Tuesday , September 26 2017
Home / ہندوستان / جموں وکشمیر میں بے چینی ختم کرنے کا طریقہ کار خطرناک

جموں وکشمیر میں بے چینی ختم کرنے کا طریقہ کار خطرناک

سرینگر ، 7نومبر (سیاست ڈاٹ کام) نیشنل کانفرنس نے جموں وکشمیر کی موجودہ مخلوط حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا ہے کہ وادی میں جاری بے چینی کو ختم کرنے کے لئے جو طریقہ کار اختیار کیا گیا ہے وہ قابل تشویش اور قابل افسوس ہے ۔ پارٹی کے صوبائی سطح کے ایک اجلاس میں صوبائی صدر ناصر اسلم وانی نے کہا کہ رات کی تاریکی میں چھاپہ مار کارروائیاں اور آبادیوں میں گھس کر مکانوں کی توڑ پھوڑ اور مکینوں کی مارپیٹ اب روز کا معمول بن کر رہ گیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہزاروں کو گرفتار کرنا اور سینکڑوں پر سیفٹی ایکٹ کا اطلاق عمل کر اگر ایسا سمجھا جارہا ہے کہ اس سے حالات ٹھیک ہوں گے تو یہ اُمید وقتی ہوسکتی ہے ۔ناصر اسلم وانی نے 121دنوں میں 10000ہزار سے زائد شہریوں کی گرفتاری ،ہزاروں نوجوانوں کو 2300کیسوں میں پھنسایا گیا اور 800نوجوانوں پر پبلک سیفٹی ایکٹ کے اطلاق کو پی ڈی پی کا بدلاؤ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ محبوبہ مفتی بحیثیت وزیر اعلیٰ 1990میں قائم کئے گئے مظالم کے اُن ریکارڈوں کو ایک ایک کرکے توڑ رہی ہے جو موصوفہ کے والد مرحوم نے بحیثیت مرکزی ہوم منسٹر اپنے ساجھی دار اور اُس وقت کے ریاستی گورنر جگموہن کے ہاتھوں کشمیریوں پر ڈھائے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ اقتدار میں بنے رہنا پی ڈی پی کا واحد مقصد رہ گیا ہے اور اس جماعت کے خودساختہ لیڈران اب ناگپور اور آر ایس ایس کے ڈکٹیشن پر کام کررہے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT