Wednesday , August 23 2017
Home / دنیا / جماعت اسلامی قائد مطیع الرحمن نظامی کو پھانسی دینے کی تیاریاں

جماعت اسلامی قائد مطیع الرحمن نظامی کو پھانسی دینے کی تیاریاں

ڈھاکہ سنٹرل جیل کے علاوہ قاسم پور جیل میں بھی انتظامات ۔ صدر مملکت سے رحم کی اپیل ہی آخری متبادل
ڈھاکہ ۔ 6 مئی (سیاست ڈاٹ کام) جماعت اسلامی کے سربراہ مطیع الرحمن نظامی کی سزائے موت پر عمل آوری کی تیاریاں شروع ہوگئی ہیں جن کی درخواست سپریم کورٹ نے گذشتہ روز مسترد کردی تھی۔ انہوں نے جنگی جرائم میں ملوث ہونے پر سنائی گئی سزائے موت پر نظرثانی کرنے کی اپیل کی تھی۔ ان کے ارکان خاندان کو آج جیل میں ان سے آخری بار ملاقات کا موقع دیا گیا۔ دریں اثناء مضافاتی علاقہ میں واقع انتہائی سیکوریٹی والی قاسم پور سنٹرل جیل کے جیلر نصیرالدین نے بتایا کہ مطیع الرحمن نظامی کے ساتھ ارکان خاندان کو ان سے ملاقات کی اجازت دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ قریبی رشتہ دار تقریباً 40 منٹ ان کے ساتھ رہے۔ بنگلہ دیش کی ایک بڑی سیاسی جماعت سمجھی جانے والی جماعت اسلامی 1971ء میں پاکستان سے آزادی کی مخالف تھی۔ جیل کے ایک اور سینئر عہدیدار نے بتایا کہ 73 سالہ قائد کو یوں تو ڈھاکہ سنٹرل جیل میں پھانسی دی جائے گی لیکن قاسم پور جیل میں بھی بیک وقت یہ تیاریاں کی جارہی ہیں تاکہ دو گھنٹے کی نوٹس پر جنگی خطوط پر یہ تیاریاں کی جارہی ہیں۔ سپریم کورٹ کے ذریعہ سزائے موت پر نظرثانی کرنے کی درخواست مسترد ہوجانے کے بعد مطیع الرحمن اپنی آخری قانونی جنگ بھی ہار گئے اور اب انہیں کسی بھی وقت تختہ دار پر لٹکایا جاسکتا ہے۔ مطیع الرحمن کو دراصل 450 افراد کی منصوبہ بند ہلاکتوں کا ذمہ دار قرار دیا گیا ہے جو ان کے آبائی موضع پانبا میں رونما ہوا تھا کیونکہ وہ اس وقت پاکستان کی تائید کررہے تھے اور پاکستان سے آزادی کا مطالبہ کرنے والوں کو راستے سے ہٹایا جارہا تھا۔ مطیع الرحمن سابق قانون ساز اور سابق وزیراعظم خالدہ ضیاء کی کابینہ میں وزیر تھے اور 2010ء سے جیل میں تھے۔ 29 اکٹوبر 2014ء کو جنگی جرائم کی سماعت کرنے والے خصوصی ٹریبونل نے انہیں 29 اکٹوبر 2014ء کو سزائے موت سنائی تھی۔ جیل عہدیداروں نے البتہ تفصیلات بتانے سے انکار کردیا کہ انہیں کس روز پھانسی پر لٹکایا جائے گا۔

ان کے پاس صدر مملکت کے پاس رحم کی درخواست کا ایک متبادل موجود ہے جبکہ صدر موصوف نے قبل ازیں 1971ء کے جنگی جرائم کے دو ملزمین کی رقم کی درخواست کو مسترد کردیا تھا جو جماعت اسلامی کے سکریٹری جنرل علی احسان، محمد مجاہد اور خالدہ ضیاء کی بی این پی سے تعلق رکھنے والے صلاح الدین قادر چودھری ہیں جنہیں گذشتہ سال 21 نومبر کو صدر موصوف کی جانب سے رحم کی درخواست مسترد کئے جانے کے فوری بعد پھانسی پر لٹکا دیا گیا تھا۔ اس طرح مطیع الرحمن نظامی جنگی جرائم کے ملزمین کی فہرست میں چند آخری افراد میں شامل تھے۔ یاد رہیکہ مطیع الرحمن نظامی کو سزائے موت سنانے کے بعد بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے بھی ہوئے تھے لیکن پولیس نے ان پر قابو پا لیا۔ اب دیکھنا یہ ہیکہ صدرجمہوریہ ان کی درخواست رحم بھی پہلے مسترد کی گئی۔ دو درخواستوں کی طرح مسترد کرتے ہیں یا نہیں۔ نظامی کے دو ساتھیوں یعنی محمد مجاہد اور صلاح الدین چودھری کی موت کے بعد عام تاثر تو یہی پایا جاتا ہیکہ نظامی کو بھی پھانسی ہی دی جائے گی لیکن یہ معاملہ انتہائی نازک موڑ پر ہے جہاں کچھ بھی ہوسکتا ہے اور پھر جیسا کہ عام طور پر کہا جاتا ہے کہ زندگی اور موت اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔ وہ جو چاہے گا وہی ہوگا۔

TOPPOPULARRECENT