Monday , August 21 2017
Home / Top Stories / جموں میں مندر کی بے حرمتی کیخلاف پرتشدد احتجاج

جموں میں مندر کی بے حرمتی کیخلاف پرتشدد احتجاج

سینکڑوں گاڑیاں نذر آتش اور پولیس پر سنگباری سے صورتحال کشیدہ

جموں 15 جون (سیاست ڈاٹ کام) شہر جموں میں ایک قدیم مندر کی بے حرمتی کے خلاف آج مظاہروں کے دوران تشدد کے واقعات پیش آئے جبکہ موبائیل انٹرنیٹ سرویس مسدود اور کسی بھی ناخوشگوار واقعہ کی روک تھام کے لئے پولیس کی بھاری جمعیت کو متعین کردیا گیا ہے۔ جموں کے ڈپٹی کمشنر سمرن دیپ سنگھ نے بتایا کہ مقامی لوگوں کے احتجاج کے دوران بعض واقعات پیش آئے لیکن مجموعی صورتحال پرامن ہیں۔ تاہم کشیدہ صورتحال کے پیش نظر پولیس کی بھاری جمعیت طلب کرلی گئی۔ جموں کے علاقہ روپ نگر میں کل ایک ذہنی طور پر منتشر شخص نے قدیم مندر کی بے حرمتی کی تھی جس پر شہر میں احتجاجی مظاہرے کئے گئے تھے۔ انھوں نے بتایا کہ موبائیل انٹرنیٹ سرویس کو عارضی طور پر معطل کردیا گیا لیکن شہر کے کسی بھی علاقہ میں کرفیو یا امتناعی احکامات نافذ نہیں کئے گئے ہیں۔ مسٹر سنگھ نے کہاکہ کشیدہ صورتحال صرف ایک علاقہ تک محدود ہے جس کے پیش نظر کرفیو یا دفعہ 144 نافذ کرنے کی چنداں ضرورت نہیں ہے اور پولیس کے اعلیٰ عہدیدار حالات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ ڈائرکٹر جنرل پولیس نے بتایا کہ مندر کو نقصان پہنچانے کے الزام میں ایک شخص کو گرفتار کرکے ایک کیس درج کرلیا گیا ہے اور پرتشدد واقعات کی روک تھام میں ناکامی پر ایک پولیس عہدیدار کو بھی معطل کردیا گیا ہے۔ انھوں نے عوام سے پرامن رہنے کی اپیل کرتے ہوئے کہاکہ کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ واضح رہے کہ کل شب مندر کی بے حرمتی کی خبر پھیلتے ہی احتجاجیوں نے 3 گاڑیوں کو نذر آتش اور پولیس پر سنگباری کردی تھی

جس کے بعد عصری پولیس دستوں کو کشیدہ علاقہ میں متعین کردیا گیا ہے۔ دریں اثناء ریاستی اسمبلی میں بی جے پی نے یہ مسئلہ اٹھاتے ہوئے ہنگامہ برپا کردیا۔ پارٹی کے رکن اسمبلی رویندر رینا نے بتایا کہ یہ ایک سنگین معاملہ ہے۔ بعض غیر سماجی عناصر نے یہ گھناؤنی حرکت کی ہے اور جموں کی صورتحال ابتر ہوگئی ہے۔ حکومت کو اس خصوص میں بیان دینا چاہئے۔ اگرچیکہ نیشنل کانفرنس کے الطاف احمد کلو اور آزاد رکن اسمبلی شیخ عبدالرشید نے اس مطالبہ کی تائید کی لیکن علاقہ پہلگام میں 4 نوجوانوں کی گرفتاری پر اعتراض کیا اور دریافت کیا کہ ان کا قصور کیا ہے؟ جس پر بی جے پی ارکان کے ساتھ بحث و تکرار ہوگئی۔ تاہم سی پی ایم کے رکن اسمبلی محمد یوسف تریگامی نے مدافعت کرتے ہوئے کہاکہ پورے ایوان کو اس واقعہ کی مذمت کرنی چاہئے اور یہ اپیل کی کہ اخوت اور بھائی چارہ کو برقرار رکھا جائے اور ریاست کو مذہبی خطوط پر تقسیم نہ کیا جائے۔ قبل ازیں وزیر قانون عبدالحق خاں نے اس مسئلہ پر بیان دیتے ہوئے بتایا کہ روپ نگر پولیس اسٹیشن سے موصولہ اطلاعات کے مطابق ایک ذہنی طور پر پریشان شخص یاسر متوطن دوڈا نے مندر کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی تھی۔ اگرچیکہ پولیس نے ملزم کو گرفتار کرلیا لیکن مندر کے پجاری اور بعض مقامی لوگوں نے اُسے چھڑا لیا اور پولیس اسٹیشن کے باہر مقامی لوگوں نے احتجاج کرتے ہوئے متعدد گاڑیوں بشمول 2 پولیس بسوں کو آگ لگادی اور سنگباری میں 3 پولیس ملازمین بشمول ایس ایچ او زخمی ہوگئے۔ پولیس نے حالات پر قابو پانے کے لئے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا استعمال کیا۔

TOPPOPULARRECENT