Tuesday , October 17 2017
Home / مذہبی صفحہ / جمعہ کے خطبہ میں مکروہ امور

جمعہ کے خطبہ میں مکروہ امور

مرسل : ابوزہیر نظامی

(۱) خطیب کا منبر پر چڑھتے وقت لوگوں کو سلام کرنا ۔ (۲)بلاطہارت خطبہ پڑھنا ۔ (۳) بلاستر عورت خطبہ پڑھنا ۔ (۴) خطبہ بیٹھ کر پڑھنا (۵) دوسری اذان ختم ہونے سے پہلے خطبہ شروع کر دینا ۔(۶) صرف خطبہ اولی پر اکتفاء کرنا یا دو خطبوں کے درمیان کا جلسہ ترک کر دینا ۔ (۷) خطبہ کو اتنا طول دینا کہ طوال مفصل کے کسی سورہ سے بڑھ جائے یا بلا عذر اس قدر مختصر کرنا کہ تین آیتوں سے بھی کم ہو ۔ (۸) (خطیب کا) خطبہ پڑھنے کی حالت میں کلام کرنا ( البتہ کسی کو شرعی مسئلہ بتا دینا یا اشارے سے کسی بری بات کا منع کرنا جائز ہے ) ۔
(تنبیہ ) امور متذکرہ کے علاوہ خطبہ کی بقیہ سنتوں میں سے کسی ایک سنت کا خلاف کرنابھی مکروہ ہے ۔
(۷) ۔جب امام خطبہ کے ارادے سے منبر پر چڑھنے کے لئے اُٹھ کھڑا ہو اس وقت سے ختم خطبہ تک آپس میں بات چیت کرنا ‘ ذکر ‘ تسبیح یا نوافل پڑھنا سب منع ہے‘ البتہ صاحب ترتیب اپنی قضاء نماز پڑھ سکتا ہے ۔ اسی طرح جو شخص پہلے سے سنت پڑھ رہا ہو وہ اس کو اختصار کے ساتھ جلد تمام کرے۔ (۸) دونوں خطبوں کے درمیان بیٹھنے کی حالت میں خطیب یا قوم دل ہی دل میں دعاء مانگ لیں تو مضائقہ نہیں ۔ (۹) خطیب کا خطبہ ثانیہ میں کسی خاص دعاء کے موقع پر خصوصیت سے دائیں بائیں طرف منہ پھیرنا بدعت ہے ۔ (۱۰) الفاظ  ’’ اََللّٰھُمَّ اَعِزَّ الْاِسْلَامَ ‘‘ پر منبر سے اترنے پھر ’’ اَللّٰھُمَّ انْصُرْ‘‘ پر منبر پر چڑھنے کی کوئی اصلیت نہیں اس سے احتراز مناسب ہے ۔ (۱۱) امام کو خطبہ پڑھنے سے پہلے محراب کے اندر نماز پڑھنا مکروہ ہے ۔ (۱۲) خطیب کا بالغ ہونا شرط نہیں ۔ اگر نابالغ لڑکا بھی خطبہ پڑھ دے تو جائز ہے ۔ (بشرطیکہ نماز وہ نہ پڑھائے بلکہ بالغ آدمی پڑھائے)۔ (۱۳) بہتر یہ ہے کہ خطبہ اور نماز ایک ہی شخص پڑھائے ۔ (۱۴) اگر خطبہ اور نماز میں بہت فصل ہو جائے مثلاً امام خطبہ پڑھ کر مکان چلاجائے یاکھانا کھائے یا اور کوئی مانع نماز کام کر بیٹھے تو پھر خطبہ از سرنو پڑھاجائے ۔ (۱۵) اگر امام کو خطبہ پڑھنے کے بعد حدث ہوجائے تو اس کو چاہئے کہ ایسے شخص کو خلیفہ کرے جو خطبہ سننے میں شریک ہو ۔ (۱۶) رمضان کے اخیر جمعہ کے خطبے میں وداع و فراق رمضان کے مضامین پڑھنا حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ سے منقول نہیں نہ کتب فقہ میں کہیں اس کا ذکر ہے پس اس پر مداومت نہ کرے اور نہ اس کو ضروری سمجھے کہ کہیں عوام کو اس کے مسنون ہونے کا خیال نہ ہوجائے ۔
(نصاب اہل خدمات شرعیہ، حصہ پنجم)

TOPPOPULARRECENT