Tuesday , August 22 2017
Home / Top Stories / جموںو کشمیر مسئلہ پر راجناتھ سنگھ کی بات چیت

جموںو کشمیر مسئلہ پر راجناتھ سنگھ کی بات چیت

کشمیری پنڈتوں کی بازآبادکاری کیلئے وزیر دفاع منوہر پاریکر سے تبادلہ خیال
نئی دہلی ۔ /5 مئی (سیاست ڈاٹ کام) وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ کی زیرقیادت ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد کیا گیا جس میں کشمیری پنڈتوں کی بازآبادکاری کے بشمول جموں و کشمیر سے متعلق مختلف مسائل پر غور و خوص کیا گیا ۔ اس اجلاس میں لائین آف کنٹرول کی صورتحال کو قابو میں رکھنے اور فوج کی جانب سے حاصل کردہ شہری اراضی کو حوالے کرنے کے بارے میں بھی تبادلہ خیال کیا گیا ۔ اس اجلاس میں وزیر دفاع منوہر پاریکر گورنر جموں و کشمیر این این ووہرا اور قومی سلامتی کے مشیر اجیت کے دوویل بھی شریک تھے ۔ سرکاری ذرائع کے مطابق فوج نے جو اراضی حاصل کی تھی اسے واپس کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ چیف سکریٹری کے ساتھ ایک اور اجلاس منعقد کیا جائے گا جس میں اس تجویز پر غور و خوص کرکے اراضی واپس کردی جائے گی ۔ فوج نے بھی اصولی طور پر عمر عبداللہ حکومت کے دوران 139 ایکر اراضی حوالے کرنے سے اتفاق کیا تھا ۔ وزارت دفاع نے اس کا قطعی فیصلہ نہیں کیا ہے لیکن اب ریاستی حکومت کو یہ اراضی واپس کردی جائے گی ۔ ذرائع کے مطابق فوج نے گلمرگ کی اراضی کو باقاعدہ بنانے کیلئے زور دیا ہے ۔ اس کے عوض وہ ٹاٹو گراؤنڈ کی اراضی واپس کرے گی ۔ کشمیری پنڈتوں کی وادی میں بازآبادکاری کیلئے بھی اراضی کی نشاندہی کی جارہی ہے ۔

مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ کی آج سے کیرالا میں دو روزہ انتخابی مہم
نئی دہلی 5 مئی (سیاست ڈاٹ کام) مرکزی وزیرداخلہ راجناتھ سنگھ کیرالا میں کل سے دو دن تک مسلسل کئی انتخابی جلسوں سے خطاب کریں گے۔ راجناتھ سنگھ بی جے پی کے سینئر قائد ہیں۔ وہ پارٹی امیدواروں برائے چتنور اور کنتور (ضلع کولم)، اٹنگل، نیڈومنگڑ اور وٹی یوکاؤ (ضلع ترواننتھاپورم) کے امیدواروں کی تائید میں مہم چلائیں گے۔ 140 رکنی کیرالا اسمبلی کے لئے انتخابات 16 مئی کو مقرر ہیں۔ بی جے پی نے انتخابی مقابلہ میں 97 امیدوار کھڑا کئے ہیں۔ بی جے پی نے ایک 3 رکنی کمیٹی بھی قائم کی ہے جو کیرالا میں دلت خواتین پر بڑھتے ہوئے مظالم کا جائزہ لے گی جس کے ارکان متاثرین کے خاندانوں سے آئندہ دنوں میں ملاقاتیں کریں گے۔ قانون کی طالبہ دلت خاتون کی 28 اپریل کو کیرالا میں عصمت ریزی کی گئی تھی جس کی وجہ سے بی جے پی نے برسر اقتدار یو ڈی ایف پر سخت تنقید کی تھی۔ کیرالا میں بی جے پی آزادی کے بعد سے اب تک برسر اقتدار نہیں آسکی ہے۔ زیادہ تر اِس ریاست میں بائیں بازو کی پارٹی اپنے بل بوتے پر یا کانگریس یا مسلم لیگ کے ساتھ اتحاد کے ذریعہ مخلوط حکومت تشکیل دیتی رہی ہے۔

TOPPOPULARRECENT