Tuesday , September 19 2017
Home / Top Stories / جماعت کے ارکان اسمبلی اصل مخالف: وزیرداخلہ

جماعت کے ارکان اسمبلی اصل مخالف: وزیرداخلہ

پرانے شہر میں میٹرو ریل
جماعت کے ارکان اسمبلی اصل مخالف: وزیرداخلہ
ترقیاتی کام اور میٹرو پر پرانے شہر کے عوام کا بھی حق: کشن ریڈی، پہلے سڑکوں کو توسیع کرتے ہوئے 150 فیٹ کریں : بلعلہ

حیدرآباد۔/17جنوری، ( سیاست نیوز) پرانے شہر حیدرآباد میں میٹرو ریل پراجکٹ کے موجودہ پلان میں تبدیلی کیلئے مقامی سیاسی جماعت کی جانب سے حکومت پر دباؤ کا کھلا مظاہرہ آج تلنگانہ اسمبلی میں دیکھنے کو ملا۔ وزیر بلدی نظم و نسق کے ٹی آر نے مقامی جماعت کے ارکان کے اصرار پر موجودہ پلان میں سڑکوں کی توسیع کے ذریعہ یا پھر متوازی روٹ پر میٹرو ریل پراجکٹ کی تکمیل کا تیقن دیا۔ تاہم مقامی جماعت کے ارکان اس بات پر اڑے رہے کہ حکومت موجودہ پلان کو ترک کرتے ہوئے ان کے پیش کردہ متبادل پلان پر عمل کرے۔ اسی دوران وزیر داخلہ این نرسمہا ریڈی نے میٹرو ریل پراجکٹ کی پرانے شہر میں عمل آوری میں مقامی جماعت کو اہم رکاوٹ قراردیتے ہوئے ایوان میں سنسنی دوڑادی۔ وزیر داخلہ نے اس بات کی پرواہ کئے بغیر کہ مقامی جماعت حکومت کی حلیف ہے، انہوں نے حق گوئی سے کام لیتے ہوئے کہا کہ مقامی ارکان اسمبلی کی مخالفت کے باعث حکومت میٹرو ریل پراجکٹ پر پرانے شہر میں عمل کرنے سے قاصر ہے۔ وزیر داخلہ کے اس انکشاف پر مقامی جماعت کے ارکان نے شدید اعتراض کیا۔ اسمبلی میں گریٹر حیدرآباد میں ترقیاتی سرگرمیوں پر مختصر مباحث کے دوران بی جے پی کے فلور لیڈر کشن ریڈی نے پرانے شہر میں میٹرو ریل پراجکٹ کا مسئلہ اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ پرانے شہر کی ترقی کو نظرانداز کردیا گیا ہے اور میٹرو ریل پراجکٹ کا کام بھی انتہائی سست رفتاری سے جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ابھی تک پرانے شہر میں میٹرو ریل کا کام شروع نہیں ہوا ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ طئے شدہ پلان کے مطابق پراجکٹ پر عمل کیا جائے تاکہ پرانے شہر کی ترقی ہو۔ کشن ریڈی نے کہا کہ پرانے شہر کے عوام کو بھی اسی طرح ترقی کا حق حاصل ہے جس طرح دیگر علاقوں کو ہے۔ اس مرحلہ پر وزیر داخلہ این نرسمہا ریڈی نے مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ پرانے شہر میں مقامی ارکان اسمبلی پراجکٹ کی مخالفت کررہے ہیں ایسے میں حکومت کیا کرسکتی ہے، کس طرح پراجکٹ پر عمل کیا جائے۔ کشن ریڈی نے کہا کہ میٹرو ریل پراجکٹ پرانے شہر کے عوام کی عین خواہش ہے لہذا حکومت کو منصوبہ کے مطابق ہی آگے بڑھنا چاہیئے۔ مقامی جماعت کے رکن احمد بلعلہ نے وزیر داخلہ  کے ریمارک پر اعتراض جتایا۔ انہوں نے کہا کہ عوام جانتے ہیں کہ بی جے پی پرانے شہر کے خلاف ہے لیکن آپ بھی بی جے پی کے سُر میں سُر ملارہے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ مجلس پرانے شہر میں میٹرو ریل پراجکٹ کی مخالف نہیں ہے۔ جس روٹ پر پراجکٹ کی تعمیر کا منصوبہ ہے وہ صرف 50 فیٹ کی سڑک ہے اور پراجکٹ کی تکمیل سے سارا علاقہ سلم علاقوں میں تبدیل ہوجائے گا اور سڑکیں صرف 10 فیٹ کی ہوکر رہ جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ اس روٹ پر کئی مذہبی عبادت گاہیں پراجکٹ کے سبب زد میں آسکتی ہیں۔ حکومت کو اگر اسی روٹ پر پراجکٹ کو آگے بڑھانا ہے تو اسے سڑک کو 150 فیٹ توسیع دینی چاہیئے یا پھر متبادل راستے کو اختیار کیا جائے۔ بی جے پی فلور لیڈر کشن ریڈی نے جواب دیا کہ ان کی پارٹی پرانے شہر کے خلاف نہیں رہی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ پرانے شہر کی پسماندگی کیلئے مجلس ذمہ دار ہے اور اس کے ایم پی، ارکان اسمبلی اور کارپوریٹرس کے سبب پرانا شہر پسماندگی کا شکار ہوا۔ وزیر انفارمیشن ٹکنالوجی کے ٹی راما راؤ جب ضمنی سوالات کا جواب دے رہے تھے تو انہوں نے پرانے شہر میں میٹرو ریل کے مسئلہ پر سڑکوں کی توسیع کے بعد عمل آوری کا تیقن دیا جس پر مقامی جماعت کے ارکان نے متبادل راستہ پر عمل آوری پر اصرار کیا۔ جس پر کے ٹی آر نے پراجکٹ پر عمل آوری کے وقت تجاویز کا جائزہ لینے اور مقامی عوامی نمائندوں کے تعاون سے مکمل کرنے کا تیقن دیا۔ اس طرح پرانے شہر میں میٹرو ریل پراجکٹ کے ذریعہ ترقی کا معاملہ پھر ایک بار کھٹائی میں پڑتا دکھائی دے رہا ہے۔

TOPPOPULARRECENT