Friday , October 20 2017
Home / ہندوستان / جغرافیائی نقشہ پر ہند۔ پاک کی لفظی جنگ

جغرافیائی نقشہ پر ہند۔ پاک کی لفظی جنگ

پارلیمنٹ میں مجوزہ مسودۂ بل پر اعتراض مسترد ، پاکستان اقوام متحدہ سے رجوع
نئی دہلی؍ اسلام آباد۔ 17 مئی (سیاست ڈاٹ کام) ہندوستانی پارلیمنٹ میں مرکزی حکومت کی جانب سے پیش کئے جانے والے مجوزہ جغرافیائی انفارمیشن ریگولیشن بل پر پاکستان نے اقوام متحدہ میں تشویش کا اظہار کیا۔ ہندوستان نے بعدازاں اس تشویش کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ داخلی معاملہ ہے۔ اس بل کے تحت کوئی بھی شخص ہندوستان کا ایسا جغرافیائی نقشہ تقسیم کرے جو حکومت کی نظر میں غلط ہو تو اسے ایک بلین روپئے جرمانہ اور جیل کی سزا ہوگی۔ پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان نفیس ذکریا نے کہا کہ ہندوستان کا ’’غلط اور قانونی طور پر غیردرست‘‘ سرکاری نقشہ اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی ہے۔ اس میں جموں و کشمیر کے پاکستانی حصہ کو ہندوستان کا حصہ ظاہر کیا گیا ہے۔ ہندوستانی ترجمان وکاس سروپ نے قومی مسائل کو جنہیں باہمی طور پر حل کرنے کیلئے ہندوستان ہمیشہ تیار ہے، بین الاقوامی سطح پر اٹھائے جانے کی بار بار کوششوں کو یکسر مسترد کردیا۔ انہوں نے کہا کہ مجوزہ بل ہندوستان کا بالکلیہ داخلی معاملہ ہے۔ چونکہ ساری ریاست جموں و کشمیر ہندوستان کا اٹوٹ حصہ ہے۔ پاکستان یا کسی اور فریق اس معاملے میں مداخلت کے مجاز نہیں۔ نیویارک میں پاکستان کے مستقل نمائندہ نے اقوام متحدہ کو ایک مکتوب روانہ کرتے ہوئے سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پاسداری کرنے پر زور دیا گیا، ساتھ ہی ساتھ عالمی ادارہ سے بھی خواہش کی گئی کہ وہ ہندوستان کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی سے روکے۔

پاکستان نے بین الاقوامی برادری اور اقوام متحدہ پر زور دیا ہے کہ وہ جموں و کشمیر میں آزادانہ اور غیرجانبدارانہ استصواب عامہ کے ذریعہ وہاں کے عوام سے کیا گیا عہد پورا کرے۔ میڈیا کی اطلاعات کے مطابق مجوزہ بل میں کہا گیا ہے کہ مختلف خدمات انجام دینے والوں جیسے گوگل میاپس اور ایپل میاپس کو ہندوستانی نقشہ حاصل کرنے، شائع یا تقسیم کرنے کیلئے لائسنس حاصل کرنے کی ضرورت ہوگی۔ انہیں اجازت نامہ کیلئے درخواست دینا ہوگا۔ گزشتہ سال حکومت نے الجزیرہ نیوز چیانل کو تقریباً ایک ہفتہ کیلئے اسی بناء پر بند کردیا تھا کہ اس نے کشمیر کے نقشہ کو غلط طور پر دکھایا تھا۔ مرکزی وزیر کرن رجیجو نے پاکستان کے اعتراض کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس بات کو یقینی بنانا کہ ہندوستان کا جغرافیہ صحیح انداز میں پیش کیا جائے ، حکومت کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس بل کو قطعیت دینے سے قبل شہریوں ، ماہرین اور فریقین کی تجاویز حاصل کی جائے گی، پاکستان کی نہیں۔

TOPPOPULARRECENT