Thursday , August 17 2017
Home / شہر کی خبریں / جلال الدین اکبر کا سیاسی دباؤ کے تحت تبادلہ افسوسناک

جلال الدین اکبر کا سیاسی دباؤ کے تحت تبادلہ افسوسناک

دیانتدار عہدیداروں اور مسلم آفیسرس کی تعداد بہت کم ، حافظ پیر شبیر احمد کا ردعمل
حیدرآباد۔/8مارچ، ( سیاست نیوز) صدر جمعیتہ العلماء تلنگانہ و آندھرا پردیش حافظ پیر شبیر احمد سابق ایم ایل سی نے ڈائرکٹر اقلیتی بہبود کے عہدہ سے جلال الدین اکبر کے تبادلہ پر شدید ردعمل کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے ایک ایسے عہدیدار کا سیاسی دباؤ کے تحت تبادلہ کردیا ہے جنہوں نے اقلیتی بہبود کی اسکیمات پر موثر عمل آوری میں اہم رول ادا کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر ایک طرف اقلیتوں کی بھلائی کیلئے مختلف اسکیمات کا اعلان کررہے ہیں تو دوسری طرف اسکیمات پر عمل آوری کرنے والے عہدیدار کا تبادلہ کرتے ہوئے یہ ثابت کیا ہے کہ حکومت اسکیمات میں سنجیدہ نہیں ہے۔ حافظ پیر شبیر احمد نے کہا کہ محکمہ اقلیتی بہبود میں عہدیداروں کی کمی ہے اور مسلم سرویس آفیسرس کی تعداد انتہائی کم ہے۔ ایسے میں اقلیتی بہبود میں تقرر کیلئے مسلم عہدیداروں کو کہاں سے لایا جائے گا۔ انہوں نے حکومت سے اپنے اس فیصلہ پر نظرثانی کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ جلال الدین اکبر پر عائد کئے گئے الزامات مضحکہ خیز ہیں اور حکومت کو چاہیئے تھا کہ وہ کسی سیاسی جماعت کی جانب سے مکتوب روانہ کرنے پر فوری کارروائی کے بجائے حقائق کا پتہ چلانے کیلئے تحقیقات کرتی۔ برخلاف اس کے سیاسی دباؤ کے تحت تبادلہ کرنا اقلیتی اسکیمات کو نقصان پہنچانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقلیتی بہبود میں ایماندار اور راست باز  عہدیداروں کی کمی ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وقف مافیا نے اقلیتی بہبود پر کنٹرول حاصل کرلیا ہے۔ ایم جے اکبر نے اسپیشل آفیسر وقف بورڈ کی حیثیت سے جن بدعنوان اور ناجائز قابضین کے خلاف کارروائی کا آغاز کیا تھا انہوں نے ان کے تبادلہ کی مہم چلائی ہے تاکہ ان کے خلاف کارروائیاں روک دی جائیں۔ حافظ پیر شبیر احمد نے کہا کہ اگرچہ کسی بھی حکومت کو عہدیداروں کے تبادلہ کا حق حاصل ہے لیکن ایم جے اکبر کا تبادلہ جن حالات میں کیا گیا وہ کئی شبہات کو جنم دیتا ہے۔ اگر حکومت کو تبادلہ ہی کرنا تھا تو مالیاتی سال کے اختتام یعنی مارچ کے بعد کرتی تاکہ اسکیمات پر مکمل عمل آوری اور بجٹ کے خرچ کو یقینی بنایا جاتا۔برخلاف اس کے ایم جے اکبر کے مقام پر نئے ڈائرکٹر کے تقرر سے انہیں اسکیمات سمجھنے میں کافی وقت لگ جائے گا۔ اس طرح جاریہ مالیاتی سال میں اقلیتی بہبود کا بجٹ بہتر طور پر خرچ نہیں ہوپائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایم جے اکبر کے تبادلہ کے ساتھ ہی کئی اقلیتی اسکیمات متاثر ہوچکی ہیں اور خاص طور پر شادی مبارک اسکیم کی درخواستوں کی یکسوئی تھم چکی ہے۔

TOPPOPULARRECENT