Friday , June 23 2017
Home / Top Stories / جموں وکشمیر میں گاؤ رکھشکوں کا حملہ،9 سالہ لڑکی سمیت ایک فیملی کے پانچ افراد زخمی

جموں وکشمیر میں گاؤ رکھشکوں کا حملہ،9 سالہ لڑکی سمیت ایک فیملی کے پانچ افراد زخمی

واحد مسلم اکثریتی ریاست میں اپنی نوعیت کا پہلا حملہ، گاؤ رکھشکوں نے متاثرہ خاندان کو مار پیٹ کر مویشی ہتھیا لئے
جموں22اپریل (سیاست ڈاٹ کام) جموں وکشمیر کے ضلع ریاسی میں مبینہ گاؤ رکھشکوں کے حملے میں ایک 9 سالہ بچی سمیت ایک خانہ بدوش گوجر بکروال کنبے کے پانچ افراد زخمی ہوگئے ہیں۔ یہ ہندوستان کی اس واحد مسلم اکثریتی ریاست میں گاؤ رکھشکوں کی جانب سے کسی شخص یا کنبے پر پہلا بڑا حملہ ہے ۔ ایک رپورٹ کے مطابق گاؤ رکھشکوں نے خانہ بدوش گوجر بکروال خاندان پر گذشتہ شام تلوارا علاقہ میں اُس وقت حملہ کیا جب وہ اپنے مال مویشی کو لیکر کہیں جارہے تھے ۔ خانہ بدوش کنبہ کے مال مویشیوں کے ریوڑ میں بکریوں اور بھیڑوں کے علاوہ 16 گائیں بھی شامل تھیں۔ گاؤ رکھشکوں کے ایک گروپ نے اس کنبے کا راستہ روکتے ہوئے ان پر لوہے کی سلاخوںسے حملہ کیا۔ سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) ریاسی طاہر سجاد بٹ کا واقعہ پر کہنا ہے کہ ہم نے معاملے میں ایف آئی آر درج کرکے کاروائی شروع کردی ہے ۔ سیکورٹی ذرائع نے بتایا کہ اگرچہ کچھ حملہ آوروں کی شناخت کرلی گئی ہے ، تاہم ابھی تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں لائی گئی ہے ۔ حملہ آوروں کے ساتھ کوئی نرمی نہیں برتی جائے گی۔ ذرائع نے بتایا کہ زخمیوں کو علاج ومعالجہ کے لئے قریبی اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے ۔ زخمیوں میں ایک 9سالہ بچی بھی شامل ہے ۔ حملہ آور گاؤ رکھشکوں نے نہ صرف خانہ بدوش گوجر بکروال کنبے کو شدید زدوکوب کا نشانہ بنایا ہے بلکہ مال مویشیوں بشمول بکریوں، بھیڑوں اور گایوں کو اپنے ساتھ لے گئے ہیں۔ متاثرہ کنبے کی ایک عورت نے نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا انہوں (گاؤ رکھشکوں ) نے بہت حملہ کیا ہم پر وہ دن بھر اپنی گاڑیاں سڑک پر گھماتے رہے ۔ وہ ہمیں اپنے ساتھ لے کر جانے کی تیاریاں کررہے تھے ۔ وہ ہماری عزتوں پر بھی حملہ کررہے تھے ۔ ہم نے بھاگ کر اپنے آپ کو بچانے میں ہی عافیت سمجھی۔ ایک اور خاتون نے کہا کہ وہ ہمارے مال مویشی کو لوٹ کر لے گئے ۔

انہوں نے پالتو کتوں کو بھی نہیں چھوڑا۔ این ڈی ٹی وی ڈاٹ کام نے ریاستی پولیس سربراہ ڈاکٹر ایس پی وید کے حوالے سے کہا ہے کہ ہم نے ایف آئی آر درج کرلی ہے ۔ میں نے ڈی آئی جی ادھم پور رینج سے کہا ہے کہ وہ مذکورہ علاقے کا دورہ کریں ۔ ان غنڈوں کے خلاف سخت کاروائی کی جائے گی۔ رپورٹ میں ایک متاثرہ عورت کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ ہم یہ خوفناک حملہ کبھی نہیں بھول پائیں گے ۔ انہوں نے ہمیں بے رحمی سے پیٹا۔ ہم کسی طرح وہاں سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے ۔ ہمارا ایک دس سالہ لڑکا لاپتہ ہے ۔ ہم نہیں جانتے کہ وہ زندہ ہے یا نہیں۔ وہ ہمیں مار کر ہماری لاشوں کو دریا میں پھینکنا چاہتے تھے ۔مرکز میں بی جے پی زیرقیادت حکومت کی تشکیل کے بعد سے گاؤ رکھشکوں کی سرگرمیاں ملک بھر میں بالخصوص زعفرانی حکمرانی والی ریاستوں میں بڑھ گئی ہیں اور اب تک یہ راجستھان ، گجرات، مدھیہ پردیش، اترپردیش وغیرہ تک محدود تھی لیکن اب جموں و کشمیر میں جہاں بی جے پی مخلوط حکومت کی شراکت دار ہے ، اس طرح کا حملہ لمحہ فکر ہے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT