خوشی مناتے ہیں اﷲ تبارک و تعالیٰ اسے ضرور جنت کے باغوں میں داخل کرے گا ۔        مرسلہ : حبیب احمد بن عبداﷲ رفیع

TOPPOPULARRECENT