Friday , August 18 2017
Home / سیاسیات / جموں و کشمیر اسمبلی میں اپوزیشن اور حکمراں جماعت میں جھڑپ

جموں و کشمیر اسمبلی میں اپوزیشن اور حکمراں جماعت میں جھڑپ

شہریوں کی ہلاکتوں کی عدالتی تحقیقات کے مطالبہ پر احتجاج
جموں ۔9 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) جموں و کشمیر اسمبلی میں آج نیشنل کانفرنس کا بی جے پی ارکان میں زبردست جھڑپ ہوگئی جب گزشتہ سال کشمیر میں بدامنی اور تشدد کی لہر کے دوران شہریوں کی ہلاکت کی مقررہ وقت میں عدالتی تحقیقات کے مطالبہ پر اپوزیشن نے احتجاج کیا اگرچہ کہ چیف منسٹر محبوبہ مفتی نے یہ اعلان کیا کہ ریاستی حکومت تمام اضلاع میں ہلاکتوں کی وقت مقررہ میں تحقیقات کے لیے خصوصی تحقیقاتی ٹیمیں تشکیل دے گی۔ لیکن نیشنل کانفرنس کے رکن اسمبلی محمد اکبر نے مداخلت کرتے ہوئے اس معاملہ کی عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ اس مطالبہ کی تائید کانگریس کے جی ایم سروری اور آزاد رکن حکیم یٰسین نے کی اور کہا کہ حکومت کو چاہئے کہ مبینہ ہلاکتوں کے واقعات تحقیقات کے لیے جوڈیشیل کمیشن قائم کیا جائے۔ نیشنل کانفرنس رکن علی محمد ساگر نے کہا کہ جس طرح عمر عبداللہ نے سال 2010ء میں ہلاکتوں کی ذمہ داری قبول کی تھی محبوبہ مفتی کو تقلیہ کرنی چاہئے لیکن وہ پردہ پوشی کی کوشش کررہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ کمیشن سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج کی قیادت میں قائم کیا جائے تاہم حکومت نے عدالتی تحقیقاتی کے لیے اپوزیشن کے مطالبہ کو مسترد کردیا اپوزیشن جماعتوں نے ایوان کے وسطھ میں کاغذات پھینک دینے اور حکومت مخالف نعرے بلند کرنے لگے۔ دریں اثناء بی ج پی اور نیشنل کانفرنس ارکان کے درمیان دھینگامشتی اس وقت شروع ہوئی یہ ایوان کے وسط میں احتجاج کرنے والے ارکان کو مارشل اور نگرانکار عملہ نے گھیر لیا۔ کانگریس مقننہ پارٹی لیڈر نورنگ ریگزن جورا نے کہا کہ مفتی کو گزشتہ سال کی ہلاکتوں کی ذمہ داری قبول کرلینی چاہئے جیسا کہ 2010ء میں عمر عبداللہ نے کیا تھا لیکن وہ بزدل ہے جس کے باعث عدالتی تحقیقات سے گھبرارہی ہے۔ دریں اثناء نیشنل کانفرنس کے بعض ارکان بی جے پی ایم ایل اے رویندر رائنا کے قریب پہنچ کر ان کا مائیک چھین لیا جب وہ گورنر کے خطبہ پر اظہار خیال کرنے لگے جس کے ساتھ دونوں جماعتوں کے ارکان کے درمیان دھکم پیل اور کھینچا تانی ہوگئی۔ ایوان کی کارروائی میں رخنہ پیدا کرنے پر مارشلس نے نیشنل کانفرنس رکن عبداللہ مجیب بھٹ کو اٹھاکر باہر کردیا۔

TOPPOPULARRECENT